انجینئر محمد علی مرزا کی reverse engineering

آئیے انجینئر محمد علی مرزا کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کیلیے ہمیں reverse engineering

کی ضرورت پڑے گی یعنی انجینئر صاحب کی شخصیت کی deconstruction کرکے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسے کردار کس طرح تخلیق ہوتے ہیں۔

ہم انجینئر محمد علی مرزا کو ایک کردار کے طور پر لیتے ہیں ایک ایسا کردار کہ جو ایک مخصوص میڈیم پر مشہور ہے نوجوانوں کا ایک طبقہ جس کی پیروی کرتا ہے جو loud ہے اور اپنی بلند آہنگی سے اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرنے کے فن سے واقف ہے مذہب اس کا اصل موضوع ہے لیکن مذہب کی پیشکش کا انداز داعیانہ نہیں بلکہ طنز و مزاح میں لپٹا ہوا ہے ، ایک ایسا کردار کہ جو لوگوں کو یہ باور کرواتا ہے کہ تاریخ اسلامی ایک کھلی کتاب کی طرح اس کے سامنے موجود ہے اور وہ سلف سے خلف تک کسی بھی شخصیت کسی بھی نظریے اور کسی بھی منہج و مکتب فکر کی دھجیاں بکھیر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ایک ایسا کردار کہ جس کے اندر نرگسیت بھی دکھائی دیتی ہے اور عجب بھی نظر آتا ہے اور یہ کردار اکثر الہامی تیقن سے بات کرتا ہے ، ہر دوسرے گروہ کی تجہیل و تذلیل اس کے مزاج کا حصہ ہے۔

ممکن ہے کہ شہرت کی طلب چاہے جانے کی خواہش مقتدا بن جانے کی آزرو نے انجینئر صاحب کی شخصیت سازی اس انداز سے کی ہو کہ وہ اپنے blind followers کی ایک جماعت تشکیل دینے کے طالب ہوں اور علمی پذیرائی سے زیادہ انہیں تقلیدی انداز کی پیروی پسند آتی ہے وہ اکثر سید مودودی رح کا ذکر کرتے ہیں ممکن ہے کہ وہ خود بھی مجدد بننے اور کہلائے جانے کے خواہاں ہوں اور اپنے پیچھے ایک ایسی جماعت چھوڑ جانے کی آرزو رکھتے ہوں کہ جو انکی ہر ہر رائے کی مدافعت کرتی رہے لیکن بظاہر مرزا صاحب میں یہ صلاحیت دکھائی نہیں دیتی اور عین ممکن ہے کہ یہ بات انہیں سخت ناگوار گزرتی ہو اور یہی ناگواری ان کے لہجے کی تلخی میں در آتی ہو۔

لیکن سوال یہ ہے کہ انجینئر محمد علی مرزا کیسے بنا جاسکتا ہے کیا اس کا کوئی مخصوص فارمولا کوئی خاص طریقہ کار کوئی پوشیدہ recipe ہے آخر وہ کون سے ingredients ہیں کہ جو انجینئر محمد علی مرزا تشکیل دے سکتے ہیں۔

چلیے ہم انجینئر محمد علی مرزا کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی انجینئر کے کردار کے building blocks ایک دوسرے سے الگ کرکے ان سے ایک نئی عمارت بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

عنوان ؛ انجینئر محمد علی مرزا

میڈیم ؛ سوشل میڈیا

شعبہ ؛ مذہب

منہج ؛ تنقید

تخصص ؛ اختلافی اور متنازعہ مسائل

اب ہم ایک گراؤنڈ بناتے ہیں ہمارا دائرہ کار مذہبی مباحث ہیں اور ہمارا تخصص اختلافی مسائل میں ہے ہمارے سامنے اسلامی تاریخ میں پیدا ہونے والے سیاسی ، سماجی ، اعتقادی ، فقہی ، منہجی اختلافات کی ایک طویل فہرست ہے اور ان میں سے ہر ایک اختلاف پر ہر دو اطراف سے کتب کے دفاتر موجود ہیں یاد رہے کہ اختلاف جتنا بڑا ہوگا تنقید اتنی ہی بڑی ہوگی اور تنقید جتنی بڑی ہوگی شہرت اتنی ہی زیادہ ملے گی یعنی ایکویشن کچھ یوں بنے گی۔

اختلاف+متنازعہ موقف = تنقید

اب جتنی تنقید ہوگی اتنی ہی شہرت ہوگی

جتنا شور ہوگا اتنا ہی نام ہوگا

بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ کسی بھی طرح موضوع گفتگو بنے رہیں آپ کی بابت بات ہوتی رہے اور اس کیلیے آپ کو مسلسل کوئی نہ کوئی متنازعہ رائے دیتے رہنا ہوگی کیونکہ کہ جب بھی یہ پراسیس رکا لوگ آپ کے بارے میں بات کرنے سے رک جائیں گے اور آپ آہستہ آہستہ پس منظر میں جاتے چلے جائیں گے اور پس منظر میں چلے جانا ڈرامے کے کسی بھی کردار کی موت ہوتی ہے یاد رہے سٹیج پر وہی فنکار زیادہ پذیرائی لیتا ہے کہ جس کی جگت سب سے زیادہ bold ہو اور وہ عوام کو انگیج کرنے کے فن سے واقف ہو۔

اب ہم انجینئر صاحب کے کردار کی مزید پرتیں کھولتے ہیں ، کوئی بھی کردار اختلافی اور متنازعہ مسائل کو لے کر مشہور تو ہو سکتا ہے مگر اس کی sustainability کیا ہوگی کوئی بھی گمک کتنے عرصے چل سکتا ہے پرو ریسلنگ کی مثال لیجیے ایک کردار ہے ہلک ہوگن وہ اپنی شہرت کی پیک پر پہنچ کر اپنے لیے پیدا ہونے والی دلچسپی ختم کر لیتا ہے پھر ایک کردار شان مائیکل سامنے آتا ہے اور اسکی طبعی عمر پوری ہو جاتی ہے پھر ایک کردار راک سامنے آتا ہے اس کے بعد جان سینا سامنے آتا ہے۔

نکتہ یہ ہے کہ لوگ ایک ہی طرح کے کرداروں سے پریشان ہو جاتے ہیں اس لیے چہرے بدل بدل کر نئے گیٹپ اور نئے انداز میں ایک نیا کردار سامنے لانے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ درحقیقت یہ تمام کردار ایک بڑے ڈرامے کا حصہ ہیں کہ جو کہیں اور لکھا جاتا ہے۔

اب غور کیجیے sustainability کیلیے ایک بڑا دعویٰ درکار ہے یعنی مجدد، محقق، مفکر و مصلح جیسے کسی عنوان کی ضرورت ہے ، تجدد کے بھٹیار خانے سے جتنے بھی پتھر کے صنم نکل کر سامنے آتے ہیں ان کے پاس اسی قسم کے دعووں کی بھرمار ہوتی ہے۔

لیکن کیا واقعی یہ تحقیق کا میدان ہے یہ کوئی حقیقی thought process ہے اس کے پیچھے واقعی عرق ریزی ہے کیا واقعی معاملات و واقعات کی حقیقت ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے یا پھر کسی کے اگلے ہوئے کی ہی جگالی کی جا رہی ہے، اگلی چند سطور میں ہم اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ٹیسٹ کیس 1

اعتقادی مسئلہ

عنوان ؛ نور و بشر

اب اس ایک مسئلے پر بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں ہزاروں مباحث موجود ہیں اور یہ کوئی نئی بحث نہیں ہے کرنا صرف یہ ہے کہ مسئلے پر موجود کسی ایک رائے کو لے کر اسے عوام میں بیان کردیں بنے بنائے دلائل سوالات و جوابات پہلے سے موجود ہیں آپ کے ذمے کوئی محنت نہیں ہے کیونکہ اس پر پہلے سے محنت ہو چکی ہے۔

ٹیسٹ کیس 2

تاریخی مسئلہ

عنوان ؛ جمل و صفین

یہ بھی ایک ایسی گفتگو ہے کہ جس پر قدیم و جدید کتب کے دفاتر موجود ہیں مباحث کے انبار لگے ہوئے ہیں امت کے دو بڑے فرقے اس کے پیچھے ہیں کرنا یہ ہے کہ کوئی بھی ایک سائیڈ لے کر اس پر پہلے سے موجود دلائل عوام کے سامنے پیش کردیں آپ کو کسی تحقیقی عمل سے نہیں گزرنا کسی research methodology کی پیروی نہیں کرنی یہ ایک بنی بنائی دیگ ہے یہ ایک پکی پکائی ہنڈیا ہے آپ کا کام صرف پرات کی ڈھکنی ہٹانا ہے اور بس۔

ٹیسٹ کیس 3

فقہی مسئلہ

عنوان ؛ تراویح کی رکعات

یہ بھی ایک ایسی گفتگو ہے کہ جو صدیوں سے جاری ہے کرنا کچھ بھی نہیں صرف پرانے دلائل اٹھائیں اور کاپی کرکے آگے پیسٹ کردیں اور محقق کا نام پائیں۔

اب ہم گفتگو کو مزید گہرائی میں لے جاتے ہیں اور انجینئر صاحب کے کردار Act کی مزید تحلیل کرتے ہیں بقول ژاک دریدا deconstruction کرتے ہیں۔

دیکھیے آپ کو مختلف سمتوں میں معروف ہونا ہے تو صرف معروف اعتقادی فقہی تاریخی مسائل کے اختلاف کو نہیں لیں گے بلکہ اختلاف و تائید کا ایک جال بچھائیں گے تاکہ سب آپ سے relate کرسکیں لیکن آپ کی relationship کسی سے ثابت نہ ہو تجدد پسندی کا یہ ایک جدید رخ ہے۔

مثال کے طور پر ایک مسئلہ کسی ایک مسلک کا لیا دوسرا کسی دوسرے مسلک کا لیا تیسرا کسی تیسرے مسلک سے لیا اسی طرح کسی ایک مسلک کے کسی ایک مسئلے کی مخالفت کی دوسرے مسلک کے کسی دوسرے مسئلے کی مخالفت کی تیسرے مسلک کے کسی تیسرے مسئلے سے اختلاف کیا یعنی ایک مکس پلیٹ تشکیل دے دی لیجیے ایک شاندار ذائقہ دار مزید اور چٹپٹا محقق تیار ہے۔

دوسری جانب اپنی credibility ثابت کرنے کیلئے

آپ کو بڑی بڑی شخصیات پر ہاتھ ڈالنا ہوگا انجینئر صاحب صحابہ رض سے مشق ستم کا آغاز کرتے ہیں سب سے آسان نشانہ کون ہے ، انجینئر صاحب سیدنا معاویہ رض کو نشانہ بناتے ہیں ، پھر تابعین پر آتے ہیں ، آئمہ پر طعن کستے ہیں محدثین پر اعتراض کرتے ہیں مجددین پر تنقید کرتے ہیں غور کیجیے جتنی بڑی شخصیت اتنی زیادہ ناموری یہاں تک کہ ادبی دنیا میں ٹانگ اڑانے سے بھی نہیں چوکتے اور ہاتھ بھی کس پر ڈالتے ہیں جی ہاں اقبال رح پر۔

ایک اور نکتہ اپنے دور سے relevant رہنے کا ہے جب تک آپ کے دور کی معروف شخصیات آپ کو acknowledge نہ کر لیں آپ خود کو مستحکم تصور نہیں کر سکتے عوام میں شہرت مولانا طارق جمیل صاحب سے میٹھی میٹھی ملاقات سے مل سکتی ہے غامدی صاحب کی تعریف کرکے یا طارق مسعود صاحب سے مباحثہ کرکے بھی آپ نمایاں ہو سکتے ہیں لیکن جناب مفتی تقی عثمانی دامت برکاتہم کو مناظرے کی دعوت مفتی منیب کو چیلینج ڈاکٹر ذاکر نائیک کو مقابلے کا سندیش لازمی امر ہے کہ ان شخصیات نے جواب تو دینا نہیں تو پھر یکطرفہ فتح اور جیت کا جشن۔

اس سے اگلا پڑاؤ ہے کوئی انوکھی بات جیسے آنلائن جماعت ، عذاب قبر ، معراج ، پردے کا انکار وغیرہ لیکن یہ تمام آراء تو آ چکیں تو پھر کسی نئی کسی جدید درفنتنی کی ضرورت جیسے منکرین ختم نبوت کو اہل کتاب قرار دینا وغیرہ۔

ایک اور اہم نکتہ ہے مظلومیت کارڈ آپ تمام مسالک و مکاتب فکر سلف و خلف کی آراء سے اختلاف کیجیے اب اگر کوئی آپ سے اختلاف کیا کرے تو آپ مظلوم بن جائیے کہ دیکھیے یہ فرقہ پرست یہ مسلک پسند میرے مخالف ہوگئے ایسے میں مختلف نام استعمال کیجیے کبھی سید مودودی رح کا نام استعمال کریں کبھی ڈاکٹر اسرار احمد رح کا نام استعمال کریں کبھی حافظ زبیر علی زئی رح کا نام استعمال کریں لیجیے اب آپ سرٹیفائیڈ مجدد ہوگئے۔

جب ہم انجینئر محمد علی مرزا کے ایکٹ کی deconstruction کرتے اس کے عناصر اور ہیت ترکیبی کو الگ الگ دیکھتے ہیں تو ہمارے سامنے ایک محقق کی تصویر نہیں آتی ہمارے سامنے ایک کردار آتا ہے کہ جس نے اپنی پیشانی پر محقق کا ٹیگ لگا رکھا ہے اور لوگ باگ ان کی فیس ویلیو کے پیچھے دوڑے چلے جا رہے ہیں۔

یہاں گفتگو کسی فرد کی نہیں بلکہ ایک کردار کے مختلف پہلوؤں سے ہے اور یہ کوئی نیا کردار بھی نہیں بلکہ ایسے بہت سے پرانے کرداروں کی ایک نئی شکل ہے اور عوام اکثر نئی پیکنگ میں پرانی چیزوں کو خرید لیا کرتی ہے۔

حسیب احمد حسیب