أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَـتُكُمُ الۡكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ لِّـتَفۡتَرُوۡا عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ‌ؕ اِنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ لَا يُفۡلِحُوۡنَؕ‏ ۞

ترجمہ:

اور جن چیزوں کے متعلق تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں ان کے بارے میں یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھو، بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جن چیزوں کے متعلق تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں ان کے بارے میں یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ تم اللہ پر جھوٹا بہتان باندھو، بیشک جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ یہ تھوڑا فائدہ ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (النحل : ١١٦، ١١٧)

اس آیت میں پہلی آیت کی تاکید ہے۔ یعنی یہی چار چیزیں حرام کی گئی ہیں۔ مشرکین اپنی طرف سے ان چار چیزوں کو حلال کہتے تھے اور انہوں نے اپنی طرف سے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے وہ جس کا دودھ دوہنا چھوڑ دیتے تھے اور اس کو بتوں کے لیے نامزد کردیتے تھے۔ سائبہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جسے وہ بتوں کے لیے آزاد چھوڑ دیتے تھے، اس کو وہ سواری کے لیے استعمال کرتے تھے نہ بار برداری کے لیے، اور وصیلہ وہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جس سے پہلی مرتبہ مادہ پیدا ہوتی اور اس کے بعد دوبارہ بھی مادہ ہی پیدا ہوتی اور ان کے درمیان کوئی نر نہیں ہوتا تھا، ایسی اونٹنی کو بھی وہ بتوں کے لیے آزاد چھوڑ دیتے تھے، اور حام وہ اس نر اونٹ کو کہتے تھے جس سے کئی بچے ہوچکے ہوتے تھے اور جب اس سے کافی بچے ہوجاتے تو وہ اس کو بھی آزاد چھوڑ دیتے اور اس سے سواری ور بار برداری کا کام نہ لیتے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے عمرو بن عامر الخزاعی کو دیکھا وہ دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا یہ وہ شخص تھا جس نے سب سے پہلے بتوں کے لیے جانوروں کو چھوڑا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٦٢٣ )

اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں اور تم یہ کہہ کر کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام ہے، اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہو۔ وہ ان چیزوں کے حرام کرنے اور حلال کرنے کو اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے، یہ ان کا دوسرا جرم تھا۔ خود کسی چیز کو حرام کرتے پھر کہتے کہ اس کو اللہ نے حرام کیا ہے، یہ لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے۔

اسی طرح آج بھی کچھ لوگ سوئم، چالیسویں، برسی اور گیارہویں کے کھانے کو اپنی طرف سے حرام کہتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان مخصوص دنوں میں کھانے کی حرمت پر کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ ان مخصوص دنوں میں میت کو ایصال ثواب کیا جاتاس ہے اور دونوں کی یہ تعیین شرعی نہیں ہوتی کہ ان کے علاوہ کسی اور دن میں ایصال ثواب کرنا جائز نہ ہو، بلکہ لوگوں کے اجتماع کے لیے سہولت کی خاطر تاریخ معین کرلی جاتی ہے جیسے جلسہ، منگنی، اور شادی کی تاریخ معین کی جاتی ہے یا جیسے مساجد میں نمازوں کے اوقات گھڑیوں کے حساب سے معین کیے جاتے ہیں۔

اسی طرح جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے واجب نہیں کیا وہ اس کو واجب اور فرض بھی کہتے ہیں۔ مثلا قبضہ بھر ڈاڑھی کو بعض فرض اور بعض واجب کہتے ہیں۔ ایسے تمام لوگ اس آیت کے مصداق ہیں جو اپنی طرف سے کسی چیز کو حلال یا حرام کہتے ہیں۔ العیاذ باللہ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 116