أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمُ اسۡتَحَبُّوا الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا عَلَى الۡاٰخِرَةِ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡكٰفِرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

کیونکہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہے اور بیشک اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیونکہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہے اور بیشک اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ غافل ہیں۔ بیشک صرف یہی لوگ آخرت میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔ (١٠٩۔ ١٠٧)

مرتدین کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگانے کی توجیہ :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا بلکہ جو لوگ ایمان لانے کے بعد کھلے دل کے ساتھ کفر کریں تو ان پر اللہ کا غض (رض) ہے اور ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے۔

ار اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کھلے دل سے کفر کیا اور مرتد ہوگئے تو ان کا یہ ارتداد اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی تھی اور چونکہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں یہ علم تھا کہ یہ لوگ اپنے اختیار سے دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں گے اور ایمان لانے کے بعد کھلے دل سے کفر کریں گے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ہدایت پیدا نہیں کی اور ان کے ارتداد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی ہے۔ یعنی اب وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایمان لانے اور ہدایت کے قابل نہیں رہے۔ اب اگر وہ بالفرض ایمان لانا بھی چاہیں تو ان کو ایمان نصیب نہیں ہوگا۔ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے بلکہ تم لوگ اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں اللہ اور رسول پر ایمان لانے والوں میں شمار کیا جائے۔ 

اس جگہ یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ جب اللہ نے ان کو ہدایت نہیں دی اور ان کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی تو پھر ایمان نہ لانے میں ان کا کیا قصور ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو ہدایت دی تھی، ان کی ہدایت کے لیے اپنے رسول کو بھیجا، ان کو انواع و اقسام کے معجزات عطا کیے، قرآن مجید کو نازل کیا لیکن انہوں نے اپنے اختیار سے گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دی اور جب انہوں نے اس نعمت کی قدر نہیں کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی یہ سزا دی کہ دنیا میں ان کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دی اور آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب رکھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 107