أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبۡتُ عَلَى الَّذِيۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِيۡهِ‌ؕ وَاِنَّ رَبَّكَ لَيَحۡكُمُ بَيۡنَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ فِيۡمَا كَانُوۡا فِيۡهِ يَخۡتَلِفُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

ہفتہ کا دن تو صرف ان لوگوں پر لازم کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا اور بیشک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان چیزوں کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہفتہ کا دن تو صرف ان لوگوں پر لازم کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا اور بیشک آپ کا رب ان کے درمیان قیامت کے دن ان چیزوں کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ (النحل : ١٢٤ )

یہودیوں کا ہفتہ کو اور عیسائیوں کا اتوار کو عبادت کے لیے مخصوص کرنا :

ہفتہ کے دن جو انہوں نے اختلاف کیا تھا،

اس کی تفصیل میں امام عبدالرحمن جوزی متوفی ٥٩٣ ھ لکھتے ہیں :

حضرت موسیٰ نے بنو اسرائیل سے فرمایا ہفتہ کے دنوں میں سے ایک دن اللہ کے لیے فارغ کرلو اور جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس دن تم اپنے کاموں میں سے کوئی کام نہ کرو۔ انہوں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا ہم اسی دن کو عبادت کے لیے مقرر کرنا چاہتے ہیں جس دن اللہ تعالیٰ مخلوق کی تخلیق سے فارغ ہوگیا اور وہ ہفتہ کا دن ہے۔ پس ان کے لیے ہفتہ کا دن مقرر کردیا گیا پھر ان پر اس دن کی عبادت کرنے میں سختی کی گئی۔ یہ ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے، اور مقاتل نے بیان کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ نے ان کو جمعہ کا دن عبادت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے کہا ہم ہفتہ کے دن کو فارغ کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دن میں کوئی چیز پیدا نہیں کی، حضرت موسیٰ نے فرمایا مجھے تو جمعہ کے دن کا حکم دیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کے علما نے کہا تم اپنے نبی کے حکم کی تعمیل کرو۔ بنو اسرائیل نے اپنے علما کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردی اور یہ ان کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے، جب حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ یہ ہفتہ کے دن کو مقرر کرنے پہ بہت حریص ہیں تو آپ نے انہیں ہفتہ کے دن کو مقرر کرنے کا حکم دے دیا، اور انہوں نے اس دن میں گناہ کرنے شروع کردیئے، اور قتادہ نے کہا ہے کہ بعض یہودیوں نے ہفتہ کے دن کو حلال قرار دیا اور بعض نے حرام قرار دیا۔ (زاد المسیر ج ٤ ص ٥٠٥، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

امام رازی نے لکھا ہے ان کے بعد حضرت عیسیٰ آئے، ان کو بھی جمعہ کے دن کا حکم دیا گیا، نصاری نے کہا ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہماری عید ان کی عید سے پہلے ہو اور انہوں نے اتوار کا دن اپنا لیا۔ (تفسیر کبیر ج ٧ ص ٢٨٦، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

مسلمانوں کا جمعہ کے دن کی ہدایت کو پانا :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہم (بعثت میں) آخر ہیں اور قیامت کے دن سابق ہوں گے۔ البتہ ان کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی ہے پھر یہ (جمعہ کا دن) وہ دن ہے جو ان پر فرض کیا گیا تھا، انہوں نے اس دن میں اختلاف کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دن کی ہدایت دے دی، لوگ اس (دن) میں ہمارے تابع ہیں، یہود (جمعہ کے بعد) اگلا دن مانتے ہیں اور نصاری اس کے بعد والا دن۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٧٦، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٥٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ١٣٦٧، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٣٩٥، عالم الکتب)

علامہ ابن بطال مالکی متوفی ٤٤٩ ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا ان پر بعینہ جمعہ کا دن فرض ہوا تھا اور انہوں نے اس کو ترک کردیا، کیونکہ کسی مومن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کے فرض کو ترک کردے۔ البتہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ ان پر ہفتہ میں سے کوئی ایک دن فرض کیا گیا تھا اور ان کے اختیار کے سپرد کردیا گیا تھا کہ اس دن میں اپنی شریعت قائم کریں پھر انہوں نے اس میں اختلاف کیا کہ اس کے لیے کونسا دن مقرر کریں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جمعہ کے دن کی ہدایت نہیں دی اور جمعہ کے دن کو اس امت کے لیے ذخیرہ کر رکھا تھا، اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس امت کو جمعہ کے دن کی ہدایت دے دی اور اس وجہ سے اس امت کو باقی تمام امتوں پر فضیلت دی گئی ہے، کیونکہ جن دنوں میں سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے افضل دن جمعہ کا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس دن کو یہ فضیلت دی ہے کہ اس دن میں وہ ساعت ہے جس میں اللہ تعالیٰ دعا قبول فرماتا ہے (شرح صحیح البخاری لابن بطال، ج ٢ ص ٤٧٥، ٤٧٦، مطبوعہ مکتبہ الرشید ریاض، ١٤٢٠ ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

علامہ نووی نے یہ کہا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہودیوں کو صراحتا جمعہ کے دن کا حکم دیا گیا ہو، پھر انہوں نے اس میں اختلاف کیا کہ آیا ان پر جمعہ کے دن کی تعیین لازم ہے یا ان کے لیے جمعہ کے دن کو کسی اور دن کے ساتھ تبدیل کرنے کی گنجائش ہے، پھر انہوں نے اجتہاد کیا اور اس میں خطا کی اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ امام ابن جریر نے سند صحیح کے ساتھ مجاہد سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

انما جعل السبت علی الذین اختلفوا فیہ۔ (النحل : ١٢٤) ہفتہ کا دن تو صرف ان لوگوں پر لازم کیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا تھا۔

مجاہد نے کہا انہوں نے جمعہ کا ارادہ کیا تھا پھر اس میں خطا کی اور اس کی جگہ ہفتہ کا دن مقرر کرلیا۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٦٥٩٦) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس اختلاف سے مراد یہود اور نصاری کا اختلاف ہو اور یہودیوں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرنا کوئی بعید نہیں ہے۔ ان سے کہا گیا تھا کہ دروازہ سے جھکتے ہوئے جانا اور حطۃ کہنا۔ انہوں نے اس قول کو تبدیل کرلیا، اور وہ کہتے تھے سمعنا وعصینا ہم نے سنا اور اس کی مخالفت کی، اور امام عبدالرزاق نے سند صحیح کے ساتھ محمد بن سیرین سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے سے پہلے اہل مدینہ جمع ہوئے۔ پس انصار نے کہا یہود کا ایک دن ہے جس میں وہ ہر ہفتے میں ایک دن جمعہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح نصاری کا بھی ایک دن ہے، آؤ ہم بھی ایک دن مقرر کرلیں اس دن ہم جمع ہو کر اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور نماز پڑھیں پھر انہوں نے جمعہ کا دن مقرر کرلیا۔ یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے لیکن اس کی سند حسن ہے، اور امام احمد اور امام ابو داؤد اور امام ابن ماجہ نے اور دیگر ائمہ حدیث نے روایت کیا ہے حضرت کعب بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے سے پہلے مدینہ میں ہم کو سب سے پہلے اسعد بن زرارہ نے نماز جمعہ پڑھائی اور چالیس مسلمانوں نے نماز جمعہ پڑھی۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ١٠٦٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٠٨٢) اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان صحابہ نے اپنے اجتہاد سے نماز جمعہ پڑھی اور اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے، اس وقت آپ کو نماز جمعہ کا حکم دیا گیا ہو لیکن وہاں آپ نماز جمعہ قائم کرنے پر قادر نہ تھے، لہذا مدینہ میں آکر سب سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز جمعہ قائم کی۔ جیسا کہ امام ابن اسحاق نے روایت کیا ہے، مسلمانوں نے اپنے اجتہاد سے جو جمعہ کا دن اختیار کیا اس کی حکمت یہ ہے کہ جمعہ کے دن ہی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی اور انسان کو عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس لیے مناسب یہ ہے کہ وہ جمعہ کے دن عبادت میں مشغول ہو، اور اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن موجودات کو مکمل کیا اور اسی دن انسان کو پیدا کیا تاکہ وہ ان سے نفع حاصل کرے۔ اس لیے مناسب یہ تھا کہ وہ اس دن عبادت کرکے اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ (فتح الباری ج ٢ ص ٣٥٦، مطبوعہ ل اورہ، التوشیح للسیوطی ج ٢ ص ٥، مطبوعہ بیروت، ١٤٢٠ ھ)

جمعہ کے دن کی چھٹی کا مسئلہ :

آج کل دنیا میں یہودی ہفتہ کے دن چھٹی کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کا مذہبی مقدس دن ہے اور عیسائی اور ان کے زیر اثر یورپی ممالک اتوار کے دن چھٹی کرتے ہیں، کیونکہ یہ ان کا مزہبی مقدس دن ہے اور مسلمان ملکوں میں جمعہ کے دن چھٹی کی جاتی ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کا مقدس دن ہے۔ انگریزی میں چھٹی کے دن کو Holy Day کہتے ہیں۔ یعنی مقدس دن اور عیسائیوں کا مقدس دن اتوار ہے اس لیے وہ اتوار کے دن چھٹی کرتے ہیں تاکہ دنیاوی کام کام سے اتوار کے دن عبادت کے لیے فارغ ہوجائیں اور اب بھی عیسائی اتوار کے دن چرچ میں جاکر عبادت اور خصوصی دعا کرتے ہیں۔

مسلمانوں کے ابتدائی دور میں چھٹی کا کوئی رواج اور دستور نہیں تھا، وہ ہفتہ کے تمام ایام میں کام کاج بھی کرتے تھے، کاروبار بھی کرتے تھے، محنت مزدوری اور ملازمت بھی کرتے تھے پھر جب دنیا میں یہ شعور پیدا ہوا کہ ہفتہ میں ایک دن کام کاج سے فراغت کا ہونا چاہیے اور عیسائیوں نے اتوار کو اور یہودیوں نے ہفتہ کو آرام اور چھٹی کے لیے مخصوص کرلیا تو مسلمانوں نے جمعہ کے دن کو مخصوص کرلیا۔ چناچہ تمام عرب ریاستوں، مشرق وسطی، انڈونیشیا، ملیشیا، افغانستان اور بنگلہ دیش وغیرہ میں جمعہ کو چھٹی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی پہلے جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی تاآنکہ یکم فروری ١٩٩٧ ء میں نواز شریف نے برسراقتدار آکر جمعہ کی چھٹی منسوخ کر کے اتوار کی چھٹی کرنے کا اعلان کیا۔

اتوار کی چھٹی کرنے کے دلائل اور ان کے جوابات :

نواز شریف کے حواریوں نے اتوار کی چھٹی پر دو دلیلیں پیش کی ہیں۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید نے جمعہ کے دن کاروبار کرنے کا امر کیا ہے اور امر وجود کے لیے آتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن کاروبار کرنا واجب ہے اور اس دن چھٹی کرنا وجوب کے منافی ہے اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن چھٹی کرنا جائز نہیں ہے۔ 

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

یا ایھا الذین امنوا اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعہ فاسعوا الی ذکر اللہ وذروا البیع، ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون۔ فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروا فی الارض وابتغوا من فضل اللہ۔ (الجمعہ : ٩، ١٠) اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن اذا دی جائے تو تم اللہ کے ذکر (نماز جمعہ) کی طرف دوڑو اور خریدوفروخت چھوڑ دو ۔ یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ اور جب نماز پوری ہوجائے تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔

اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے جمعہ کے دن کاروبار کرنے کا وجوب ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اذا جمعہ کے وقت کاروبار کرنے سے منع فرمایا ہے اور نماز کے بعد کاروبار کرنے اور اللہ کے فضل کو تلاش کرنے کا حکم دیا ہے اور ممانعت کے بعد جو امر آئے وہ وجوب کے لیے نہیں اباحت کے لیے آتا ہے۔ جیسے اذا حللتم فاصطادو میں ہے۔ پہلے محرم کو شکار سے منع فرمایا پھر احرام کھولنے کے بعد شکار کرنے کا امر فرمایا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ احرام کھولنے کے بعد اس پر شکار کرنا واجب ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ س کے لیے شکار کرنے کی ممانعت نہیں ہے، وہ چاہے تو شکار کرسکتا ہے۔ اسی طرح نماز جمعہ کے بعد کاروبار کرنے کی ممانعت نہیں ہے، مسلمان چاہیں تو کاروبار کرسکتے ہیں۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔ کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ کاروبار کرو بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نماز کے بعد عا کرو تو اپنی نماز کی ببنا پر سوال نہ کرو بلکہ اللہ کے فضل کی بنا پر سوال کرو، اور اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ عبادت کرنا بھی اللہ کے فضل سے میسر ہوتا ہے سو نماز کے بعد تم مزید اللہ کے فضل کو تلاش کرو اور اللہ تعالیٰ سے مزید اللہ کی عبادت کی توفیق مانگو۔

تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر بالفرض جمعہ کی چھٹی کرنا اس آیت سے ممنوع بھی ہو تو اس پر یہ کب لازم آتا ہے کہ خوامخواہ اتوار کی چھٹی کی جائے کسی اور دن بھی چھٹی کی جاسکتی ہے۔

اتوار کی چھٹی کے مثبتین کی دوسری دلیل یہ ہے کہ یورپی ممالک میں اتور کی چھٹی ہوتی ہے اور ان ممالک سے تجارت کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بھی اسی دن چھٹی کریں اگر ہم جمعہ کے دن چھٹی کریں تو وہ دن ہمارا کاروبار متاثر ہوگا اتوار کو ان کی چھٹی کی وجہ سے اور جمعہ کو ہماری چھٹی کی وجہ سے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان ممالک کے ساتھ جغرافیائی فرق کی وجہ سے ویسے بھی ہمارے اور ان کے اوقات کی یکسانیت نہیں ہے۔ مثلا امریکہ کا وقت ہم سے تقریبا بارہ گھنٹے پیچھے ہے، آسٹریلیا کا وقت ہم سے تقریبا دس بارہ گھنٹے پہلے ہے اور برطانیہ کا وقت پانچ گھنٹے پیچھے ہے۔ اسی طرح مشرق بعید کے ممالک کا وقت بھی ہم سے کافی مختلف ہے اس لیے اتوار کی چھٹی کرنے پر ان ممالک کی یکسانیت سے استدلال کرنا درست نہیں ہے۔ 

جمعہ کی چھٹی کرنے کے دلائل :

اسلام میں چھٹی کرنے کا کوئی حکم نہیں ہے، لیکن جب ہفتہ میں ایک دن چھٹی کرنی ہی ہے تو اس دن چھٹی کرنی چاہیے جو اسلام میں مقدس دن ہے۔ عیسائی اور یہودی اپنے اپنے مقدس دنوں میں اتوار اور ہفتہ کی چھٹی کرتے ہیں سو ہمیں اپنے مقدس دن میں چھٹی کرنی چاہیے اور وہ جمعہ کا دن ہے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ باقی تمام مسلمان ملکوں میں جمعہ کے دن چھٹی ہوتی ہے تو ہمیں بھی باقی مسلمان ملکوں سے موافقت کرتے ہوئے جمعہ کے دن چھٹی کرنی چاہیے۔ 

تیسری دلیل یہ ہے کہ اتوار کی چھٹی کرنے سے عیسائیوں کی موافقت ہوگی جبکہ ہمیں عیسائیوں کی مخالفت کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسا کہ حسب ذیل احادیث سے ظاہر ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہود اور نصاری بالوں کو نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٥٨٩٩، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٢٠٣، سنن النسائی، رقم الحدیث : ٥٢٧٢، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٢١، مسند احمد رقم الحدیث : ٧٣٧٢)

حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے اور انصار کے بوڑھوں کے پاس آئے، ان کی ڈاڑھیاں سفید تھیں، آپ نے فرمایا اے انصار کی جماعت ! اپنی ڈاڑھیوں کو سرخ اور زرد رنگ میں رنگو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو، انہوں نے کہا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اہل کتاب شلوار پہنتے ہیں اور تہبند نہیں باندھتے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شلوار پہنو اور تہبند باندھو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اہل کتاب موزے پہنچتے ہیں اور اس پر چمڑے کی جوتی نہیں پہنتے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم موزے پہنو اور اس پر چمڑے کی جوتی پہنو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اہل کتاب ڈاڑھیاں کاٹے ہیں اور مونچھیں چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تم مونچھیں تراشو اور ڈاڑھیاں چھوڑ دو اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ (مسند احمد ج ٥ ص ٢٦٤، ٢٦٥، طبع قدیم، مسنداحمد رقم الحدیث : ٢٢٦٣٩، طبع جدید عالم الکتب بیروت، حافظ زین نے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢١٨٤، دار الحدیث قاہرہ، حافظ الہیثمی نے کہا امام احمد کی سند صحیح ہے، مجمع الزوائد ج ٥ ص ١٦٠، ١٣١، المعجم الکبیر ج ٥ ص ٢٨٢، رقم الحدیث : ٧٩٢٤ )

خلاصہ یہ ہے کہ جمعہ کی چھٹی کرنے میں مسلمان ملکوں کی موافقت ہے اور اتوار کی چھٹی کرنے میں عیسائیوں کی موافقت ہے۔ اب ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم کس کی موافقت کریں اور ہمارا مقدس دن Holy day جمعہ ہے یا اتوار۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 124