أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا عِنۡدَكُمۡ يَنۡفَدُ‌ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ وَلَـنَجۡزِيَنَّ الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡۤا اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا اور جن لوگوں نے صبر کیا ان کے کاموں کے اچھے اجر کی جزا دیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور جو اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہے گا اور جن لوگوں نے صبر کیا ان کے کاموں کے اچھے اجر کی جزا دیں گے۔ (النحل : ٩٦)

اخروی نعمتوں کا دنیاوی نعمتوں سے افضل ہونا :

آخرت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے دو وجوہات کی بنا پر افضل ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ جس شخص کے پاس اعلی درجہ کی دنیا کی نعمتیں ہوں تو جس وقت وہ نعمتیں اس کے پاس ہوں گی اس وقت بھی وہ بہت فکر اور پریشانی میں ہوگا کہ کہیں وہ نعمتیں اس کے پاس سے چھن نہ جائیں، چوری نہ ہوجائیں، گم نہ ہوجائیں یا ضائع نہ ہوجائیں، اور جب وہ نعمتیں اس کے پاس سے چھن جائیں گی تو اس کا دن رات غم و غصہ حسرت اور افسوس میں گزرے گا، کاش وہ ان کی حفاظت کرتا، کاش وہ اس کے پاس سے نہ جاتیں۔ پس واضح ہوگیا کہ آخرت کی نعمتیں ہی بہتر ہیں جن کو فنا نہیں ہے جو دائمی اور غیر منقطع ہیں اور اگر دنیا کی وہ نعمتیں اعلی درجہ کی نہیں ہیں بہت معمولی قسم کی ہیں تو پھر ظاہر ہے کہ جنت کی نعمتیں ان سے بہت اعلی اور بہت افضل ہیں۔

مومن کے ہر عمل کا باعث اجر وثواب ہونا :

مومن جب اللہ پر ایمان لے آتا ہے تو وہ اسلام کے تمام احکام شرعیہ کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کا التزام کرلیتا ہے، اس وقت اس پر دو امر لازم ہوتے ہیں۔ ایک ی ہے ہ کہ اس نے جن احکام شرعیہ کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کا التزام کیا ہے اس التزام پر ثابت قدم رہے، کسی حال میں اس سے نہ پھرے اور جو وہ عہد کرچکا ہے اس کو کبھی نہ توڑے، دوسرا یہ ہے کہ س نے جن چیزوں کا التزام کیا ہے ان پر عمل کرے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے مومن کو اس کی ترغیب دی کہ وہ جو التزام کرچکا ہے، اس پر صبر کرے۔ اس لیے فرمایا اور جن لوگوں نے سبر کیا ان کو ہم ان کے اچھے کاموں کی جزا دیں گے۔ یعنی انہوں نے جن احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا التزام کیا ہے جب وہ ان پر اچھی طرح عمل کریں گے تو ہم ان کے نیک اعمال کی اچھی جزا دیں گے، کیونکہ مومن مباح، مستحب، واجب اور فرض عمل کرتا ہے اور مکروہ اور حرام سے بچتا ہے اور حسن نیت سے مباح بھی مستحب ہوجاتا ہے۔ مثلا کھانا پینا اور سونا مباح ہے لیکن وہ اس لیے کھائے پیے کہ اس سے عبادت پر تقویت حاصل ہو تو کھانا پینا بھی مستحب ہے، اور اس طرح کھائے جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھاتے تھے اور ان چیزوں کو کھائے جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھاتے تھے تو اس کا کھانا پینا سنت ہے اور اس کے عبادت ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے۔ اسی طرح سونا، جاگنا، اٹھنا، بیٹھنا، باتیں کرنا، چلنا، پھرنا، دوستوں سے ملاقات کرنا، مہمان نوازی کرنا، ان سب کاموں کو سنت کے مطابق کیا جائے تو ان کے عبادت ہونے میں کیا کلام ہوسکتا ہے۔ لہذا اس کے ان تمام کاموں پر اللہ تعالیٰ اچھے اجر کی جزا دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 96