باب السھو

بھولنے کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یہاں سہو سے عمد کا مقابل مراد ہے لہذا اس میں خطا اور نسیان یعنی غلطی اور بھول دونوں شامل ہیں۔ سہو کے لغوی معنی غفلت ہیں،ظاہر یہ ہے کہ یہاں نماز کی بھول چوک مراد ہے۔بعض بھول سے سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے اور بعض سے نہیں۔شیخ نے فرمایا اس امت پر خدا کا بڑا احسان یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نمازوں وغیرہ میں بھول ہوتی تھی تاکہ امت کے لیے یہ بھول بھی سنت ہوجائے اور اس پر ثواب ملے جیسے بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ تندرستی اور بیماری بلکہ زندگی اور موت سنت رسول ہے اسی طرح سونا اور جاگنا اور مومن کے سارے کام۔

حدیث نمبر 238

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی جب نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اس پر شبہ ڈال دیتا ہے حتی کہ وہ نہیں جانتا کہ کتنی نماز پڑھی ۱؎ جب تم میں سے کوئی یہ پائے تو بیٹھے ہوئے دو سجدے کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ ترجمہ بہت مناسب ہے فقہاء فرماتے ہیں کہ جسے اس بھول کی عادت ہو وہ کم کا لحاظ کر ے اور سجدۂ سہو کرے اور جسے پہلی بار یہ بھول ہوئی وہ نماز لوٹائے یہاں بھول کی عادت کا ذکر ہے جیسا کہ لَایَدْرِیْ سے معلوم ہورہا ہے۔

۲؎ ایک سلام پھیر کر جیسا کہ اور احادیث میں ہے۔خیال رہے کہ اس صورت میں ہمارے ہاں سجدہ واجب ہے،امام شافعی کے ہاں سنت،یہ حدیث ہماری دلیل ہے کیونکہ فَلْیَسْجُدْ امر ہے،امرو جوب کے لیے ہوتاہے یہاں شیخ نے فرمایا اَحَدُکُمْ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ السلام کو نماز میں بھول شیطانی اثر سے نہیں ہوسکتی بلکہ عالم غیب میں توجہ کی بناء پر ہوتی ہے۔سبحان اﷲ! بہترین بات فرمائی۔