حدیث نمبر 240

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پانچ رکعت پڑھ لی آپ سے عرض کیا گیا کیا نماز میں زیادتی کی گئی فرمایا کیا بات ہے عرض کیا آپ نے پانچ پڑھ لیں تو آپ نے سلام کے بعد دو سجدے کرلیے ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا تم جیسا بشر ہوں تمہاری طرح بھولتا ہوں ۲؎ جب میں بھول جایا کروں تو مجھے یاد دلادیا کرو جب تم میں سے کوئی نماز میں شک کرے تو درستی تلاش کرے اسی پر نماز پوری کرے پھر سلام پھیرے پھر دو سجدے کرے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب نماز کلام کرنے سے فاسد نہ ہوتی تھی،چونکہ اس سوال و جواب کے باوجود نماز باقی تھی لہذا سجدۂ سہو کرلیا اب ایسا نہیں ہوسکتا۔سَلَّمَ سے مراد وہی نماز کا سلام ہے جو نماز تمام کرنے کی نیت سے کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ اگر کسی نمازی کو سلام کے بعد اپنی بھول یاد آئے تو فورًا سجدۂ سہو میں گرجائے اور پھر التحیات پڑھ کر سلام پھیرے پہلا سلام سہو کا ہوجائے گا دوسرا نماز کا۔

۲؎ یہ لفظ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سجتا ہے ہم بشرکہہ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پکارسکتے رب فرماتا ہے:”لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ”الخ۔یہاں صرف بھولنےمیں تشبیہ ہے نہ کہ بھولنے کی نوعیت میں اپنی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھول کا فرق ہم ابھی عرض کرچکے ہیں۔

۳؎ یہ تلاش کا حکم اس صورت میں ہے جب کہ کسی جانب گمان غالب ہو اور اگر کوئی گمان غالب نہ ہو تو کم کو لے،لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں۔