أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلِلّٰهِ غَيۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَمَاۤ اَمۡرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمۡحِ الۡبَصَرِ اَوۡ هُوَ اَقۡرَبُ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

اور آسمانوں اور زمینوں کا (سب) غیب (کا علم) اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے، اور قیامت کا وقوع صرف پلک جھپکنے میں یا اس سے بھی جلد ہوگا، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آسمانوں اور زمینوں کا (سب) غیب (کا علم) اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے، اور قیامت کا وقوع صرف پلک جھپکنے میں یا اس سے بھی جلد ہوگا، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے پیدا کیا اس وقت تم کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور اس نے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے دل بنائے، تاکہ تم (اللہ کا) شکر ادا کرو۔ کیا ان لوگوں نے آسمان کی فضا میں پرندے نہیں دیکھے جو اللہ کے نظام کے تابع ہیں، انہیں اللہ کے سوا کوئی گرنے سے) نہیں روکتا، بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔ (النحل : ٧٩۔ ٧٧)

مشکل الفاظ کے معانی :

وللہ غیب السموات والارض : یعنی آسمانوں اور زمینوں میں جو چیزیں حواس سے غائب ہیں ور بغیر غور و فکر کے جن کا علم حاصل نہیں ہوسکتا ان تمام غیوبات کا بذاتہ علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، ایک معنی یہ بھی ہے کہ قیامت کا علم بذاتہ اللہ تعالیٰ کے خواص میں سے ہے۔

الساعۃ : یعنی قیامت کے وقوع کا وقت اس کا ساعت اس لیے کہتے ہیں کہ یہ اچانک ایک ساعت میں واقع ہوگی اور ایک گرج دار آواز سے آن واحد میں تمام مخلوق فنا ہوئے گی۔

لمح البصر، اللمح کا معنی ہے سرعت سے کسی چیز کو دیکھنا اور لمح البصر کا معنی ہے پلک جھپکنا۔

او ھو اقرب : پلک جھپکنے سے بھی قریب تر یعنی اس سے بھی جلدی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جب کسی کام کو کرتا ہوتا ہے تو وہ اس کام کے لیے صرف کن فرماتا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کا واقع کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قدر سہل اور سریع ہے جیسے ہمارے لیے پلک جھپکنا بلکہ اس سے بھی زیادہ سہل اور سریع۔

مسخرات فی جو السماء : جو کے معنی ہیں آسمان اور زمین کے درمیان فضا، تسخیر کے معنی ہیں بغیر اجرت کے کسی کو کسی کام کا مکلف کرنا، بیگار لینا، کسی کو مغلوب اور ذلیل کرنا (مختار الصحاح ص ١٧٩) یہاں مراد ہے اللہ تعالیٰ کا کسی کو اپنے بنائے ہوئے نظام کے تحت چلانا۔ یعنی اللہ نے پرندوں کی طبیعت میں جو فضا میں اڑنے کا نظام و دیعت کردیا ہے وہ اس فطری نظام کے تحت فضا میں اڑتے ہیں وہ اس فطری صلاحیت کے تحت فضا میں پر پھیلاتے ہیں اور سکیڑتے ہیں اور جس وقت وہ فضا میں اڑ رہے ہوتے ہیں تو ان کو زمین پر گرنے سے اللہ کے سوا کوئی روکنے والا نہیں۔

اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت کی وسعت پر دلائل :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے عاجز اور گونگے شخص کے ساتھ بتوں کی مثال دی کو ین کہ وہ بول سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں نہ کسی کے کام آسکتے ہیں، اور اپنی مثال اس شخص کے ساتھ دی جو راہ راست پر ہو اور نیکی کا حکم دیتا ہو، اور ایسا شخص وہی ہوسکتا ہے جس کا علم بھی کامل ہو اور جس کی قدرت بھی کامل ہو تو ان آیتوں میں سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال علم پر دلیل قائم کی اور ودسری آیت میں اپنے کمال قدرت پر دلیل قائم فرمائی، کمال علم کی دلیل یہ ہے کہ وہ تمام آسمانوں اور زمینوں کے غیب کا جاننے والا ہے اور کمال قدرت پر دلیل یہ ہے کہ وہ پلک جھپکنے سے بھی پہلے قیامت کو قائم کردے گا اور تمام دنیا کو فنا کردے گا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تمام آسمانوں اور زمینوں کے غیب کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، لیکن اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اپنے غیب میں سے جتنا چاہے اس پر مطلع فرماتا ہے۔ جیسا کہ ان آیات میں ہے :

وماکان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء۔ (آل عمران : ١٧٩) اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ وہ تم (عام) لوگوں کو اپنے غیب پر مطلع فمائے البتہ (غیب پر مطلع فرمانے کے لیے) جن کو چاہتا ہے منتخب فرما لیتا ہے اور وہ اللہ کے (سب) رسول ہیں۔

علم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا۔ الا من ارتضی من رسول۔ (الجن : ٢٦، ٢٧) وہ عالم الغیب ہے وہ اپنے غیب کو کسی پر ظاہر نہیں فرماتا سو ان کے جن کو اس نے پسند فرما لیا (اور) وہ اللہ کے (سب) رسول ہیں۔

انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ تعالیٰ بلا واسطہ غیب پر مطلع فرماتا ہے اور اولیاء کرام کو ان کے واسطے سے غیب پر مطلع فرماتا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کو جو غیب کا علم عطا فرماتا ہے وہ ان کا معجزہ ہے، اور الیاء کرام کو جو غیب پر مطلع فرماتا ہے وہ ان کی کرامت ہے۔ معتزلہ اولیاء اللہ کی کرامت کے منکر تھے، اس لیے وہ ان کے لیے علم غیب نہیں مانتے تھے اور اہل سنت اولیائے کرام کے غیب پر مطلع ہونے کے قائل ہیں۔

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ چیزوں کو حلال یا حرام کرنا صرف اس کا منصب ہے جو تمام چیزوں کی حقیقتوں، ان کے خواص، ان کے لوازم اور عوارض اور ان کی تاثیرات کو جاننے والا ہو اور چونکہ تمام آسمانوں اور زمینوں کے غیوب کو جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے چیزوں کو حلال اور حرام کرنا بھی صرف اسی کو زیب دیتا ہے، اور مشرکین کا اپنی ہوائے نفس سے بعض چیزوں کو حلال اور بعض چیزوں کو حرام کہنا محض غلط اور باطل ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت پر دلیل قائم کی اور فرمایا : ان اللہ علی کل شیء قدیر، یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ پلک جھپکنے سے پہلے تمام دنیا کو فنا کردے گا اور قیامت کو واقع کردے گا۔

اللہ تعالیٰ کی بندوں پر نعمتیں اور ان کا شکر ادا کرنے کے طریقے :

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے مزید مظاہر کا ذکر فرمایا اور انسان پر اپنی نعمتوں کو گنوایا کہ اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے پیدا کیا ہے، اس وقت تم کو کسی چیز کا علم نہیں تھا، انسان اپنی پیدائش کے وقت اشیاء کی معرفت سے خالی تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو عقل عطا فرمائی جس سے اس نے چیزوں کو پہچانا اور اس کو خیر اور شر اور نفع اور نقصان کی تمیز حاصل ہوئی۔ اس نے اپنے کانوں سے مختلف آوازوں کو سنا اور لوگوں سے سن سن کر اس کو بہت سی چیزوں کا علم حاصل ہوا، اللہ تعالیٰ نے اس کو آنکھیں عطا کیں جس سے اس نے لوگوں کو اور چیزوں کو دیکھا پھر کانوں اور آنکھوں کی مدد سے اس کو کتابوں کا علم حاصل ہوا پھر اس کو دل اور دماغ عطا کیے جس سے اس نے حقائق اشیاء میں غور کیا اور اس پر سوچ بچار کی رہیں کھلیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

قل ھو الذی انشاکم وجعل لکم السمع والابصار والافئدۃ، قلیلا ما تشکرون۔ قل ھو الذی ذراکم فی الارض والیہ تحشرون۔ (الملک : ٢٣، ٢٤) آپ کہیے وہی (اللہ) ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور تمہارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے، تم لوگ بہت کم شکر کرتے ہو۔ آپ کہیے وہی ہے جس نے تم کو زمین پر پھیلا دیا اور اسی کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے۔ 

اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کے شکر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے کانوں سے ان ہی چیزوں اور ان ہی آوازوں کو سنے جن کے سننے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جن کے سننے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور ان باتوں اور ان کی آوازوں کو نہ سنے جن کے سننے اللہ تعالیٰ ناخوش اور ناراض ہوتا ہے۔ مثلا جن مجلسوں میں اللہ عزوجل اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مذاق اڑایا جاتا ہے، اسلام پر پھبتیاں کسی جاتی ہیں یا احکام شرعیہ کی مخالفت کی جاتی ہے، عورت کی آدھی گواہی اور اس کی عقل کی کمی کا رد کیا جاتا ہے، عورت کے پردہ کو اس کی آزادی کے خلاف قرار دیا جاتا ہے، دوسری شادی کی اجازت کو ظلم سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فضائل و مناقب میں کمی کی جاتی ہے اور آپ کی تعظیم و تکریم کے مظاہر کو ناجائز کہا جاتا ہے۔ آپ کے اصحاب اور اہل بیت کی توہین کی جاتی ہے، اسی طرح لہو ولعب کی باتیں، میوزک، فسق و فجور پر مبنی ڈائیلاگ اور فلمی گانے سنے سنائے جاتے ہیں سو ایسی مجلسوں میں نہ بیٹھا جائے اور ایسی باتیں نہ سنی جائیں۔ قرآن عظیم میں ہے :

اذا سمعتم ایت اللہ یکفر بھا ویسھزا بھا فلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم۔ (النساء : ١٤٠) جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا استہزا کیا جارہا ہے تو ان کی مجلس میں نہ بیٹھو، حتی کہ وہ دوسری باتوں میں مشغول ہوجائیں ورنہ تمہارا شمار بھی ان ہی لوگوں میں ہوگا۔

فذرھم یخوضوا ویلعبوا حتی یلقوا یومھم الذی یوعون۔ (المعارج : ٤٢) آپ ان کو ان کی بےہودہ باتوں اور کھیل تماشوں میں چھوڑ دیجیے حتی کہ وہ اس دن سے آملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔

قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون۔ (الانعام : ٩١) آپ کہیے اللہ پھر ان کو چھوڑ دیجیے کہ وہ اپنی کج بحثی میں کھلیتے رہیں۔

غرض انسان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کانوں کی جو نعمت دی ہے وہ اس کی ناشکری نہ کرے اور اسلام کے خلاف کی جانے والی باتوں اور کھیل تماشوں اور راگ و رنگ اور یاد الہی سے غافل کرنے والی باتوں کو نہ سنے، اور کانوں کی نعمت کا شکریہ ہے کہ وہ قرآن اور حدیث کو سنے، اللہ تعالیٰ کی حمد اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نعت پر مشتمل مضامین سنے، حکمت کی باتوں کو سنے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام کو رغب اور قبول کرنے کی نیت سے سنے اور اپنی اپنے اہل و عیال اور ملک و ملت کی بہترین کی تجاویز اور مشوروں کو سنے اور ہر اچھی اور نیک بات کو ن سے۔

اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی جو نعمت عطا فرمائی ہے اس کا شکر ادا کرنے کا بھی یہی طریقہ ہے، آنکھوں سے ان ہی چیزوں کو دیکھے جن کا دیکھنا جائز اور مستحسن ہے۔ مثلا قرآن کریم کو دیکھے، خانہ کعبہ کو دیکھے، ماں باپ کے چہرے کو محبت سے دیکھے، اپنی اولاد کو شفقت کی نگاہ سے دیکھے اور ہر اس چیز کو دیکھے جس کا دیکھنا جائز ہے، اور آنکھوں کی ناشکری نہ کرے کہ جن چیزوں کو دیکھنے سے منع کیا ہے ان کو دیکھے، پرائی اور اجنبی عورتوں کو نہ دیکھے جو چیزیں اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرتی ہیں ان کو نہ دیکھے۔

قرآن مجید اور احادیث میں جہاں دل کا ذکر ہوتا ہے اس سے مراد دماغ ہوتا ہے، کیونکہ عرف میں دماغ اور ذہن پر دل کا اطلاق کیا جاتا ہے اور ذہن اور دماغ کے شکر کا طریقہ یہ ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پر جو دلائل ہیں ان میں غور و فکر کرے، تبلیغ اسلام کے لیے تدبیریں سوچے، اپنے گھر، محلہ اور اپنے ملک میں اسلام کے احکام پر عمل کرانے کے طریقوں پر غور کرے اور اسی طرح اپنی ذات، اپنے محلہ اور ملک و ملت کی فلاح کے پروگرام بنائے، اور ذہن اور دماغ کی ناشکری یہ ہے کہ وہ چوری، ڈکیتی، قتل و غارت اور دہشت گردی کے منصوبے بنائے اور اپنی ذہنی صلاحیتوں کو منفی سرگرمیوں میں صرف کرے، جھوٹے قصے کہانیاں، دیو مالائی افسانے اور فحش لٹریچر تیار کرنے کے لیے سوچ بچار اور غور وفکر کرے۔

اسی طرح ہاتھوں کا شکر یہ ہے کہ ہاتھوں سے صرف نیک کام کرے، برے کام نہ کرے، اور پیروں کا شکر یہ ہے کہ پیروں سے نیک اور جائز مقامات پر اور نیک اور جائز کاموں کے لیے چل کر جائے اور ہاتھوں اور پیروں کی ناشکری یہ ہے کہ وہ ہاتھوں سے برے کام کرے اور پیروں سے بری جگہ اور برے کام کرنے کے لیے جائے۔

پرندوں کی پرواز سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر استدلال :

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کیا ان لوگوں نے آسمان کی فضا میں پرندے نہیں دیکھے جو اللہ کے نظام کے تابع ہیں، انہیں (دوران پرواز) گرنے سے اللہ کے سوا کوئی نہیں روکتا، بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لیے ضرور نشانیاں ہیں۔

یعنی جب پرندے آسمان اور زمین کے درمیان فضا میں پرواز کر رہے ہوتے ہیں تو وہ کس طرح اپنے بازو پھیلا کر ہوا میں اڑ جاتے ہیں، ان پرندوں میں کس نے ایسی طاقت رکھی ہے جو انہیں اڑا کر ہوا میں لے جاتی ہے اور ثقیل جسم کا طبعی تقاضا یہ ہے کہ وہ زمین کی کشش سے فورا بلندی سے نیچے گرجاتا ہے تو وہ دوران پرواز ان پر ندوں کو فضا میں کون قائم رکھتا ہے، اور نیچے گرنے سے کون روکتا ہے۔ کیا پتھر کے بنائے ہوئے یہ بت ان پرندوں کو اڑاتے ہیں اور ان کو دوران پرواز گرنے سے روکے رکھتے ہیں ؟ جب یہ بت نہیں تراشتے گئے تھے جب بھی پرندوں کے اڑنے اور فضا میں قائم رہنے کا یہی نظام تھا، اس لیے بت ان کے خالق نہیں ہوسکتے، کیا سورج یا چاند اس نظام کے خالق ہیں ؟ رات کو جب سورج نہیں ہوتا تب بھی پرندوں کی پرواز کا یہی نظام ہوتا ہے اور دن کو جب چاند نہیں وہتا اس وقت بھی پرندے اسی طرح پرواز کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سورج یا چاند اس نظام کے خالق نہیں ہیں۔ حضرت عیسیٰ یا حضرت عزیر بھی اس نظام کے خالق نہیں ہیں کیونکہ جب حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر پیدا نہیں ہوتے، اس وقت بھی پرندوں کی پرواز کا نظام اسی طرح جاری تھا اور ان کے بعد بھی یہ نظام اسی طرح جاری ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا جس جس کی بھی پرستش کی گئی ہے اور اس کو خدا مانا گیا ہے ان میں سے کوئی بھی پرندوں کی پرواز کے اس طبعی نظام کا خالق نہیں ہے۔ وہی واحد لا شریک اس نظام کا خالق ہے اور اس کے سوا کسی کا یہ دعوی نہیں ہے کہ وہ اس نظام کا خالق ہے اور نہ اللہ کے سوا کسی اور نے کوئی کتاب نازل کی نہ کوئی رسول بھیجا جو یہ پیغام لایا ہو کہ اللہ کے علاوہ میں اس نظام کا خالق ہوں یا اس نظام کے بنانے میں، میں بھی اس کا شریک ہوں، تو پھر ہم کیوں نہ مانیں کہ وہی واحد لاشریک پرندوں کی اس پرواز کے نظام کا خالق ہے، اس کے سوا اور کوئی خالق نہیں ہے اور نہ اس کا کوئی شریک ہے، جبکہ اس نظام کی وحدت اور یکسانیت بھی یہ بتاتی ہے کہ اس نظام کا خالق واحد اور جب پرندوں کے اس نظام کا وہی واحد لاشریک خالق ہے تو کا ئانت کے باقی نظاموں کا بھی وہی خالق ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 77