46 سال گزرنے کے بعد بھی قبور میں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اجسام محفوظ ❤️

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا

عبد الرحمن بن صعصعہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن جموح اور حضرت عبداللہ بن عمرو انصاری جو غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے۔انکی قبر چونکہ پانی کے بہاؤ کے نزدیک تھی اسلئے پانی کی وجہ سے خستہ ہوگئی۔ اور دونوں حضرات ایک ہی قبر میں آسودہ خاک تھے۔انکی میتوں کی دوسری جگہ منتقلی کیلئے جب انکی قبر کھودی گئی ۔تو انکے اجسام اسی حالت میں تھے جس میں وہ شہید ہوے تھے۔ گویا ابھی کل ہی انکا انتقال ہوا ھے۔ ان میں سے کسی ایک کو زخم لگا تھا انہوں نے اپنا ہاتھ زخم پر رکھ لیا تھا۔جب انھیں دفن کیا جانے لگا تو وہ ہاتھ وہاں سے ہٹانے کی کوشش کی گئی تو ہاتھ پھر وہیں آگیا۔

اجسام کی منتقلی کا یہ واقعہ غزوہ احد جے رونما ہوئے کے 46 برس بعد پیش آیا ۔

(موطا امام مالک، کتاب الجہاد، باب الدفن فی قبر واحد، جلد دوم، ص 630،631 البشری)

نوٹ۔اس روایت سے مرزا جہلمی کے فضول مؤقف کا بھی رد ہوگیا جو اس نے کہا کہ عام لوگ تو دور کی بات ھے وہ صحابہؓ اکرام جنکا مثلہ ہوا انکے اجسام محفوظ نہیں رھے معاذاللہ

احمدرضارضوی