أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِهٖ‌ۚ وَلَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَهُوَ خَيۡرٌ لِّلصّٰبِرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور اگر تم ان کو سزا دو تو اتنی ہی سزا دینا جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہے، اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر کرنے والوں کے لیے صبر بہت اچھا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تم ان کو سزا دو تو اتنی ہی سزا دینا جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہے، اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر کرنے والوں کے لیے صبر بہت اچھا ہے۔ (النحل : ١٢٦ )

بدلہ لینے میں تجاوز نہ کیا جائے :

اس آیت کے شان نزول میں یہ راویت بیان کی گئی ہے :

حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن ١٦٤ انصار شہید ہوئے اور ٦ مہاجرین شہید ہوئے، ان میں سیدنا حمزہ بھی تھے جن کو انہوں نے مثلہ کیا تھا تب انصار نے کہا اگر کسی دن ہمیں موقع ملا تو ہم بھی ان کے ساتھ اس طرح کر کے دکھا دیں گے، پھر فتح مکہ کے دن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اگر تم ان کو سزا دو تو اتنی ہی سزا دینا جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٢٩، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٨٧، المستدرک ج ٢ ص ٣٥٨، ٣٥٩، قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ٣٤١٩، جدید، دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٣ ص ٢٨٩، مسند البزار رقم الحدیث : ١٣٧٥، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٢٩٧٣، اسباب النزول ص ٢١٤، مجمع الزوائد ج ٦ ص ١٢٢ )

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ جب مظلوم ظالم سے بدلہ لے تو وہ حد سے تجاوز نہ کرے اور اتنی ہی سزا دے جتنا اس پر ظلم کیا گیا ہے۔ ابن سیرین نے کہا ہے اگر کسی شخص نے تم سے کوئی چیز چھینی ہے تو تم بھی اس سے اتنی ہی چیز لے لو۔

اس سے پہلے یہ فرمایا تھا کہ آپ لوگوں کو دین کی دعوت دیجیے، حکمت سے، موعظت حسنہ سے اور جدل سے۔ پھر جب آپ ان کو اسلام کی طرف بلائیں گے تو ان کو ان کے سابق دین سے اور ان کے آباؤ اجداد کے دین سے رجوع کرنے کا حکم دیں گے اور اس دین پر کفر اور ضلالت کا حکم لگائیں گے اور اس سے ان کے دلوں میں آپ کے خلاف نفرت اور عداوت پیدا ہوگی اور اس دعوت کو سننے والے آپ کو برا کہیں گے اور آپ کو ضرر اور ایذا پہنچائیں گے اور آپ کو قتل کرنے کے درپے ہوں گے، پھر اگر تبلیغ کرنے والے مسلمان ان کی ایذا رسانی کا بدلہ لینا چاہیں یا بدلہ لینے پر قادر ہوں تو ان کو اتنی ہی ایذا پہنچائیں جتنی ان کو ایذا پہنچائی گئی ہے۔

بدلہ لینے کے بجائے صبر کرنے میں زیادہ فضیلت ہے :

اس آیت میں مسلمانوں کو وعدل اور انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس آیت میں اس کے دو مرتبے بیان کیے گئے ہیں :

١۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر تم ان کو سزا دو تو اتنی ہی سزا دینا جتنی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہے۔ یعنی اگر تم بدلہ لینے میں رغبت کرو تو بدلہ لینے میں زیادتی نہ کرنا کیونکہ زیادتی کرنا ظلم ہے اور تم کو ظلم کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور اس طرز بیان میں یہ رمز اور تعریض ہے کہ اگر تم بدلہ لینے کو ترک کردو تو یہ تمہارے حق میں زیادہ اولی اور افضل ہے۔

٢۔ اس کے بعد جب یہ فرمایا اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر کرنے والوں کے لیے صبر بہت اچھا ہے۔ پہلے رمز اور تعریض کے طور پر فرمایا کہ بدلہ نہ لیا جائے اور اس آیت کے اس حصہ میں صراحتا فرمایا ہے کہ بدلہ نہ لیا جائے اور بدلہ لینے کی بہ نسبت صبر کرنا بہتر ہے۔

قرآن مجید کی حسب ذیل آیتوں میں بھی یہ فرمایا ہے کہ ہرچند کہ ظلم کا بدلہ لینا جائز ہے لیکن بدلہ لینے کی بجائے صبر کرنے کی بہت زیادہ فضیلت ہے۔

والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا، فمن عفا واصلح فاجر علی اللہ، انہ لا یحب الظالمین۔ ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل۔ انما السبیل علی الذین یظلمون الناس ویبغون فی الارض بغیر الحق، اولئک لھم عذاب الی۔ ولمن صبر و غفر ان زلک لمن عزم الامور۔ (الشوری : ٤٣۔ ٣٩) اور جو لوگ کسی کے ظلم کا شکار ہوں وہ بدلہ لیتے ہیں۔ اور برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے پھر جو معاف کردے اور نیکی کرے تو اس کا اجر اللہ ( کے ذمہ کرم) پر ہے بیشک اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم کے بعد بدلہ لے لیا تو ان لوگوں پر (گرفت کا) کوئی جواز نہیں۔ (گرفت کا) جواز تو صرف ان لوگوں پر ہوگا جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں، ان لوگوں کے لیے نہایت دردناک عذاب ہے۔ اور جو صبر کرے اور معاف کردے تو یہ ضرور ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 126