أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّاَنَّ الَّذِيۡنَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَةِ اَعۡتَدۡنَا لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا۞

ترجمہ:

اور یہ کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لائے ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ار شاد ہے : بیشک یہ قرآن اس راستہ کی ہدایت دیتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا اور مستحکم ہے اور جو ایمان والے نیک کام کرتے ہیں ان کو بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ اور یہ کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لائے ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (بنی اسرائیل : ١٠)

بنی اسرائیل کی غلامی کی ذلت سے مسلمان عبرت پکڑیں :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص اور مقرب بندوں پر کیے ہوئے انعامات کا ذکر فرمایا تھا کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے شرف معراج سے نوازا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کتاب نازل فرمائی اور اس کے بعد یہ فرمایا کہ منکروں، نافرمانوں اور سرکشوں پر اللہ تعالیٰ نے مختلف مصائب نازل فرمائے اور ان کے دشمنوں کو ان پر مسلط فرما کر ان کو ذلیل و خوار کردیا، اور اس میں یہ تنبیہ فرمائی کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہر قسم کی عزت اور کرامت اور دنیا اور آخرت میں سعادت اور سرفرازی کا موجب ہے، اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی ذلت اور خواری کا سبب ہے بنی اسرائیل نے دو مرتبہ سرکشی اور نافرمانی کی تو وہ دو مرتبہ ذلیل کیے گئے۔ پہلی بار جالوت نے ان پر حملہ کر کے ان کو غلام بنا لیا اور دوسری بار مجوسیوں نے ان پر حملہ کر کے انکو اپنا غلام بنا لیا، مسلمانوں کی تاریخ بھی یہی ہے جب تک وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہے وہ دنیا میں کامیاب و کامران اور سرفراز رہے اور جب وہ اجتماعی طور پر اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی بجائے نافرمانی کرنے لگے انہوں نے تبلیغ اور جہاد کو چھوڑ دیا، ہندوؤں کی رسومات کو اپنے دین میں جذب کرلیا تو ہندوستان پر کئی صدیوں تک حکومت کرنے والے مسلمانوں کو انگریزوں نے اپنا غلام بنا لیا اور وہ ڈیڑھ سو سال تک ان کی غلامی میں مبتلا رہے، اور جس طرح اللہ نے بنی اسرائیل کی توبہ قبول کر کے انہیں پھر آزادی کی نعمت عطا فرمائی تھی اسی طرح برصغیر کے مسلمانوں کو بھی ایک بار پھر موقع دیا اور ان کو آزادی کی نعمت سے نوازا اور پاکستان کی شکل میں ان کو ایک آزاد خطہ عطا فرمایا۔ لیکن ان کی روش پھر وہی رہی، سو چوبیس سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو متنبہ کرنے کے لیے آدھی نعمت ان سے سلب کرلی، لیکن اب بھی پاکستان کے مسلمانوں نے اجتماعی طور پر توبہ نہیں کی اور پاکستان کے اکثر باشندوں کی ثقافت، تمدن اور تہذیب یورپ کے رنگ میں رنگی ہوئی ہے وہ اسلامی معیشت کے بجائے سوشلزم اور سیکولرزم کے دلدادہ ہیں وہ اسلامی لباس کے بجائے یورپی لباس پر فخر کرتے ہیں، سنت کے مطابق زندگی گزارنا ان کے لیے باعث عار ہے، عورتوں کا پردہ میں رہنا ان کے نزدیک عورتوں کو بیڑیوں میں جکڑنے کے مترادف ہے وہ اسمبلیوں اور محکموں میں عورتوں کو مردوں کے مساوی دیکھنا چاہتے ہیں اور جو مسلمان ان چیزوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اس کو وہ رجعت پسند اور بنیاد پرست کہتے ہیں، اب تو یہ حالت ہوگئی ہے کہ دو قومی نظریہ کی بر سرعام مذمت کی جاتی ہے اور یہ کہا جارہا ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب برحق ہیں اور اسلام کے خلاف جو دوسرے مذاہب ہیں ان کو غلط اور باطل کہنے والے علماء سوء تھے اور رام چندر کی فضیلت میں اقبال کے یہ اشعار اخبارات میں شائع کرائے جارہے ہیں :

ہے رام کے وجود پہ ہندوستان کو ناز۔۔۔۔۔۔۔ اہل نظر سمجھتے ہی اس کو امام ہند 

اعجاز اس چراغ ہدایت کا ہے یہی۔۔۔۔۔۔۔ روشن تراز سحر ہے زمانہ میں شام ہند 

تلورا کا دھنی تھا شجاعت میں فرو تھا۔۔۔۔۔۔ پاکیزگی میں جوش محبت میں فرو تھا۔

(کلیات اقبال، بانگ درا، رام، ص ١١٨، سنگ میل پبلی کینشنز لاہور ١٩٩٨)

سو اب بھی وقت ہے اس سے پہلے کہ یہود کی طرح دوبارہ مسلمانوں پر بی ذلت اور غلامی کے مصائب پلٹ آئیں وہ اللہ اس کے رسول اور قرآن کی طرف لوٹ آئیں۔

اسلام کا سب سے مستحکم دین ہونا :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

دینا قیما ملۃ ابراہیم حنیفا۔ ابراہیم کا دین مستحکم ہے جو ہر باطل سے الگ ہے۔ 

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین کے متعلق فرمایا یہ اقوم ہے ( ان ھذا القرآن یھدی للتی ھو اقوم، بیشک یہ قرآن اس راستہ کی ہدایت دیتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا اور مستحکم ہے) خلاصہ یہ ہے کہ تمام دین قویم او سیدھے ہیں اور دین اسلام اقوم ہے، یعنی سب سے زیادہ سیدھا ہے، اور اس آیت کا حاصل معنی یہ ہے کہ بیشک قرآن اس ملت یا اس شریعت یا اس طریقہ کی ہدایت دیتا ہے جو اقوم ہے یعنی سب سے زیادہ قویم اور مستحکم ہے۔

اور جو لوگ اس شریعت پر عمل کریں گے ان کو اللہ تعالیٰ بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا، اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لائے ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ آیت یہود کے احوال کے بیان میں ہے اور یہود آخرت کا انکار نہیں کرتے تھے تو ان کے متعلق یہ کہنا کس طرح مناسب ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لائے ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اکثر یہود جسمانی ثواب اور عذاب کا انکار کرتے تھے، اور دوسرا جواب یہ ہے کہ یہود کہتے تھے :

لن تمسنا النار الا ایاما معدودات۔ ہمیں دوزخ کی آگ صرف چند دن چھوئے گی۔ (آل عمران : ٢٤ )

اس لیے ان کا آخرت کے متعلق ایمان صحیح نہ تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 10