أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اِذَا رَاَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡا شُرَكَآءَهُمۡ قَالُوۡا رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۤءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِيۡنَ كُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِكَ‌ۚ فَاَلۡقَوۡا اِلَيۡهِمُ الۡقَوۡلَ اِنَّكُمۡ لَـكٰذِبُوۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور جب مشرکین اپنے شرکاء کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب ! یہ ہیں ہمارے وہ شرکاءجن کی ہم تیرے سوا عبادت کرتے تھے تو وہ جواب میں کہیں گے کہ بیشک تم ضرور جھوٹے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب مشرکین اپنے شرکاء کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب ! یہ ہیں ہمارے وہ شرکاء جن کی ہم تیرے سوا عبادت کرتے تھے تو وہ جواب میں کہیں گے کہ بیشک تم ضرور جھوٹے ہو۔ اور اس دن وہ اطاعت شعاری کرتے ہوئے اللہ کے سامنے گرجائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھتے تھے وہ ان سے جاتے رہیں گے۔ (النحل : ٨٦، ٨٧)

قیامت کے دن بتوں اور مشرکوں کا مکالمہ :

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان بتوں کو اٹھائے گا جن کی کفار عبادت کرتے تھے اور ان کو اٹھانے سے مقصود یہ ہے کہ مشرکین ان بتوں کا انتہائی ذلت اور حقارت سے مشاہدہ کریں نیز وہ بت مشرکین کی تکذیب کریں گے۔ اس سے ان کے دلوں میں غم اور حسرت اور زیادہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے ان بتوں کو شرک اسلیے فرمایا ہے کہ کفار ان بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک کہتے تھے۔ مشرکین جو کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! یہ ہیں ہمارے وہ شرکاء جن کی ہم عبادت کرتے تھے، اس سے ان کا منشاء یہ تھا کہ وہ اپنا گناہ ان بتوں پر ڈال دیں اور انہوں نے یہ گمان کیا کہ اس سے ان کو عذاب سے نجات مل جائے گی یا ان کے عذاب میں کمی ہوجائے گی۔ بت ان سے کہیں گے بیشک تم ضرور جھوٹے ہو، اس پر سوال ہوتا ہے کہ بت توا از قبیل جمادات ہیں وہ کیسے کلام کریں گے، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان بتوں میں حیات، عقل اور نطق پیدا کردے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بالکل بعید نہیں ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مشرکین بتوں کی طرف اشارہ کر کے کہیں گے، یہ ہیں ہمارے وہ شرکاء جن کی ہم تیرے سوا عبادت کرتے تھے تو مشرکین کا یہ کلام سچا ہے پھر بت کیوں کہیں گے کہ تم جھوٹے ہو، اس کا جواب یہ ہے کہ بتوں کے قول کا معنی ہے کہ تم اپنے اس قول میں جھوٹے ہو کہ ہم عبادت کے مستحق ہیں یا تم اس قول میں جھوٹے ہو کہ عبادت کے مستحق ہونے میں ہم اللہ کے شریک ہیں اور تمہارا ہم کو اللہ کا شریک قرار دینا یہ جھوٹ ہے۔

قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے کسی صورت میں آنے کی توجیہ :

بتوں کو قیامت کے دن اٹھائے جانے کا ذکر اس حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چودھویں شب کو چاند دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف ہوتی ہے مسلمانوں نے کہا نہیں یا رسو اللہ، آپ نے فرمایا جب سورج پر بادل نہ ہوں تو کیا سورج کو دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے ؟ مسلمانوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ۔ آپ نے فرمایا تم اپنے رب کو عنقریب اسی طرح دیکھو گے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا جو شخص جس کی اتباع کرتا تھا وہ اس کے پیچھے چلا جائے۔ سو جو شخص سورج کی پرستش کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے چلا جائے گا اور جو شخص چاند کی پرستش کرتا تھا وہ چاند کے پیچھے چلا جائے گا اور جو شخص بتوں کی پرستش کرتا تھا وہ بتوں کے پیچھے چلا جائے گا اور یہ امت باقی رہ جائے گی اس میں منافقین بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایک ایسی صورت میں آئے گا جو اس صورت کی غیر ہوگی جس کو وہ پہچانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تمہارا رب ہوں، وہ کہیں گے ہم تم سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں ہم یہیں پر رہیں گے حتی کہ ہمارے پاس ہمارا رب آجائے، پس جب ہمارا رب آجائے گا تو ہم اس کو پہچان لیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس صورت میں وہ اس کو پہچانتے تھے، پس فرمائے گا میں تمہارا رب ہوں۔ پس مسلمان کہیں گے تو ہمارا رب ہے پھر وہ اس کے پیچھے چل پڑیں گے۔ الحدیث : (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٢، صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٥٧٣، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥٥٧، مسند احمد ج ٢ ص ٣٦٨ )

علامہ یحی بن شرف نواوی متوفی ٦٧٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

اس حدیث میں مذکور ہے : اس امت میں منافقین بھی ہوں گے۔ علما نے کہا کہ مومنوں کے گروہ میں منافقین کو اس لیے رکھا گیا ہے کہ منافقین دنیا میں بھی مسلمانوں کے ساتھ چھپے ہوئے رہتے تھے سو ان کو آخرت میں بھی مسلمانوں کے ساتھ چھپا ہوا رکھا گیا سو وہ ان کے ساتھ رہیں گے اور ان کے ساتھ چل پرٰں گے اور ان کے نور میں چلیں گے حتی کہ ان کے اور مومنوں کے درمیان ایک آڑ کردی جائے گی اس کے باطن میں رحمت ہے اور اس کے ظاہر میں عذاب ہے اور ان سے مومنین کا نور نکال دیا جائے گا۔

اس حدیث میں مزکور ہے : اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایک ایسی صورت میں آئے گا جو اس صورت کی غیر ہوگی جس کو وہ پہچانتے تھے۔ جن احادیث میں اللہ تعالیٰ کے آنے جانے اور اترنے چڑھنے کا ذکر ہوتا ہے ان میں اہل علم کے دو مسلک ہیں۔ متکلمین کا مذہب یہ ہے کہ ان میں بحث نہیں کرنی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم پر واجب ہے کہ ہم ان احادیث پر ایمان لائیں اور آنے جانے سے ایسے معنی کا اعتقاد رکھیں جو اللہ تعالیٰ کی جلال ذات کے لائق ہے اور اس کی عظمت کے مناسب ہے اور اس کے ساتھ یہ عقیدہ رکھیں کہ کوئی چیز اس کی مثل نہیں ہے، اور وہ جسم ہونے، منتقل ہونے اور کسی ایک جہت اور جگہ میں ہونے سے پاک ہے اور مخلوق کی تمام صفات سے منزہ ہے اور متکلمین کی ایک جماعت اور محققین کا یہی مذہب ہے اور اسی میں زیادہ سلامتی ہے۔ اس سلسلہ میں دوسرا مذہب جمہور متکلمین کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کے الفاظ میں موقع محل کے لحاظ سے تاویل کی جائے گی اور ان میں وہی شخص تاویل کرسکتا ہے جو عربی زبان کے مجازات اور محاورات سے واقف ہو۔ اصول اور فروع کا عالم ہو اور اس کو فنون عربیہ میں مہارت ہو۔ اس لیے اس حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا ہے ان کے پاس اللہ آئے گا اس کا معنی وہ اللہ کو دیکھیں گے، اور اس کی دوسری تاویل یہ کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے آنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض فرشتے آئیں گے۔ قاضی عیاض نے کہا ہے کہ یہ تاویل زیادہ مناسب ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہے کہ فرشتہ ان کے پاس اس صورت میں آیا جس کو وہ پہچانتے نہیں تھے اور اس پر حادث ہونے کی علامات ظاہر تھیں جیسی علامات مخلوق میں ہوتی ہیں۔ اس لیے جب وہ فرشتہ کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں تو مومنین کہیں گے ہم تم سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں، ہم یہیں پر رہیں گے حتی کہ ہمارے پاس ہمارا رب آجائے یا پھر آپ کے ارشاد : اللہ ان کے پاس ایسی صورت میں آئے گا کا معنی یہ ہے کہ اللہ ان کے پاس فرشتوں یا مخلوق کی صورتوں میں سے کسی ایسی صورت میں ظاہر ہوگا کہ وہ صورت اللہ تعالیٰ کی صفات کے مشابہ نہیں ہوگی تاکہ ان کو آزمائے اور یہ مومنین کا آخری امتحان ہوگا اور جب ان سے فرشتہ کہے گا یا اللہ تعالیٰ ایسی صورت میں فرمائے گا میں تمہارا رب ہوں، اور وہ اس فرشتہ یا اس صورت میں مخلوق کی علامات دیکھیں گے تو وہ اس کا انکار کریں گے اور ان کو یقین ہوچکا ہوگا کہ وہ ان کا رب نہیں ہے اور وہ اس سے اللہ کی پناہ طلب کریں گے۔

نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے پھر اللہ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جس کو وہ پہچانتے تھے۔ یہاں صورت سے مراد صفت ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس صفت کے ساتھ ان پر تجلی فرمائے گا جس صفت کو وہ جانتے اور پہچانتے تھے اور مومنوں نے ہرچند کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا تھا لیکن جب وہ یہ دیکھیں گے کہ یہ صورت مخلوقات کے بالکل مشابہ نہیں ہے اور ان کو یہ معلوم ہے کہ مخلوق میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے مشابہ نہیں ہے تو ان کو یقین ہوجائے گا کہ یہ ان کا رب ہے۔ لہذا وہ کہیں گے کہ تو ہمارا رب ہے۔

نیز اس حدیث میں ہے : پھر وہ اس کے پیچھے چل پڑیں گے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت کی طرف جانے کا حکم دے گا اور وہ اس کے حکم کے موافق چل پڑیں گے یا وہ فرشتوں کے پیچھے پیچھے چل پڑیں گے جو ان کو جنت کی طرف لے جائیں گے۔ (صحیح مسلم بشرح النواوی ج ١ ص ١٠٠٨، ١٠٠٩، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 86