دور حاضر میں یہ جو نام نہاد دانش ور عوام کو ” اجتهاد” پر ابھارتے ہیں کہ

آجی! خود قرآن کا ترجمہ پڑھ کر علماء وفقہاء سے بالاتر ہو کر ریسرچ کرو!

سمجھ نہیں آتی! یہ دانش ور کیسے ڈاکٹر سے بلا چوں وچرا ٹیکہ لگوا لیتے ہیں

حالانکہ امراض کی تشخیص میں ڈاکٹرز کا اختلاف، ادویات کے اثر و تاثیر

اور مختلف لیبارٹریز کے ٹیسٹ کے نتائج میں فرق ہونا ایک عام بات ہے

اس کے باوجود یہ دانش ور خود سے میڈیکل سائنس کی کتابیں پڑھ کر

ڈاکٹرز سے بالاتر ہو کر ریسرچ نہیں کرتے بلکہ ڈاکٹرز پر اعتماد کرتے ہیں

بلکہ دنیا کے ہر ہر شعبے میں اس کے اہل و پروفیشنلز پر اعتماد کیا جاتا ہے

صرف دین کے معاملے میں ان لوگوں کو ریسرچ کا کیڑا تنگ کرتا ہے

اور یہ علماء وفقہاء سے عوام کو بد ظن کرکے اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں