أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَ تَاۡتِىۡ كُلُّ نَفۡسٍ تُجَادِلُ عَنۡ نَّفۡسِهَا وَتُوَفّٰى كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جس دن ہر متنفس اپنی جان کی طرف سے جھگڑتا ہوا آئے گا اور ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کاموں کی پوری پوری جزا دی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس دن ہر متنفس اپنی جان کی طرف سے جھگڑتا ہوا آئے گا اور ہر شخص کو اس کے کیے ہوئے کاموں کی پوری پوری جزا دی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (النحل : ١١١)

روح اور بدن میں سے ہر ایک عذاب کا مستحق ہے :

اس سے پہلی آیتوں میں یہ بتایا تھا کہ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کھلے دل سے کفر کیا ان پر اللہ کا غضب ہوگا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور جن مسلمانوں نے جان کے خوف سے صرف زبان سے کلمہ کفر کہا اور ان کے دل ایمان پر مطمئن تھے، اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اور اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ مرتدین پر غضب اور مومنین پر رحم کس دن ہوگا اور وہ قیامت کا دن ہے۔

اس آیت کا لفظی ترجمہ اس طرح ہے اس دن ہر نفس اپنے نفس سے جھگڑے گا، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ہر انسان کا ایک نفس ہوتا ہے دو نفس نہیں ہوتے پھر یہ معنی کس طرح درست ہوگا ہر نفس اپنے نفس سے جھگڑے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے نفس سے مراد انسان کا بدن ہے اور دوسرے نفس سے خود وہ انسان مراد ہے یا انسان کی روح ہے۔ یعنی انسان کی روح وار اس کے بدن میں بحث اور تکرار ہوگی۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ روح کہے گی اے میرے رب ! تو نے مجھ کو پیدا کیا ہے، کسی چیز کو پکڑنے کے لیے میرے ہاتھ تھے اور نہ کہیں جانے کے لیے میرے پیر تھے، کسی چیز کو دیکھنے کے لیے میری آنکھیں تھیں اور نہ کسی چیز کو سننے کے لیے میرے کان تھے اور نہ سوچنے کے لیے عقل تھی حتی کہ تو نے مجھے س جسم میں داخل کردیا سو تو ہر قسم کا عذاب اس جسم پر نازل فرما اور مجھے نجات دے دے۔ اور جسم کہے گا اے میرے رب ! تو مجھے پیدا کیا تو میں تو لکڑی کے ایک تختے کی طرح تھا، میں اپنے ہاتھوں سے نہ پکڑ سکتا تھا اور نہ قدموں سے چل سکتا تھا اور نہ آنکھوں سے دیکھ سکتا تھا اور نہ کانوں سے سن سکتا تھا پھر یہ روح نور کی شعاع کی طرح مجھ میں داخل ہوئی، اسی سے میری زبان بولنے لگی اور اسی سے میری آنکھیں دیکھنے لگیں اور اسی سے میرے پیر چلنے لگے اور میرے کان سننے لگے سو ہر قسم کا عذاب تو اس روح پر نازل کر اور مجھے نجات دے دے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اندھے اور لنجے کی مثال بیان فرمائی جو ایک باغ میں گئے، اندھا پھلوں کو دیکھ نہیں سکتا تھا اور لنجا پھلوں کو توڑ نہیں سکتا، پھر لنجے نے اندھے سے کہ تو مجھے اپنے اوپر سوار کرلے میں خود بھی پھل توڑ کر کھاؤں گا اور تجھے بھی کھلاؤں گا پھر دونوں نے باغ سے پھل توڑ کر کھائے۔ اب کس پر عذاب ہوگا ؟ فرمایا دونوں پر عذاب ہوگا۔ علامہ قرطبی نے اس حدیث کو ثعلبی کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ (الجامعل الاحکام القرآن جز ١٠، ص ١٧٥)

قیامت کے دن ہر شخص کا نفسی نفسی کہنا :

قیامت کے دن نفسی نفسی ہوگی۔ ہر نفس اپنے نفس سے بحث و تکرار کر رہا ہوگا۔ قرآن مجید میں ہے :

لکل امر منھم یومئذن شان یغنیہ۔ (عبس : ٣٧) اس دن ہر شخص کو اپنی پریشانی دوسروں سے بےپرواہ کردے گی۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گوشت لایا گیا، آپ نے اس میں سے ایک دستی اٹھالی، وہ آپ کو اچھی لگی اور آپ اس کو دانتوں سے کھانے لگے پھر آپ نے فرمایا میں قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں گا۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس وجہ سے ہے ؟ اللہ تعالیٰ اولین اور آخرین کو ایک میدان میں جمع فرمائے گا جس میں وہ پکارنے والے کی آواز سن سکیں گے اور سب کو دیکھ سکیں گے، سورج ان کے قریب ہوجائے گا، لوگوں کو اس قدر رنج و غم ہوگا جس کو وہ برداشت نہیں کرسکیں گے، پھر وہ لوگ آپس میں کہیں گے تم دیکھ رہے ہو کہ تمہاری کیا حالت ہوچکی ہے۔ سنو کسی ایسے شخص کو تلاش کرو جو تمہارے رب کے پاس تمہاری شفاعت کرے، پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے۔ حضرت آدم کے پاس جاؤ، پھر وہ حضرت آدم کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ آپ ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست اقدس سے پیدا کیا ہے اور آپ میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی ہے اور فرشتوں کو حکم دیا ہے کہ آپ کو سجدہ کریں۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہمارا کیا حال ہے ؟ کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس حالت میں ہیں ؟ پس حضرت آدم کہیں گے کہ آج میرا رب غضب میں ہے، وہ اتنے شدید غضب میں نہ پہلے تھا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا۔ اور اس نے مجھے ایک درخت سے کھانے سے منع کیا تھا اور میں نے اس کی (بظاہر) معصیت کی، مجھے اپنے نفس کی کفر ہے، مجھے اپنے نفس کی فکر ہے، مجھے اپنے نفس کی فکر ہے۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، نوح کے پاس جاؤ۔

پھر لوگ حضرت نوح کے پاس جاکر کہیں گے اے نوح ! بیشک آپ زمین والوں کے سب سے پہلے رسول ہیں اور بیشک آپ نے آپ کا نام بہت شکر ادا کرنے والا بندہ رکھا ہے، آپ اپنے رب کی طرف ہماری شفاعت کیجیے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ حضرت نوح کہیں گے آج میرا سب سخت غضب میں ہے، وہ اس سے پہلے اتنے غضب میں تھا نہ اس کے بعد اتنے غضب میں ہوگا اور بیشک میں نے اپنی قوم کے خلاف ایک دعا کی تھی، نفسی، نفسی، نفسی۔ تم لوگ میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم حضرت ابراہیم کے پاس جاؤ۔

پھر لوگ حضرت ابراہیم کے پاس جائیں گے اور کہیں گے ابراہیم ! آپ اللہ کے نبی ہیں اور تمام زمین میں سے اللہ کے خلیل ہیں، آپ اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ وہ ان سے کہیں گے کہ آج میرا رب بہت غض (رض) میں ہے، وہ اس سے پہلے اتنے غضب میں تھا اور نہ اس کے بعد اتنے غضب میں ہوگا اور میں نے (بظاہر) تین جھوٹے بولے تھے۔ نفسی، نفسی، نفسی۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، حضرت موسیٰ کے پاس جاؤ۔

پھر وہ لوگ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے موسیٰ ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ نے آپ کو رسالت سے اور اپنے کلام سے سرفراز کیا ہے، آپ اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کیجیے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ وہ کہیں گے کہ بیشک آج میرا رب سخت غضب میں ہے، وہ اس سے پہلے اتنے غضب میں تھا اور نہ اس کے بعد اتنے غضب میں ہوگا اور میں نے ایک ایسے شخص کو قتل کردیا تھا جس کو قتل کرنے کا مجھے حکم نہیں دیا تھا۔ نفسی، نفسی، نفسی۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ۔ تم حضرت عیسیٰ کے پاس جاؤ۔

پھر لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اے عیسیٰ ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور اس کا وہ کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم کی طرف القاء کیا تھا اور اس کی پسندیدہ روح ہیں اور آپ نے لوگوں سے پنگھوڑے میں کلام کیا تھا، آپ ہماری شفاعت کیجیے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ حضرت عیسیٰ کہیں گے کہ آج میرا رب بہت غضب میں ہے، وہ اس سے پہلے اتنے غضب میں تھا اور نہ اس کے بعد اتنے غضب میں ہوگا اور وہ کسی گناہ کا ذکر نہیں کریں گے۔ نفسی، نفسی، نفسی۔ تم میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ۔ 

پھر لوگ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جائیں گے اور کہیں گے کہ اے محمد ! آپ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم الانبیاء ہیں اللہ نے آپ کے سب اگلے اور پچھلے بظاہر خلاف اولی کاموں کی مغفرت کردی ہے، آپ اپنے رب کے پاس ہماری شفاعت کیجیے۔ کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس حال میں ہیں ؟ (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے) فرمایا پھر میں عرش کے نیچے جاؤں گا اور اپنے رب کے حضور سجدہ میں گرجاؤں گا پھر اللہ عزوجل میرے لیے حمد و ثنا کے ایسے کلمات کھول دے گا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے نہیں کھولے ہوں گے، پھر مجھ سے کہا جائے گا اے محمد ! اپنا سر اٹھایئے، آپ سوال کیجیے آپ کو دیا جائے گا، آپ شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا اے میرے رب ! میری امت، اے میرے رب ! میری امت، پس کہا جائے گا اے محمد ! آپ جنت کے دائیں دروازے سے اپنی امت کے ان لوگوں کو داخل کردیجیے جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور باقی دروازوں میں بھی وہ لوگوں کے شریک ہوں گے۔ پھر آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے جنت کی دو چوکھٹوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور بصری میں فاسلہ ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧١٢، صحیح مسلم رقم الحڈیث : ١٩٤، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٤٣٤، مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٤، ٤٣٥، طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ٩٥٨٩، طبع جدید دار الحدیث قاہرہ، مسند احمد رقم الحدیث : ٩٦٢٠، عالم الکتب بیروت، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦٤٦٥، ابن مندہ رقم الحدیث : ٨٨٢، مصنف ابن ابی شیبہ ج ١١ ص ٤٤٤، مسند ابو عوانہ ج ١ ص ١٧٠، الاسماء والصفات للبیہقی ص ٣١٥، شرح السنہ رقم الحدیث : ٤٣٣٢، السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث : ٨١١)

امام ترمذی کی دوسری روایت میں ہے جو لوگ حضرت عیسیٰ کے پاس جائیں گے تو وہ کہیں گے اللہ کو چھوڑ کر میری عبادت کی گئی ہے تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٤٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی امت کو اس سے محفوظ رکھا ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر آپ کی عبادت کریں ورنہ آپ بھی حضرت عیسیٰ کی طرح عذر پیش کرتے اور امت کی شفاعت نہ کرتے، لیکن آپ امت کی شفاعت کریں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی امت نے آپ کی عبادت نہیں کی اور اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ آپ کو یا رسول اللہ ندا کرنا، آپ کے لیے ماکان وما یکون کا علم اور علم غیب ماننا اور آپ کی تعظیم و تکریم کے دیگر معمولات اہل سنت، ان میں سے کوئی چیز شرک نہیں ہے، اور ان امور کو شرک کہنا اس حدیث کی روشنی میں باطل ہے۔ 

کعب بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن الخطاب کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا اے کعب ! ہمیں اللہ تعالیٰ کا خوف دلاؤ، میں نے کہا اے امیر المومنین ! کیا آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کی حکمت نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، لیکن ہمیں ڈراؤ، میں نے کہا اے امیر المومنین ! اگر آپ قیامت کے دن ستر نبیوں کے عمل کے برابر عمل لے جائیں تو قیامت کے ہولناکیوں کو دیکھ کر اپنے عمل کو حقیر پائیں گے۔ حضرت عمر نے کہا اور زیادہ بیان کرو، انہوں نے کہا اگر مشرق میں دوزخ میں بیل کے نتھنے کے برابر بھی سوراخ کیا جائے تو اس کی تپش سے مغرب میں کھڑے ہوئے آدمی کا دماغ کھولنے لگے گا۔ حتی کہ اس کی تپش سے اس کا دماغ بہنے لگے گا۔ انہوں نے کہا اور زیادہ بیان کرو۔ میں نے کہا اے امیر المومنین ! بیشک قیامت کے دن دوزخ ایک لمبا سانس لے گی، جس کے اثر سے ہر مقرب فرشتہ اور ہر نبی مرسل گھٹنوں کے بل گرجائے گا حتی کہ حضرت ابراہیم بھی گھٹنوں کے بل گرجائیں گے اور کہیں گے کہ اے میرے رب ! نفسی، نفسی، نفسی۔ میں آج تجھ سے صرف اپنے نفس کے متعلق سوال کرتا ہوں۔ پھر حضرت کافی دیر تک سر جھکا کر بیٹھے رہے، میں نے کہا اے امیر المومنین ! کیا آپ اللہ کی کتاب میں اس کو نہیں پاتے ؟ آپ نے کہا کیسے ؟ تو میں نے یہ آیت پڑھی :

یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا۔ (النحل : ١١١) جس دن ہر متنفس اپنی جان کی طرف سے جھگڑا ہوا آئے گا۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٢٦٧١، زاد المسیر ج ٤ ص ٤٩٩، الدر المنثور ج ٥ ص ١٧٣)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 16 النحل آیت نمبر 111