أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا يَفۡتَرِى الۡـكَذِبَ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ‌ۚ وَاُولٰۤئِكَ هُمُ الۡكٰذِبُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جھوٹا بہتان تو وہی لوگ لگاتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جھوٹا بہتان تو وہی لوگ لگاتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیں۔ (النحل : ١٠٥)

جو کام دائما ہو اس کو اسم سے اور جو کام عارضی ہو اس کو فعل کے ساتھ تعبیر کرنا :

اس آیت میں مشرکین کے متعلق فرمایا ہے اولئک ھم الکاذبون ہے اور یہ جملہ اسمیہ ہے اور عربی قواعد کے مطابق جب کسی کام کو جملہ اسمیہ کے ساتھ تعبیر کیا جائے تو وہ دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ مشرکین ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں، اور جب کسی کام کو جملہ فعلیہ کے ساتھ تعبیر کیا جائے تو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ اس میں دوام و استمرار کا قصد نہیں کیا گیا۔ قرآن مجید میں ہے :

ثم بدالھم من بعد ما راوا الایت لیسجننہ حتی حین۔ (یوسف : ٣٥) پھر یوسف کی پاکیزگی دیکھنے کے بعد انہوں نے یہی مناسب جانا کہ کچھ عرصہ کے لیے ان کو قید کردیں۔

چونکہ وہ حضرت یوسف کو ہمیشہ قید میں نہیں رکھنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے لیسجننہ کہا اور قید کرنے کو جملہ فعلیہ کے ساتھ تعبیر کیا، اور فرعون کا ارادہ حضرت موسیٰ کو ہمیشہ قید میں رکھنا تھا، اس لیے انہیں قید میں رکھنے کو اس نے اسم کے ساتھ تعبیر کیا اور من المسجونین کہا۔

قال لئن اتخذت الھا غیر لاجعلنک من المسجونین۔ (الشعراء : ٢٩) فرعون نے کہا (اے موسی) اگر تم نے میرے علاوہ کسی اور کو معبود بنایا تو میں تم کو ضرور قیدیوں میں شامل کردوں گا۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق الکاذبون فرمایا اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ کذب ان کی صفت ثابتہ راسخہ دائمہ ہے۔ یعنی جھوٹ بولان ان کی دائمی عادت ہے، اسی لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ پر بھی جھوٹ باندھنے کی جرات کی۔

اس آیت میں مشرکین کا رد ہے، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف افترا کی نسبت کرتے تھے کہ ایک عجمی شخص سے کلام سیکھ کر العیاذ باللہ یہ افترا کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ حالانکہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الصادق الامین کہتے تھے، پھر بھی ان ظالموں نے یہ کہا کہ آپ معاذ اللہ اللہ پر افترا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا افترا تو وہی لوگ کرتے ہیں کہ جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے، یہ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کاذب اور مفتری وہی ہے جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا، کیونکہ سب سے بڑا کزب اور افترا اللہ کا شریک قرار دینا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرنا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 105