أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّهٗ لَـيۡسَ لَهٗ سُلۡطٰنٌ عَلَى الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَلٰى رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں ان پر اس کا کوئی تسلط نہیں ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں ان پر اس کا کوئی تسلط نہیں ہے۔ (النحل : ٩٩)

لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنے کی فضیلت :

جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شیطان کے شر سے پناہ طلب کرنے کا حکم دیا تو اس سے یہ وہم پیدا ہوتا تھا کہ شاید شیطان کو انسانوں کے بدنوں اور جسموں پر تصرف کرنے کی قدرت ہے، تو اللہ تعال نے اس وہم کا ازالہ فرمایا کہ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور وہ اپنے رب پر ہی توکل کرتے ہیں ان پر اس کا کوئی تسلط نہیں، اور یہ جاننا چاہیے کہ اللہ کی عصمت اور اس کے بچانے کے بغیر شیطان کے وسوسوں سے بچنا ممکن نہیں ہے۔ اس لیے محققین نے کہا ہے کہ اللہ کے بچانے کے بغیر اللہ تعالیٰ کی معصیت سے بچنا ممکن نہیں ۃ ے اللہ کی توفیق کے بغیر اس کی عبادت پر قوت ممکن نہیں ہے اور لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم کا یہی معنی ہے۔ عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لاحول ولاقوۃ شیطان کو کہا جاتا ہے، اس لیے اگر کسی کے سامنے لاحول ولا قوۃ پڑھو تو وہ کہتے ہیں آپ نے مجھے شیطان کہہ دیا۔ حالانکہ اس کلمہ کا شیطان سے کوئی تعلق نہیں اور اس کلمہ کی احادیث میں بہت فضیلت ہے۔

حضرت ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے، لوگ بلند آواز سے اللہ اکبر، اللہ اکبر کہہ رہے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے لوگو ! اپنے نفسوں کے ساتھ نرمی کرو، تم کسی بہرے کو پکار رہے ہو نہ غائب کو، تم اس کو پکار رہے ہو جو سننے والا ہے وار قریب ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوا یہ پڑھ رہا تھا لا حول ولا قوۃ الا باللہ آپ نے فرماریا اے عبداللہ بن قیس کیا میں ضنت کے خزانوں میں سے کسی خزانہ پر تمہاری رہنمائی نہ کروں۔ میں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : کہو لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٠٩، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ١٥٢٦، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٤٦١، مسند احمد رقم الحدیث : ١٠٧٤٧، عالم الکتب بیروت)

علامہ نووی نے لکھا ہے کہ لاحول پڑھنے کا اتنا عظیم ثواب اس لیے ہے کہ اس کلمہ کا معنی یہ ہے کہ بندہ نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بالکل سپرد کردیا اور اس کی بارگاہ میں سر اطاعت خم کردیا۔ اور یہ یقین کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خالق نہیں ہے اور اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہے، اور بندہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے، اور جنت کے خزانے کا معنی یہ ہے کہ اس کے پڑھنے کا ثواب جنت میں ذخیرہ کیا ہوا ہے اور اس کا ثواب بہت نفیس اور بہت عمدہ ہے کیونکہ تم خزانہ میں وہی چیز رکھتے ہو جو بہت نفیس اور بہت قیمتی ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 99