وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ(۹۶)

اور بےشک ہم نے موسیٰ کو اپنی آیتوں (ف۱۹۵) اور صریح غلبے کے ساتھ

(ف195)

یعنی معجزات ۔

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىٕهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَۚ-وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ(۹۷)

فرعون اور ا س کے درباریوں کی طرف بھیجا تو وہ فرعون کے کہنے پر چلے (ف۱۹۶) اور فرعون کا کام راستی(درست ودیانتداری) کا نہ تھا (ف۱۹۷)

(ف196)

اور کُفر میں مبتلا ہوئے اور حضرت موسٰی علیہ السلام پر ایمان نہ لائے ۔

(ف197)

وہ کھلی گمراہی میں تھا کیونکہ باوجود بشر ہونے کے خدائی کا دعوٰی کرتا تھا اور علانیہ ایسے ظلم اور ایسی ستم گاریاں کرتا تھا جس کا شیطانی کام ہونا ظاہر اور یقینی ہے ۔ وہ کہاں اور خدائی کہاں اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ رشد و حقانیت تھی ، آپ کی سچائی کی دلیلیں آیاتِ ظاہرہ و معجزاتِ باہرہ وہ لوگ معائنہ کر چکے تھے پھر بھی انہوں نے آپ کی اِتّباع سے مُنہ پھیرا اور ایسے گمراہ کی اطاعت کی تو جب وہ دنیا میں کُفر و ضلال میں اپنی قوم کا پیشوا تھا ایسے ہی جہنّم میں ان کا امام ہو گا اور ۔

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَؕ-وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ(۹۸)

اپنی قوم کے آگے ہوگا قیامت کے دن تو انہیں دوزخ میں لا اتارے گا (ف۱۹۸) اوروہ کیا ہی برا گھاٹ اترنے کا

(ف198)

جیسا کہ انہیں دریائے نیل میں لا ڈالا تھا ۔

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ(۹۹)

اور ان کے پیچھے پڑی اس جہان میں لعنت اور قیامت کے دن (ف۱۹۹)کیا ہی برا انعام جو انہیں ملا

(ف199)

یعنی دنیا میں بھی ملعون اور آخرت میں بھی ملعون ۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآىٕمٌ وَّ حَصِیْدٌ(۱۰۰)

یہ بستیوں (ف۲۰۰) کی خبریں ہیں کہ ہم تمہیں سناتے ہیں (ف۲۰۱) ان میں کوئی کھڑی ہے (ف۲۰۲) اور کوئی کٹ گئی (ف۲۰۳)

(ف200)

یعنی گزری ہوئی اُمّتوں ۔

(ف201)

کہ تم اپنی اُمّت کو ان کی خبریں دو تاکہ وہ ان سے عبرت حاصل کریں ، ان بستیوں کی حالت کھیتیوں کی طرح ہے کہ ۔

(ف202)

اس کے مکانوں کی دیواریں موجود ہیں ، کھنڈر پائے جاتے ہیں ، نشان باقی ہیں جیسے کہ عاد و ثمود کے دیار ۔

(ف203)

یعنی کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بالکل بے نام و نشان ہوگئی اور اس کا کوئی اثر باقی نہ رہا جیسے کہ قومِ نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام کے دیار ۔

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَؕ-وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ(۱۰۱)

اور ہم نے ان پر ظلم نہ کیا بلکہ خود انہوں نے (ف۲۰۴) اپنا برا کیا تو ان کے معبود جنہیں (ف۲۰۵) اللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے (ف۲۰۶) جب تمہارے رب کا حکم آیا اور ان (ف۲۰۷) سے انہیں ہلاک کے سوا کچھ نہ بڑھا

(ف204)

کُفر و معاصی کا ارتکاب کر کے ۔

(ف205)

جہل و گمراہی سے ۔

(ف206)

اور ایک شمّہ عذاب دفع نہ کر سکے ۔

(ف207)

بُتوں اور جھوٹے معبودوں ۔

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲)

اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بےشک اس کی پکڑ دردناک کرّی(سخت) ہے (ف۲۰۸)

(ف208)

تو ہر ظالم کو چاہئے کہ ان واقعات سے عبرت پکڑے اور توبہ میں جلدی کرے ۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِؕ-ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌۙ-لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ(۱۰۳)

بےشک اس میں نشانی (ف۲۰۹) ہے اس کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ (ف۲۱۰) اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے (ف۲۱۱)

(ف209)

عبرت و نصیحت ۔

(ف210)

اگلے پچھلے حساب کے لئے ۔

(ف211)

جس میں آسمان والے اور زمین والے سب حاضر ہوں گے ۔

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ(۱۰۴)

اور ہم اسے (ف۲۱۲) پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لیے (ف۲۱۳)

(ف212)

یعنی روزِ قیامت کو ۔

(ف213)

یعنی جو مدّت ہم نے بقائے دنیا کے لئے مقرر فرمائی ہے اس کے تمام ہونے تک ۔

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖۚ-فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ(۱۰۵)

جب وہ دن آئے گا کوئی بے حکمِ خدا بات نہ کرے گا (ف۲۱۴) تو ان میں کوئی بدبخت ہے اور کوئی خوش نصیب (ف۲۱۵)

(ف214)

تمام خَلق ساکت ہو گی ۔ قیامت کا دن بہت طویل ہوگا اس میں احوال مختلف ہوں گے بعض احوال میں تو شدتِ ہیبت سے کسی کو بے اذنِ الٰہی بات زبان پر لانے کی قدرت نہ ہوگی اور بعض احوال میں اذن دیا جائے گا کہ لوگ اذن سے کلام کریں گے اور بعض احوال میں ہول و دہشت کم ہو گی ، اس و قت لوگ اپنے معاملات میں جھگڑیں گے اور اپنے مقدمات پیش کریں گے ۔

(ف215)

شقیق بلخی قُدِّسَ سِرّہ نے فرمایا سعادت کی پانچ علامتیں ہیں (۱) دل کی نرمی (۲) کثرتِ گریہ (۳) دنیا سے نفرت (۴) امیدوں کا کوتاہ ہونا (۵) حیا ۔ اور بدبختی کی علامت بھی پانچ چیزیں ہیں ۔ (۱) دل کی سختی (۲) آنکھ کی خشکی یعنی عدمِ گریہ (۳) دنیا کی رغبت (۴) دراز امیدیں (۵) بے حیائی ۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ(۱۰۶)

تو وہ جو بدبخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس میں گدھے کی طرح رینکیں(چیخیں چلائیں) گے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ(۱۰۷)

وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا (ف۲۱۶) بےشک تمہارا رب جب جو چاہے کرے

(ف216)

اتنا اور زیادہ رہیں گے اور اس زیادتی کی کوئی انتہا نہیں تو معنی یہ ہوئے کہ ہمیشہ رہیں گے کبھی اس سے رہائی نہ پائیں گے ۔ (جلالین)

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ(۱۰۸)

اور وہ جو خوش نصیب ہوئے وہ جنّت میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا (ف۲۱۷) یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی

(ف217)

اتنا اور زیادہ رہیں گے ۔ اس زیادتی کی کچھ انتہا نہیں اس سے ہمیشگی مراد ہے چنانچہ ارشاد فرماتا ہے ۔

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِؕ-مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُؕ-وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠(۱۰۹)

تو اے سننے والے دھوکے میں نہ پڑ اس سے جسے یہ کافر پوجتے ہیں (ف۲۱۸) یہ ویسا ہی پوجتے ہیں جیسا پہلے ان کے باپ دادا پوجتے تھے (ف۲۱۹) اور بےشک ہم ان کا حصہ انہیں پورا پھیردیں گے جس میں کمی نہ ہوگی

(ف218)

بے شک یہ اس بُت پرستی پر عذاب دیئے جائیں گے جیسے کہ پہلی اُمّتیں مبتلائے عذاب ہوئیں ۔

(ف219)

اور تمہیں معلوم ہو چکا کہ ان کا کیا انجام ہوگا ۔