أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا سُلۡطٰنُهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ يَتَوَلَّوۡنَهٗ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ بِهٖ مُشۡرِكُوۡنَ۞

ترجمہ:

اس کا تسلط تو صرف ان لوگوں پر ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس کا تسلط تو صرف ان لوگوں پر ہے جو اس سے دوستی رکھتے ہیں اور اس کو اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں۔ 

(النحل : ١٠٠)

اس آیت کا معنی یہ ہے جو لوگ شیطان کے وسوسوں کو قبول کر کے اس کی اطاعت کرتے ہیں، یعنی ان کے دل میں جب کسی برے کام کرنے کا یا گناہ کا خیال آتا ہے تو وہ فورا اس کے درپے ہوجاتے ہیں حالانکہ اس کے ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ یہ گناہ کا کام ہے، اس کو نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن وہ برائی اور نگاہ کی تحریک کو ترجیح دیتے ہیں اور گناہ سے منع کرنے کی آواز کو دبا دیتے ہیں، اور یہ جو فرمایا ہے وہ اس کو اللہ کا شریک قرار دیتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ وہ شیطان کے گمراہ کرنے کے سبب سے مختلف چیزوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 100