باب سجود القرآن

قرآنی سجدوں کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ قرآن کریم میں چودہ سجدے ہیں اور یہ سب واجب ہیں احناف کے نزدیک اور سنت ہیں دوسرے اماموں کے ہاں،امام اعظم کا قول قوی ہے کیونکہ رب فرماتا ہے:”فَمَا لَہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیۡہِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوۡنَ ” یہاں رب تعالٰی نے “سجدہ تلاوت” نہ کرنے کو سخت جرم قرار دیا کہ اس کا ذکربے ایمانی کے ساتھ کیا، پڑھنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدہ تلاوت واجب ہے، اس سجدہ کے لیے پاکی تو شرط ہے مگر قیام سلام وغیرہ فرض نہیں۔

حدیث نمبر 247

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ نجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں،مشرکوں اور جن و انس نے سجدہ کیا ۱؎(بخاری)

شرح

۱؎ حضور علیہ السلام نے سجدے کی آیت پڑھ کر اور صحابہ نے سن کر سجدہ کیا،مشرکین نے اس موقعہ پر یا اپنے بتوں لات و عزیٰ کا ذکر سن کر سجدہ کیا یا حضور علیہ السلام سے ذکر الٰہی سن کر مرعوب ہوئے اور سجدہ میں گر گئے۔بعض روایا ت میں آیا ہے کہ اس موقع پر شیطان نے حضور علیہ السلام کی سی آواز بنا کر بتوں کی تعریف کی یا بغیر قصد حضور علیہ السلام کی زبان پر وہ الفاظ جاری ہوئے،مشرکین سمجھے کہ حضور علیہ السلام ہمارے دین کی طرف لوٹ آئے تو شکرانہ کے طور پر وہ سجدے میں گر گئے یعنی مسلمانوں نے سجدۂ تلاوت کیا اور مشرکوں نے اپنی غلط فہمی پر سجدۂ شکر مگر آپ کی زبان پر بتوں کی تعریف جاری ہونے کی روایت باطل محض ہے اور شیطان کا اپنی آواز کو حضور علیہ السلام کی آواز کی مثل بنا کر یہ کہہ دینا اسے بھی حضرت شیخ نے لمعات میں اور ملا علی قاری نے مرقاۃ میں باطل قرار دیا اور اس قصہ کو موضوع قرار دیا اور فرمایا کہ یہ مؤرخین کی ایجاد ہے،محدثین نے اسے نہیں لیا لیکن بعض علماء نے”اَلْقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمْنِیَّتِہ”کی تفسیر میں یہ پہلا واقعہ بیان کیا یعنی شیطان کا یہ کہہ دینا معلوم ہوتا ہے،صحابہ نے اس موقع پر جنات کو بھی سجدہ کرتے دیکھا۔