أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ شَآءَ اللّٰهُ لَجَـعَلَكُمۡ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰـكِنۡ يُّضِلُّ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَلَـتُسۡــئَلُنَّ عَمَّا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے، اور تم جو کچھ کرتے رہے ہو اس کے متعلق تم سے ضرور سوال کیا جائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے، اور تم جو کچھ کرتے رہے ہو اس کے متعلق تم سے ضرور سوال کیا جائے گا۔ (النحل : ٩٣)

بعض بندوں کو اللہ تعالیٰ کے گمراہ کرنے اور پھر ان سے سوال کرنے کی توجیہ :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کا مکلف کیا کہ وہ عہد کو پورا کریں اور ان پر عہد توڑنے کو حرام کردیا، اس کے بعد بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ ان سب کو عہد پورا کرنے پر کار بند کردے، اسی طرح وہ اس پر قادر ہے کہ دنیا کے تمام انسانوں کو ایمان لانے پر اور تمام احکام شرعیہ کے مطابق عمل پر ان کو کار بند کردے وہ اگر کسی کو جبرا مومن بنانا چاہے یا کسی کو جبرا کافر بنانا چاہے تو یہ اس کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے کیونکہ باقی تمام کائنات، عرش، کرسی، زمین و آسمان، فرشتے، جمادات، نباتات اور حیوانات سب اس کے احکام کے تابع ہیں اور ہر چیز جبرا اس کی اطاعت کرر ہی ہے۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ وہ ایک ایسی مخلوق بنائے جو اپنے اختیار سے اس پر ایمان لائے اور اس کے احکام کی اطاعت کرے یا اپنے اختیار سے اس کا کفر کرے اور اس کے احکام کی نافرمانی کرے۔ اول الذکر آخرت میں اس کی رضا اور اس کے ثواب کی مستحق ہو اور ثانی الذکر اس کے غضب اور اس کے عذاب کی مستحق ہو، پھر جس کے متعلق اس کو ازل میں یہ علم تھا کہ وہ اپنے اختیار سے ایمان لائے گا اس نے اس کے لیے ایمان مقدر کردیا اور دنیا میں اس کے لیے ہدایت پیدا کردی اور جس کے متعلق اس کو ازل میں یہ علم تھا کہ یہ کفر کرے گا اس کے لیے اس نے کفر مقدر کردیا اور دنیا میں اس کے لیے گمراہی پید اکردی، اور یہی اس کا معنی ہے وہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ ہماری اس تقریر سے اب یہ اعتراض نہیں ہوگا کہ جب اللہ ہی گمراہ کرتا ہے تو بندہ کا کیا قصور ہے ؟

اس کے بعد فرمایا تم جو کچھ کر رہے ہو اس کے متعلق تم سے ضرور سوال کیا جائے گا۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ اس نے بندوں کو گمراہ کیوں کیا کیونکہ اس نے اسی کو گمراہ کیا جس نے اپنے اختیار سے گمراہی کو پسند کرلیا، لیکن ان بندوں سے ضرور سوال کیا جائے گا کہ انہوں نے گمراہی کو کیوں اختیار کیا جبکہ ان کے لیے ہدایت اور گمراہی کے دونوں راستے واضح کردیے گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعہ ان کو ہدایت کی دعوت دی تھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 93