فاسق عورت ہزار سے آگے

عورتوں کی دینی رغبت بڑھانے کے لئے حدیث پاک میں ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ عورتوں کے گناہ کا وبال کیا ہے،تاکہ جو ثواب کی قدر دیکھ کر آگے نہ آئے وہ گناہ کے وبال سے آشنا ہو کر اپنے آپ کو اس سے روک لے،دفع ضرر جلب منفعت پر مقدم ہے،ہو سکتا ہے کچھ مل رہا ہو تو کسی کو لینے کی خواہش نہ ہو مگر گھر میں آگ لگی ہو تو اپاہج بھی اپنی جان بچانے کے لئے کوئی ترکیب کر گزرے گا،اس کی وجہ سے ہمارے آقا ﷺ نے نافرمانی کا وبال بھی بتایا کہ نیکیوں کی کثرت سے نہ آنے والی گناہوں کثرتوں سے اپنے آپ کو بتانے کے لئے تیار ہوجائے،تو آپنے فرمایا کہ فارق و فاجر عورت کا عمل بد ایک ہزار گنہگاروں کے برابر ہے،چونکہ نیکیوں میں لوگ اتباع کم کرتے ہیں،اس میں کئی دشمنوں سے لڑ کر آگے آنا ہوتا ہے جبکہ گناہ میں ہمارا ساتھی سبھی بن جاتے ہیں،ہمارا نفس بھی چاہتا ہے،شیطان بھی چاہتا ہے،ہمارے دوستوں احباب بھی چاہتے ہیں،جس پر مدد زیادہ ہو اسکا کرنا آسان ہے اس لئے گناہ کو دیکھ کر ساتھ دنینے والے زیادہ مل جاتے ہیں،اب ظاہر ہے کہ ہمیں دیکھ کر کوئی گناہ کرے گا تو اسکا ظاہری سبب ہم ہوئے،کرنے والے کے گناہ میں فرق نہ آئے گا مگر اسکے گناہ کا الگ سے وبال ہم تک پنہچے گا کہ ہم اسے راستہ بتانے والے ہوئے،اس لئے فرمایا گیا کہ عورت کا عمل بد ہزار گنہگاروں کے عمل کے برابر ہے

گناہ نہ پھیلاوٗ

اپنا گناہ اپنا ہی رہ جائے تو یہ بھی اچھی بات نہیں مگر اپنے ہی تک محدود رہے یہ اس سے اچھا ہے کہ غیر تک اسکا اثر پنہچے اور دوسرے بھی ہمارے دیکھا دیکھی اس میں ملوث ہو جائیں،یہ گناہ جاریہ بن جاتا ہے،اس پر گناہ کا لکھا جانا ہمارے عمل پر موقوف نہیں ہمیں دیکھ کر کرنے والوں کا عمل انسے گناہ کو ختم نہیں کرتا مگر ہمیں بھی اس میں ملوث کرتا ہے کیوں کہ پہلے ہمنے انہیں ملوث کیا ہے،ایسے گناہوں کی توبہ صرف اپنی توبہ پر موقوف نہیں چونکہ ہمنے چھوڑ دیا لیکن پہمیں دیکھر کرنے والوں نے تو توبہ نہیں کی ہے تو ایسے شخص کو اپنی توبہ کو بھی جاریہ بنانا پڑے گا،گناہ کا جاریہ ہونا آسان ہے مگر توبہ کا جریہ ہونا بڑا مشکل ہے