أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِيۡنَ عَمِلُوا السُّوۡۤءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰ لِكَ وَاَصۡلَحُوۡۤا ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنۡۢ بَعۡدِهَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

پھر آپ کا رب، جن لوگوں نے ناواقفیت سے کوئی گناہ کیا، پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور نیک کام کیے (سو) بیشک آپ کا رب اس کے بعد ضرور بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر آپ کا رب، جن لوگوں نے ناواقفیت سے کوئی گناہ کیا، پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور نیک کام کیے (سو) بیشک آپ کا رب اس کے بعد ضرور بہت بخشنے والا، بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (النحل : ١١٩)

اس آیت پر یہ سوال ہوتا ہے کہ جو شخص لاعلمی یا ناواقفیت کی وجہ سے کوئی گناہ کرے اس پر تو شرعی قواعد کے اعتبار سے ویسے ہی گرفت نہیں ہونی چاہیے۔ مثلا کسی شخص کو کو کا کو لا کی بوتل میں شراب بھر کردے دی اور اس نے لاعلمی میں اس کو پی لیا تو اس پر تو ویسے ہی مواخذہ نہیں ہوتا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میری امت سے خطا اور نسیان کو اٹھا لیا گیا ہے۔ ( سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٤٥ )

اس کا جواب یہ ہے کہ جس شخص نے کفر یا کوئی اور معصیت کی اور اس کو یہ علم نہیں تھا کہ اس پر کتنا شدید عذاب ہوگا یا کتنی مدت عذاب ہوگا یا اس کا گناہ ہونا تو معلوم تھا لیکن گناہ کے ارتکاب کے وقت اس پر توجہ نہیں تھی، پھر بعد میں وہ نادم ہوا اور اس گناہ پر توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 119