🤾‍♀️بچوں کی خوشیاں 🤾‍♂️

تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ہونے کو ہے میں مطالعہ میں مگن ہوں اور بچے میرے ساتھ کھیل رہے ہیں ۔

کبھی اوپر چادر دیتے ہیں ، کبھی پُشت پر گاڑی چلاتے ہے ، کبھی کمر پر آٹا گوندھتے ہیں ، کبھی پیٹ پر کپڑا باندھتے ہیں ؛ کبھی سر دباتے ہیں ، کبھی پاؤں دباتے ہیں ، کبھی پُشت کھجاتے ہیں ۔

کبھی کہتےہیں: بابا جی آپ ایک پہاڑ ہوتے ، اور ہم اس پر مکان تعمیر کرتے ….. پھر خیالی مکان تعمیر کرنا شروع کردیتے ہیں ۔

الغرض انھیں جو جو سوجھ رہا ہے ، کررہے ہیں اور ہنستے جارہے ہیں ۔

میں خاموشی سے اپنے کام میں مگن ہوں ، انھیں بالکل منع نہیں کررہا ……. مجھے وہ منظر یاد آرہا ہے جب سیدنا عمر پاک بچوں کے سامنے چار زانو بیٹھے تھے اور بچے آپ سے کھیلنے اور ہنسنے لگے تھے ، جس پر آپ اللہ تعالی کا شکر بجا لائے کہ جس نےآپ کو یہ مسکراہٹیں دکھائیں ۔

بتانے کا مقصد یہ ہے کہ‌:

بچوں کی خوشیاں ، بڑی سادی اور پیاری ہوتی ہیں اُنھیں اِن سے محروم نہیں کرنا چاہیے ۔

اگر آپ مطالعہ کررہے ہیں ، کھانا کھارہے ، سورہے ہیں ، یا کسی اہم کام‌ میں مشغول ہیں اور بچے آکر آپ کے پاس کھیلنا شروع کردیتے ہیں تو اُنھیں جھڑکیں نہیں ، ڈانٹیں نہیں ؛ بلکہ پیار سے سمجھائیں ، اور وہ بھی تب سمجھائیں جب سمجھانا ضروری ہو ….. ورنہ کھیلنے دیں ۔

اللہ پاک‌ہم سب کے بچوں کو ہنستا کھیلتا رکھے اور انھیں صحت و تن درستی عطافرمائے ۔

✍️لقمان شاہد

12-5-20 ء