أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّتِىۡ نَقَضَتۡ غَزۡلَهَا مِنۡۢ بَعۡدِ قُوَّةٍ اَنۡكَاثًا ؕ تَتَّخِذُوۡنَ اَيۡمَانَكُمۡ دَخَلًاۢ بَيۡنَكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرۡبٰى مِنۡ اُمَّةٍ‌ ؕ اِنَّمَا يَبۡلُوۡكُمُ اللّٰهُ بِهٖ ‌ؕ وَلَيُبَيِّنَنَّ لَـكُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ مَا كُنۡـتُمۡ فِيۡهِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت مضبوطی سے کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ فائدہ مند رہے، اللہ اس سے محض تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے ہو ان کی حقیقت قیامت کے دن تم کو ضرور بیان فرما دے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ جس نے اپنا سوت مضبوطی سے کاتنے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کردیا کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ فائدہ مند رہے، اللہ اس سے محض تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور جن چیزوں میں تم اختلاف کرتے ہو ان کی حقیقت قیامت کے دن تم کو ضرور بیان فرما دے گا۔ (النحل : ٩٢)

مشکل الفاظ کے معانی : 

نکث الغزل کا معنی ہے، دھاگا توڑنا، اس لفظ کو عہد توڑنے کے لیے استعارہ کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

وان نکثوا ایمانھم۔ (التوبہ : ١٢) اور اگر یہ لوگ اپنی قسمیں توڑ دیں۔ (المفردات ج ٢ ص ٦٥٣، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ١٤١٨ ھ)

دخل کا لفظ فساد سے کنایہ ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے :

تتخذون ایمانکم دخلا بینکم۔ (النحل : ٩٢) تم آپس میں فساد کرنے کے لیے قسمیں کھاتے ہو۔ (المفردات ج ١ ص ٢٢٢، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

سوت کات کر توڑ دینے کی مثال سے کیا مقصود ہے ؟

جو شخص قسم کھا کر کوئی معاہدہ کرے اور اس کو تاکیدات سے موکد کرے پھر اس معاہدہ کو توڑ دے اس کو اس عورت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو سوت کاتنے کے بعد اس کو ٹکڑے ٹکڑے کردے۔

روایت ہے کہ مکہ مکرمہ میں ایک بیوقوف عورت تھی، جس کا نام ریطہ بنت عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ تھا۔ وہ اسی طرح کیا کرتی تھی پھر یہ واقعہ ضرب المثل بن گیا جو شخص بھی کوئی کام محنت سے بناکر اس کو بگاڑ دے اس کے متعلق یہی کہا جاتا ہے۔

مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ عرب کا کوئی قبیلہ کسی قبیلہ کے کے ساتھ دوستی اور تعاون کا معاہدہ کرتا اور جب کسی دوسرے قبیلے سے اس کا تعلق ہوتا جس کو پہلے قبیلے پر عددی اور مالی برتری حاصل ہوتی تو وہ اس پہلے قبیلہ سے کیا ہوا عہد توڑ دیتا اور اس دوسرے قبیلہ سے عہد و پیمان کرلیتا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس کا منشا ی ہے ہ کہ تم اس وجہ سے اپنے کیے ہوئے پختہ معاہدوں کو نہ توڑو کہ فلاں قبیلہ کے افراد کی تعداد زیادہ ہے یا ان کے پاس مال و دولت زیادہ ہے یا ان کے پاس مادی قوت زیادہ ہے، اور اس سے مقصود یہ ہے کہ تم اسلام میں داخل ہونے کے بعد کفار کی اس وجہ سے نہ لوٹ جاؤ کہ ان کی تعداد زیادہ ہے یا ان کے پاس مال و دولت اور مادی طاقت زیادہ ہے۔ اللہ تم کو ان کی عددی اور مالی برتری دکھا کر آزماتا ہے کہ کون ان کی کظرت اور طاقت سے مرعوب ہوتا ہے اور کون مرعوب نہیں ہوتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 92