غیر مقلدین و انکے ہمنوا مشرکین کی طرز فکر کی جانب رواں دواں

چند روز قبل میرے چھوٹے بھائی نے مجھے ایک غیر مقلد صاحب کا ویڈیو کلپ دیکھایا کہ جس میں وہ مولانا الیاس قادری عطاری صاحب مدظلہ کو اس وجہ سے ہدف تنقید بنا رہا تھا کہ انھوں نے اپنی کتاب فیضان سنت میں استنجاء کرنے کا سنت طریقہ بیان کیا۔

اسی طریقے کے ساتھ غیر مقلدین کے ہمنوا فقہ حنفی پر بھی استنجاء کے سنت طریقے کو بیان کرنے کے سبب لا یعنی قسم کے اعتراض کرتے ہیں اور منافقین مدینہ والا رویہ اختیار کرکے ٹھٹھا مذاق کرتے ہیں۔

جبکہ اسلام ایک کامل ضابطہ حیات ھے اور یہ بھی زندگی کا ایک حصہ ھے بلکہ غیر مقلدین احباب کو یہ مسئلہ ہماری نسبت زیادہ درپیش آتا ہوگا کیونکہ ہماری بہت ساری چیزیں انکو ہضم نہیں ہوتی ۔جیساکہ ہمارا یارسول اللہ کا نعرہ لگانا۔ تو نتیجتاً انکا پیٹ خراب ہوجاتا ھے۔

چونکہ اسلام زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ھے اسی طرح اس پہلو کی بھی اسلام نے رہنمائی کی۔

کیونکہ طہارت نصف ایمان ھے اللہ خود پاک ھے اور پاکی کو پسند کرتا ھے۔تو اس مسئلے پر اعتراض صرف اور صرف جاہل اور یہودیت کی سوچ کے ہمنوا ہی کرسکتے ہیں ۔

کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہؓ اکرام کو استنجے کا طریقہ بتاتے تو مشرکین بھی اسی طرح اعتراض کرتے تھے جسطرح کے آج کے غیر مقلدین احباب کررھے ہیں۔

حضرت عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ بعض مشرکین نے حضرت سلیمان سے مذاق کرتے ہوے پوچھا کہ میں تمھارے صاحب کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمھیں ہر چیز حتی کہ استنجاء کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں؟ حضرت سلیمان فرماتے ہیں کیوں نہیں، انہوں نے ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ ہم دوران رفع حاجت قبلہ کی جانب رخ نا کریں اور تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کریں۔

(مُصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الطہارت، باب من کان لا یستنجی بالماء ویجتزء بالحجارۃ، جلد اول، ص 309 ،الحدیث 1654 ،مترجم مکتبہ رحمانیہ)

نوٹ، کمنٹس میں آکر ٹر ٹر کرنے والے احباب تین پتھروں کو استعمال کرنے کا سنت طریقہ بیان کردیں کیونکہ اس روایت میں صرف پتھروں کا ذکر ھے۔

احمد رضا رضوی