أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَتَّخِذُوۡۤا اَيۡمَانَكُمۡ دَخَلًاۢ بَيۡنَكُمۡ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعۡدَ ثُبُوۡتِهَا وَتَذُوۡقُوا السُّوۡۤءَ بِمَا صَدَدْتُّمۡ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ۚ وَ لَـكُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور اپنی قسموں کو آپس میں دھوکا نہ بناؤ کہ قدم جمنے کے بعد پھسل جائیں اور تم عذاب چکھو گے کیونکہ تم نے (لوگوں کو) اللہ کے راستہ سے روکا ہے اور تمہارے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنی قسموں کو آپس میں دھوکا نہ بناؤ کہ قدم جمنے کے بعد پھسل جائیں اور تم عذاب چکھو گے کیونکہ تم نے (لوگوں کو) اللہ کے راستہ سے روکا ہے اور تمہارے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ اور اللہ کے عہد کے بدلہ میں تھوڑی قیمت نہ لو، کیونکہ جو اللہ کے پاس (ایفائے عہد کا صلہ) ہے وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ (النحل : ٩٤، ٩٥)

قسم توڑنے کی ممانعت کو دوبارہ ذکر کرنے کی توجیہ :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے معاہدوں اور قسموں کے توڑنے سے مطلقا منع فرمایا تھا اور اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں دھوکا نہ بناؤ اور اس آیت سے مطلقا قسم توڑنے سے ممانعت مراد نہیں ہے ورنہ ان آیتوں میں ایسی تکرار لازم آئے گی جو فائدہ سے خالی ہو، بلکہ اس سے مراد قرآن مجید کے مخاطبین کو مخصوص قسموں کے توڑنے سے منع فرمانا ہے، اسی لیے مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس آیت سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان کو قسم توڑنے یعنی اس بیعت کے توڑنے سے منع فرمایا ہے، اسی لیے اس کے بعد یہ وعدی ذکر فرمائی ہے کہ قدم جمنے کے بعد پھسل جائیں، یہ وعہد کسی سبق عہد کے توڑنے پر نہیں ہے بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے اور آپ کی شریعت کو ماننے کے عہد کو توڑنے کے مناسب ہے کیونکہ جس شخص نے اسلام کا عہد توڑ دیا، وہ بلند درجات سے نیچے جا گرا اور اس طرح گمراہی میں مبتلا ہوگیا، اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد فرمایا اور تم عذاب کو چکھو گے کیونکہ تم نے (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا ہے اور تمہارے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ جس شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس کو توڑ دیا اور آپ کی شریعت کا انکار کردیا، اس کا یہ فعل لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے مانع ہوا کیونکہ لوگ یہ سوچ سکتے ہیں اگر اسلام برحق دین ہوتا تو یہ لوگ اسلام قبول کر کے اور اس پر پکی بیعت کر کے اس بیعت کو نہ توڑتے، تو یوں ان لوگوں کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ پر اسلام اور آپ کی شریعت کو ماننے کی بیعت کر کے اور اس پر موکد قسمیں کھا کر توڑ دینا لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کا سبب بن اور ان کے آخرت میں بہت بڑے عذاب کا موجب ہوا کیونکہ مطلقا قسم توڑنا اس قدر شدید عذاب کا موجب نہیں ہے بلکہ اس کی تلافی قسم کا کفارہ ادا کردینے سے ہوجاتی ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اس ممانعت کو یہ کہہ کر مزید موکد فرمایا : اور اللہ کے عہد کے بدلہ میں تھوڑی قیمت نہ لو، یعنی تم کفار سے رشوت لے کر اسلام کی بیعت کر کے اس کو توڑ دیتے ہو، پس تم دنیا کے قلیل مال کے عوض عہد شکنی نہ کرو اور اسلام کی بیعت کر کے اس کو نہ توڑو کیونکہ مال دنیا خواہ کتنا زیادہ ہو وہ آخرت کے اجر وثواب کے مقابلہ میں تھوڑا ہے کیونکہ دنیا کا مال فانی ہے اور اخروی اجر وثواب باقی ہے اور باقی رہنے والی چیز فانی سے بہرحال افضل ہے۔ اس کے بعد فرمایا :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 94