أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَنۡزَلۡنَا عَلَيۡكَ الۡـكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِى اخۡتَلَـفُوۡا فِيۡهِ‌ۙ وَهُدًى وَّرَحۡمَةً لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے آپ پر یہ کتاب صرف اس لیے نازل کی ہے تاکہ آپ اس چیز کو صاف بیان کردیں جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں اور (یہ کتاب) مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے آپ پر یہ کتاب صرف اس لیے نازل کی ہے تاکہ آپ اس چیز کو صاف بیان کردیں جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں اور (یہ کتاب) مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ (النحل : ٦٤ )

کفار کے مختلف نظریات کا بطلان :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے وعید شدید بیان کی تھی اور اس آیت میں ان پر ایک بار پھر حجت قائم کی ہے اور ان کے شبہات کو زائل کیا ہے۔

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ بعثت میں لوگ مخٹلف دینوں اور ملتوں کے پیروکار تھے، اور لوگوں نے اپنی خواہشوں سے مختلف دین گھڑ لیے تھے، یہودی حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہتے تھے، عیسائی حضرت عیسیٰ کو خدا کا بیٹا کہتے تھے، کفار مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے، بعض مشرکین بتوں کی پرستش کرتے تھے اور ان کو اللہ کی بارگاہ میں سفارشی کہتے ہیں، بعض قیامت کا انکار کرتے تھے اور بعض مشرکوں نے خود ساختہ احکام بنا رکھے تھے وہ حرام کو حلال اور حلال کو حرام کہتے تھے، کیونکہ وہ مردار جانور کو حلال کہتے تھے اور جن حلال جانوروں کو وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے انکو حرام کہتے تھے، ان مختلف نظریات میں وہ ایک دوسرے سے بحث کرتے تھے اور جھگڑتے تھے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے آپ پر یہ کتاب صرف اس لیے نازل کی ہے تاکہ آپ اس چیز کو صاف بیان کردیں جن میں یہ جھگڑتے ہیں، سو آپ نے قرآن مجید کی روشنی میں ان کو صاف بتادیا کہ اللہ کا کوئی بیٹا ہے نہ بیٹٰ ہے، نہ اس کی بیوی ہے نہ اولاد ہے، بت پرستی کی مذمت کی اور قیامت کے وجود پر دلائل قائم کیے اور بتایا کہ جس جانور کو اللہ کے نام پر زبح کہ کیا گیا ہو حرام ہے، اور بتوں کے نام پر چھوڑ دینے سے یا کان چیر دینے سے یا مسلسل مادہ کو جنم دینے سے یا مخصوص تعداد میں مادہ کو گابھن کرنے سے کوئی حلال جانور حرام نہیں ہوتا۔

اس کے بعداللہ تعالیٰ نے فرمایا (یہ کتاب) مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ درحقیقت یہ کتاب تمام انسانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے لیکن انجام کار اس کی ہداتی اور رحمت سے صرف مومنین فائدہ اٹھاتے ہیں، اس لیے فرمایا یہ کتاب مومین کے لیے ہدیات اور رحمت ہے، اس کی نظیر یہ ہے کہ قرآن مجید کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ھدی للناس۔ البقرہ : ١٨٥) یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے، اور پھر فرمایا ھدی للمتقین۔ (البقرہ : ٢) یہ قرآن متقین کے لیے ہدایت ہے، یعنی فی نفسہ تو قرآن مجید تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے، لیکن چونکہ اس سے فائدہ صرف متقین حاصل کرتے ہیں اس لیے فرمایا یہ متقین کے لیے ہدایت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 64