أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ رَبَّكَ يَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ يَّشَآءُ وَيَقۡدِرُ‌ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا۞

ترجمہ:

بیشک آپ کا رب جس کے لیے چاہے رزق وسیع کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کی بہت خبر رکھنے والا بہت دیکھنے والا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک آپ کا رب جس کے لیے چاہے رزق وسیع کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کی بہت خبر رکھنے والا بہت دیکھنے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٣٠)

رزق میں کمی اور زیادتی بندوں کی مصلحت پر مبنی ہے :

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا رب ہے اور اس کی مخلوق میں سے جس کو جتنے رزق کی ضرورت ہے وہ اس کو اتنا رزق عطا فرماتا ہے۔ یا جس کو جتنا رزق دینے میں اس کی مصلحت ہے اس کو اتنا رزق عطا فرماتا ہے اور رزق کی یہ تقسیم اس وجہ سے نہیں ہے کہ جس سے وہ خوش اور راضی ہو اس کو زیادہ رزق عطا فرماتا ہے اور جس سے وہ ناراض اور ناخوش ہو اس کو کم رزق عطا فرماتا ہے، بلکہ جس شخص یا جس قوم میں جتنے رزق کی صلاحیت اور استعداد ہو اس کو اتنا رزق عطا فرماتا ہے یا جس کی عاقبت اور آخرت کے اعتبار سے جتنا رزق اس کے لیے مناسب ہو اس کو اتنا رزق عطا فرماتا ہے بلکہ زیادہ صحیح یہ ہے کہ وہ مالک ہے جس کو جتنا چاہے عطا کرے : 

ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشاء۔ (الشوری : ٢٧) اگر اللہ اپنے تمام بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو وہ زمین پر فساد برپا کردیتے لیکن وہ اندازے کے ساتھ جتنا رزق چاہتا ہے نازل فرماتا ہے۔

حافظ ابن کثیر نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث لکھی ہے :

میرے بعض بندوں کی مصلحت میں صرف فقر ہے اگر میں ان کو غنی کردیتا تو ان کا دین فاسد ہوجاتا اور میرے بعض بندوں کی مصلحت صرف غنا میں تھی گر میں ان کو فقیر بنا دیتا تو ان کا دین فاسد ہوجاتا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٣، ص ٤٣، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٩ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 30