أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاِذَا قَرَاۡتَ الۡقُرۡاٰنَ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيۡطٰنِ الرَّجِيۡمِ ۞

ترجمہ:

پس (اے رسول مکرم) جب آپ قرآن پڑھیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس (اے رسول مکرم) جب آپ قرآن پڑھیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کریں۔ (النحل : ٩٨)

قرآن مجید کی تلاوت سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنے کی حکمت :

اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کے دلوں میں وسوسہ ڈالنے کی شیطان کو قدرت دی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

فوسوس الیہ الشیطان قال یاھم ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لا یبلی۔ (طہ : ١٢٠) پھر شیطان نے آدم کی طرف وسوسہ ڈالا، کہا اے آدم ! کیا میں تم کو دوام کے درخت کا پتا بتاؤں اور ایسی بادشاہت کا جو کبھی کمزور نہ ہو۔

اور جب شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی جائے تو پھر انسان شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

ان الذین اتقوا اذا مسھم طائف من الشیطان تذکروا فاذا ھم مبلسون۔ (الاعراف : ٢٠١) بیشک جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں جب انہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آتا ہے تو وہ فورا (اللہ کو) یاد کرتے ہیں اور اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔

اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ نبیوں کی طرف بھی شیطان وسوسہ ڈالتا ہے اور اللہ کو یاد کرنے کے سبب سے وہ وسوسہ زائل ہوجاتا ہے اور اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ہم نے آپ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ (النحل : ٨٩) اور اس سے متصل پہلی آیت میں فرمایا تھا اور ہم ان کاموں کی اچھی جزا دیں گے۔ (النحل : ٩٧) اور یہ دونوں آیتیں اس کا تقاضا کرتی ہیں کہ قرآن مجید کو پڑھا جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا جب آپ قرآن پڑھیں تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کریں، تاکہ آپ قرآن پڑھنا شیطان کی وسوسہ اندازہ سے محفوظ اور مامون ہو۔ اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ قرآن کریم کی تلاوت سے پہلے اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم پڑھیں تو تمام مسلمان اس حکم کے تحت داخل ہیں۔

اس آیت کا بظاہر معنی ہے قرآن مجید پڑھنے کے بعد اعوذ باللہ پڑھی جائے، اس کا جواب :

اس آیت کا بظاہر معنی ی ہے ہ کہ جب آپ قرآن مجید پڑھ چکیں تو پھر اعوذ باللہ پڑھیں حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ قرآن مجید پڑھنے سے پہلے اعوذ باللہ پڑھی جائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں عربی اسلوب کے مطابق اذا اردت ان تقرا القران محذوف ہے یعنی جب تم قرآن مجید پڑھنے کا ارادہ کرو تو اعوذ باللہ پڑھو۔ اس کی نظیر یہ آیت ہے اذا قمتم الی الصلوۃ فاغسلوا وجوھکم وایدیکم (المائدہ : ٦) اس کا بظاہر معنی یہ ہے جب تم نماز کی طرف کھڑے ہو تو پھر وضو کرو۔ حالانکہ نماز سے پہلے وضو کیا جاتا ہے اس کا بھی یہی جواب ہے کہ یہاں عربی اسلوب کے مطابق اذا اردتم القیام الی الصلوۃ محذوف ہے یعنی جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو تو وضو کرو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 98