وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ(۶۹)

اور بےشک ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس (ف۱۴۶) مژدہ لے کر آئے بولے سلام کہا (ف۱۴۷) سلام پھر کچھ دیر نہ کی کہ ایک بچھڑا بھنا لے آئے (ف۱۴۸)

(ف146)

سادہ رو نوجوانوں کی حسین شکلوں میں حضرت اسحق ، حضرت یعقوب علیہما السلام کی پیدائش کا ۔

(ف147)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ۔

(ف148)

مفسِّرین نے کہا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات بہت ہی مہمان نواز تھے بغیر مہمان کے کھانا تناول نہ فرماتے ۔ اس وقت ایسا اتفاق ہوا کہ پندرہ روز سے کوئی مہمان نہ آیا تھا آپ اس غم میں تھے ، ان مہمانوں کو دیکھتے ہی آ پ نے ان کے لئے کھانا لانے میں جلدی فرمائی چونکہ آ پ کے یہاں گائے بکثرت تھیں اس لئے بچھڑے کا بھنا ہوا گوشت سامنے لایا گیا ۔

فائدہ : اس سے معلوم ہوا کہ گائے کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و التسلیمات کے دستر خوان پر زیادہ آتا تھا اور آپ اس کو پسند فرماتے تھے ، گائے کا گوشت کھانے والے اگر سنّتِ ابراہیم ادا کرنے کی نیت کریں تو مزید ثواب پائیں ۔

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةًؕ-قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۰)

پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں پہنچتے ان کو اوپری(اجنبی)سمجھا اور جی ہی جی میں ان سے ڈرنے لگابولے ڈرئیے نہیں ہم قوم لوط کی طرف (ف۱۴۹) بھیجے گئے ہیں

(ف149)

عذاب کرنے کے لئے ۔

وَ امْرَاَتُهٗ قَآىٕمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَۙ-وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ(۷۱)

اور اس کی بی بی (ف۱۵۰) کھڑی تھی وہ ہنسنے لگی تو ہم نے اُسے (ف۱۵۱) اسحق کی خوشخبری دی اور اسحق کے پیچھے (ف۱۵۲) یعقوب کی (ف۱۵۳)

(ف150)

حضرت سارہ پسِ پردہ ۔

(ف151)

اس کے فرزند ۔

(ف152)

حضرت اسحٰق کے فرزند ۔

(ف153)

حضرت سارہ کو خوشخبری دینے کی وجہ یہ تھی کہ اولاد کی خوشی عورتوں کو مردوں سے زیادہ ہوتی ہے اور نیز یہ بھی سبب تھا کہ حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہ تھی اور حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ الصلٰوۃ و السلام موجود تھے ۔ اس بشارت کے ضمن میں ایک بشارت یہ بھی تھی کہ حضرت سارہ کی عمر اتنی دراز ہو گی کہ وہ پوتے کو بھی دیکھیں گی ۔

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًاؕ-اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ(۷۲)

بولی ہائے خرابی کیا میرے بچہ ہوگا اور میں بوڑھی ہوں (ف۱۵۴)اور یہ ہیں میرے شوہر بوڑھے (ف۱۵۵) بےشک یہ تو اَچَنْبھے(تعجب) کی بات ہے

(ف154)

میری عمر نوّے سے متجاوز ہو چکی ہے ۔

(ف155)

جن کی عمر ایک سو بیس سال کی ہو گئی ہے ۔

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِؕ-اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ(۷۳)

فرشتے بولے کیا اللہ کے کام کا اَچَنْبھا(تعجب) کرتی ہو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پراے اس گھر والو بےشک (ف۱۵۶) وہی ہے سب خوبیوں والا عزت والا

(ف156)

فرشتوں کے کلام کے معنی یہ ہیں کہ تمہارے لئے کیا جائے تعجب ہے ، تم اس گھر میں ہو جو معجزات اور خوارقِ عادات اور اللہ تعالٰی کی رحمتوں اور برکتوں کا مورَد بنا ہوا ہے ۔

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ بیبیاں اہلِ بیت میں داخل ہیں ۔

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ(۷۴)

پھر جب ابراہیم کا خوف زائل(دور) ہوا اور اسے خوش خبری ملی ہم سے قوم لوط کے بارے میں جھگڑنے لگا (ف۱۵۷)

(ف157)

یعنی کلام و سوال کرنے لگا اور حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ و السلام کا مجادَلہ یہ تھا کہ آپ نے فرشتوں سے فرمایا کہ قومِ لوط کی بستیوں میں اگر پچاس ایماندار ہوں تو بھی انہیں ہلاک کرو گے ، فرشتوں نے کہا نہیں فرمایا اگر چالیس ہوں انہوں نے کہا جب بھی نہیں ، آپ نے فرمایا اگر تیس ہوں انہوں نے کہا جب بھی نہیں ، آپ اس طرح فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا اگر ایک مرد مسلمان موجود ہو تب ہلاک کر دو گے انہوں نے کہا نہیں تو آپ نے فرمایا اس میں لوط علیہ السلام ہیں اس پر فرشتوں نے کہا ہمیں معلوم ہے جو وہاں ہیں ، ہم لوط علیہ السلام اور ان کے گھر والوں کو بچائیں گے سوائے ان کی عورت کے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ عذاب میں تاخیر چاہتے تھے تاکہ اس بستی والوں کو کُفر و معاصی سے باز آنے کے لئے ایک فرصت اور مل جائے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کی صفت میں ارشاد ہوتا ہے ۔

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ(۷۵)

بےشک ابراہیم تحمُّل والا بہت آہیں کرنے والا رجوع لانے والا ہے (ف۱۵۸)

(ف158)

ان صفات سے آپ کی رقّتِ قلب اور آپ کی رافت و رحمت معلوم ہوتی ہے جو اس مباحثہ کا سبب ہوئی ، فرشتوں نے کہا ۔

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَاۚ-اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَۚ-وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ(۷۶)

اے ابراہیم اس خیال میں نہ پڑ بےشک تیرے رب کا حکم آچکا اور بےشک ان پر عذاب آنے والا ہے کہ پھیرا نہ جائے گا

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ(۷۷)

اور جب لوط کے پاس ہمارے فرشتے آئے (ف۱۵۹) اسے ان کا غم ہوا اور ان کے سبب دل تنگ ہوا اور بولا یہ بڑے سختی کا دن ہے (ف۱۶۰)

(ف159)

حسین صورتوں میں اور حضرت لوط علیہ السلام نے ان کی ہیئت اور جمال کو دیکھا تو قوم کی خباثت و بد عملی کا خیال کر کے ۔

(ف160)

مروی ہے کہ ملائکہ کو حکمِ الٰہی یہ تھا کہ وہ قومِ لوط کو اس وقت تک ہلاک نہ کریں جب تک کہ حضرت لوط علیہ السلام خود اس قوم کی بدعملی پر چار مرتبہ گواہی نہ دیں چنانچہ جب یہ فرشتے حضرت لوط علیہ السلام سے ملے تو آپ نے ان سے فرمایا کہ کیا تمہیں اس بستی والوں کا حال معلوم نہ تھا ، فرشتوں نے کہا ان کا کیا حال ہے آپ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ عمل کے اعتبار سے روئے زمین پر یہ بدترین بستی ہے اور یہ بات آپ نے چار مرتبہ فرمائی ۔ حضرت لوط علیہ السلام کی عورت جو کافِرہ تھی نکلی اور اس نے اپنی قوم کو جا کر خبر دی کہ حضرت لوط علیہ السلام کے یہاں ایسے خوبرو اور حسین مہمان آئے ہیں جن کی مثل اب تک کوئی شخص نظر نہیں آیا ۔

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِؕ-وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِؕ-قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْؕ-اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ(۷۸)

اور اس کے پاس اس کی قوم دوڑتی آئی اور انہیں آگے ہی سے بُرے کاموں کی عادت پڑی تھی (ف۱۶۱) کہا اے قوم یہ میری قوم کی بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے ستھری ہیں تو اللہ سے ڈرو (ف۱۶۲) اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو کیا تم میں ایک آدمی بھی نیک چلن نہیں

(ف161)

اور کچھ شرم و حیا باقی نہ رہی تھی ۔ حضرت لوط علیہ السلام نے ۔

(ف162)

اور اپنی بیبیوں سے تمتُّع کرو کہ یہ تمہارے لئے حلال ہے ۔ حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ و السلام نے ان کی عورتوں کو جو قوم کی بیٹیاں تھیں بزرگانہ شفقت سے اپنی بیٹیاں فرمایا تاکہ اس حسنِ اخلاق سے وہ فائدہ اٹھائیں اور حمیّت سیکھیں ۔

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّۚ-وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ(۷۹)

بولے تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم کی بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں (ف۱۶۳) اور تم ضرور جانتے ہو جو ہماری خواہش ہے

(ف163)

یعنی ہمیں ان کی طرف رغبت نہیں ۔

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ(۸۰)

بولا اے کاش مجھے تمہارے مقابل زور ہوتا یا کسی مضبوط پائے کی پناہ لیتا(ف۱۶۴)

(ف164)

یعنی مجھے اگر تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا ایسا قبیلہ رکھتا جو میری مدد کرتا تو تم سے مقابلہ و مقاتلہ کرتا ۔ حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے مکان کا دروازہ بند کر لیا تھا اور اندر سے یہ گفتگو فرمارہے تھے ، قوم نے چاہا کہ دیوار توڑے فرشتوں نے آپ کا رنج و اضطراب دیکھا تو ۔

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَؕ-اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْؕ-اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُؕ-اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ(۸۱)

فرشتے بولے اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے ہیں (ف۱۶۵) وہ تم تک نہیں پہنچ سکتے (ف۱۶۶) تو اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ اور تم میں کوئی پیٹھ پھیر کر نہ دیکھے (ف۱۶۷) سوائے تمہاری عورت کے اسے بھی وہی پہنچنا ہے جو انہیں پہنچے گا (ف۱۶۸) بےشک ان کا وعدہ صبح کے وقت ہے (ف۱۶۹) کیا صبح قریب نہیں

(ف165)

تمہارا پایہ مضبوط ہے ، ہم ان لوگوں کو عذاب کرنے کے لئے آئے ہیں تم دروازہ کھول دو اور ہمیں اور انہیں چھوڑ دو ۔

(ف166)

اور تمہیں کچھ ضرَر نہیں پہنچا سکتے ۔ حضرت نے دروازہ کھول دیا ، قوم کے لوگ مکان میں گھس آئے ۔ حضرت جبریل نے بحکمِ الٰہی اپنا بازو ان کے مُنھ پر مارا ، سب اندھے ہو گئے اور حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ و السلام کے مکان سے نکل کر بھاگے ، انہیں راستہ نظر نہیں آتا تھا اور یہ کہتے جاتے تھے ہائے ہائے لوط کے گھر میں بڑے جادوگر ہیں ، انہوں نے ہمیں جادو کر دیا ۔ فرشتوں نے حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ و السلام سے کہا ۔

(ف167)

اس طرح آپ کے گھر کے تمام لوگ چلے جائیں ۔

(ف168)

حضرت لوط علیہ الصلٰوۃ و السلام نے کہا یہ عذاب کب ہوگا ، حضرت جبریل نے کہا ۔

(ف169)

حضرت لوط علیہ الصلٰو ۃ و السلام نے کہا کہ میں تو اس سے جلدی چاہتا ہوں ، حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا ۔

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ ﳔ مَّنْضُوْدٍۙ(۸۲)

پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کردیا (ف۱۷۰) اور اس پرکنکر کے پتھر لگاتار برسائے

(ف170)

یعنی اُلٹ دیا اس طرح کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے قومِ لوط کے شہر جس طبقہ زمین میں تھے اس کے نیچے اپنا بازو ڈالا اور ان پانچوں شہروں کو جن میں سب سے بڑا سد وم تھا اور ان میں چار لاکھ آدمی بستے تھے اتنا اونچا اٹھایا کہ وہاں کے کتّوں اور مرغوں کی آوازیں آسمان پر پہنچنے لگیں اور اس آہستگی سے اٹھایا کہ کسی برتن کا پانی نہ گرا اور کوئی سونے والا بیدار نہ ہوا پھر اس بلندی سے اس کو اوندھا کر کے پلٹا ۔

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَؕ-وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠(۸۳)

جو نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس ہیں (ف۱۷۱) اور وہ پتھر کچھ ظالموں سے دور نہیں (ف۱۷۲)

(ف171)

ان پتھروں پر ایسا نشان تھا جس سے وہ دوسروں سے ممتاز تھے ۔ قتادہ نے کہا کہ ان پر سُرخ خطوط تھے ۔ حسن و سدی کا قول ہے کہ ان پر مُہریں لگی ہوئی تھیں اور ایک قول یہ ہے کہ جس پتھر سے جس شخص کی ہلاکت منظور تھی اس کا نام اس پتھر پر لکھا تھا ۔

(ف172)

یعنی اہلِ مکّہ سے ۔