وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ(۸۴)

اور (ف۱۷۳) مدین کی طرف ان کے ہم قوم شعیب کو (ف۱۷۴) کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہاراکوئی معبود نہیں (ف۱۷۵) اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو بےشک میں تمہیں آسودہ حال(مالدار وخوشحال) دیکھتا ہوں (ف۱۷۶) اور مجھے تم پر گھیر لینے والے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۱۷۷)

(ف173)

ہم نے بھیجاباشندگانِ شہر ۔

(ف174)

آپ نے اپنی قوم سے ۔

(ف175)

پہلے تو آپ نے توحید و عبادت کی ہدایت فرمائی کہ وہ تمام اُمور میں سب سے اہم ہے اس کے بعد جن عاداتِ قبیحہ میں وہ مبتلا تھے اس سے منع فرمایا اور ارشاد کیا ۔

(ف176)

ایسے حال میں آدمی کو چاہیئے کہ نعمت کی شکر گزاری کرے اور دوسروں کو اپنے مال سے فائدہ پہنچائے نہ کہ ان کے حقوق میں کمی کرے ۔ ایسی حالت میں اس خیانت کی عادت سے اندیشہ ہے کہ کہیں اس عادت سے محروم نہ کر دیئے جاؤ ۔

(ف177)

کہ جس سے کسی کو رہائی مُیسَّر نہ ہو اور سب کے سب ہلاک ہو جائیں ، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس دن کے عذاب سے عذابِ آخرت مراد ہو ۔

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۸۵)

اور اے میری قوم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دو اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﳛ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ(۸۶)

اللہ کا دیا جو بچ رہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو (ف۱۷۸) اور میں کچھ تم پر نگہبان نہیں (ف۱۷۹)

(ف178)

یعنی مالِ حرام ترک کرنے کے بعد حلال جس قدر بھی بچے وہی تمہارے لئے بہتر ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ پورا تولنے اور ناپنے کے بعد جو بچے وہ بہتر ہے ۔

(ف179)

کہ تمہارے افعال پر دارو گیر کروں ۔ عُلَماء نے فرمایا ہے کہ بعض انبیاء کو حرب کی اجازت تھی جیسے حضرت موسٰی ، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان علیہم السلام و غیرہم ۔ بعض وہ تھے جنہیں حرب کا حکم نہ تھا حضرت شعیب علیہ السلام انہیں میں سے ہیں ، تمام دن وعظ فرماتے اور شب تمام نماز میں گزارتے ، قوم آپ سے کہتی کہ اس نماز سے آپ کو کیا فائدہ ؟ آپ فرماتے نماز خوبیوں کا حکم دیتی ہے برائیوں سے منع کرتی ہے تو اس پر وہ تَمسخُر سے یہ کہتے جو اگلی آیت میں مذکور ہے ۔

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُاؕ-اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ(۸۷)

بولے اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ دیں (ف۱۸۰) یا اپنے مال میں جو چاہیں نہ کریں (ف۱۸۱) ہاں جی تمہیں بڑےعقل مند نیک چلن ہو

(ف180)

بُت پرستی نہ کریں ۔

(ف181)

مطلب یہ تھا کہ ہم اپنے مال کے مختار ہیں چاہے کم ناپیں چاہے کم تولیں ۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًاؕ-وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُؕ-اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُؕ-وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِؕ-عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ(۸۸)

کہا اے میری قوم بھلا بتاؤ تو اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں (ف۱۸۲) او راس نے مجھے اپنے پاس سے اچھی روزی دی (ف۱۸۳) اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اسکا خِلاف کرنے لگوں (ف۱۸۴) میں تو جہاں تک بنے سنوارنا ہی چاہتا ہوں اور میری توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف رجوع ہوتا ہوں

(ف182)

بصیر ت و ہدایت پر ۔

(ف183)

یعنی نبوّت و رسالت یا مالِ حلال اور ہدایت و معرفت ۔ تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں بُت پرستی اور گناہوں سے منع نہ کروں کیونکہ انبیاء اسی لئے بھیجے جاتے ہیں ۔

(ف184)

امام فخر الدین رازی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ قوم نے حضرت شعیب علیہ السلام کے حلیم و رشید ہونے کا اعتراف کیا تھا اور ان کا یہ کلام استہزاء نہ تھا بلکہ مُدّعا یہ تھا آپ باوجودِ حلم و کمالِ عقل کے ہم کو اپنے مال میں اپنے حسبِ مرضی تصرُّف کرنے سے کیوں منع فرماتے ہیں ؟ اس کا جواب جو حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ جب تم میرے کمالِ عقل کے معترِف ہو تو تمہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ میں نے اپنے لئے جو بات پسند کی ہے وہ وہی ہو گی جو س0ب سے بہتر ہو اور وہ خدا کی توحید اور ناپ تول میں ترکِ خیانت ہے ، میں اس کا پابندی سے عامل ہوں تو تمہیں سمجھ لینا چاہیئے کہ یہی طریقہ بہتر ہے ۔

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍؕ-وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ(۸۹)

اور اے میری قوم تمہیں میری ضد یہ نہ کموادے(برا کام کروا دے) کہ تم پر پڑے جو پڑا تھا نوح کی قوم یا ہود کی قوم یا صالح کی قوم پر اور لوط کی قوم تو کچھ تم سے دور نہیں (ف۱۸۵)

(ف185)

انہیں کچھ زیادہ زمانہ نہیں گزرا ہے نہ وہ کچھ دور کے رہنے والے تھے تو ان کے حال سے عبرت حاصل کرو ۔

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِؕ-اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ(۹۰)

اور اپنے رب سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ بےشک میرا رب مہربان محبت والا ہے

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًاۚ-وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ٘-وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ(۹۱)

بولے اے شعیب ہماری سمجھ میں نہیں آتیں تمہاری بہت سی باتیں اور بےشک ہم تمہیں اپنے میں کمزور دیکھتے ہیں (ف۱۸۶) اور اگر تمہارا کنبہ نہ ہوتا (ف۱۸۷) تو ہم نے تمہیں پتھراؤ کردیا ہوتا اور کچھ ہماری نگاہ میں تمہیں عزت نہیں

(ف186)

کہ اگر ہم آپ کے ساتھ کچھ زیادتی کریں تو آپ میں مدافعت کی طاقت نہیں ۔

(ف187)

جو دین میں ہمارا موافق ہے اور جس کو ہم عزیز رکھتے ہیں ۔

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّاؕ-اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ(۹۲)

کہا اے میری قوم کیا تم پر میرے کنبہ کا دباؤ اللہ سے زیادہ ہے (ف۱۸۸) اور اسے تم نے اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال رکھا (ف۱۸۹) بےشک جو کچھ تم کرتے ہو سب میرے رب کے بس میں ہے

(ف188)

کہ اللہ کے لئے تو تم میرے قتل سے باز نہ رہے اور میرے کُنبہ کی وجہ سے باز رہے اور تم نے اللہ کے نبی کا تو احترام نہ کیا اور کُنبے کا احترام کیا ۔

(ف189)

اور اس کے حکم کی کچھ پروا نہ کی ۔

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌؕ-سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌؕ-وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ(۹۳)

اور اے قوم تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں اب جانا (جاننا)چاہتے ہو کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے گا اور کون جھوٹا ہے (ف۱۹۰) اور انتظار کرو (ف۱۹۱) میں بھی تمہارے ساتھ انتظار میں ہوں

(ف190)

اپنے دعاوٰی میں یعنی تمہیں جلد معلوم ہو جائے گا کہ میں حق پر ہوں یا تم اور عذابِ الَہی سے شقی کی شقاوت ظاہر ہو جائے گی ۔

(ف191)

عاقبتِ امر اور انجامِ کار کا ۔

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ(۹۴)

اور جب (ف۱۹۲) ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرماکر بچالیا اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا (ف۱۹۳) تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے

(ف192)

ان کے عذاب اور ہلاک کے لئے ۔

(ف193)

حضرت جبریل علیہ السلام نے ہیبت ناک آواز سے کہا ” مُوْتُوْا جَمِیْعاً ” سب مر جاؤ ، اس آواز سے دہشت سے ان کے دم نکل گئے اور سب مرگئے ۔

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَاؕ-اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠(۹۵)

گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے ارے دور ہوں مدین جیسے دور ہوئے ثمود (ف۱۹۴)

(ف194)

اللہ کی رحمت سے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کبھی دو اُمّتیں ایک ہی عذاب میں مبتلا نہیں کی گئیں بجُز حضرت شعیب و صالح علیہما السلام کی اُمّتوں کے لیکن قومِ صالح کو ان کے نیچے سے ہولناک آواز نے ہلاک کیا اور قومِ شعیب کو اوپر سے ۔