أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَّبُّكُمۡ اَعۡلَمُ بِمَا فِىۡ نُفُوۡسِكُمۡ‌ؕ اِنۡ تَكُوۡنُوۡا صٰلِحِيۡنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلۡاَوَّابِيۡنَ غَفُوۡرًا ۞

ترجمہ:

تمہارا رب بہ خوبی جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اگر تم نیک ہو تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہارا رب بہ خوبی جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اگر تم نیک ہو تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٢٥ )

اوابین کے معانی :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے تم کو سابقہ آیت میں اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور تمہارے دلوں میں اخلاص ہے یا نہیں ہے یہ اللہ پر مخفی نہیں ہے کیونکہ انسان کے علوم میں تو سہو اور نسیان آجاتا ہے اور نہ ہی اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کرسکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا علم ان تمام نقائص سے پاک ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کو سب علم ہے کہ تم ان احکام پر اخلاص سے عمل کر رہے ہو یا نہیں، اگر تمہارے دل میں کوئی فساد نہیں ہے اور تم صحیح نیت سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کر رہے ہو اور اس کی طرف رجوع کرنے والے ہو تو بیشک وہ توبہ کرنے والوں کو بہت بخشنے والا ہے۔ 

اس آیت میں اوابین کا لفظ ہے، یہ لفظ اوب سے بنا ہے، اوب رجوع کی ایک قسم ہے، قرآن مجید میں ہے :

ان الینا ایابھم (الغاشیہ : ٢٥) بیشک ہماری ہی طرف ان کا لوٹنا ہے۔

فمن شاء اتخذ الی ربہ مابا۔ (النبا : ٣٩) پس جو چاہے اپنے رب کی طرف لوٹنے کی جگہ بنا لے۔

اور اواب، تواب کی مثل ہے یعنی جو شخص گناہوں کو ترک کر کے عبادات کو انجام دے کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے والا ہو۔

ھذا ما توعدون لکل اواب حفیظ۔ (ق : ٣٢) یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لیے جو رجوع کرنے و الا ہو اور (دین برحق کی) حفاظت کرنے والا ہو۔ (المفردات ج ١ ص ٣٧، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ نے اواب کے حسب ذیل معنی ذکر کیے ہیں :

١۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا کہ اس کا معنی مسلمان ہے۔

٢۔ ابو صالح نے حضرت ابن عباس سے نقل کیا کہ اس کا معنی تواب ہے اور یہی مجاہد اور سعید بن جبیر کا قول ہے، ابن قتیبہ نے کہا اس کا معنی ہے جو شخص بار بار توبہ کرے، زجاج نے کہا اس کا معنی ہے جو شخص ان تمام کاموں کی جڑ کاٹ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔

٣۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے راویت کیا اس کا معنی ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی بہت تسبیح کرنے والا ہو۔

٤۔ علی ابن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا ہو۔

٥۔ عبید بن عمیر نے کہا جو شخص تنہائی میں اپنے گناہوں کو یاد کرے پھر اللہ تعالیٰ سے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرے۔

٦۔ حسن بصری نے کہا جو شخص اپنے دل اور اپنے اعمال سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو۔

٧۔ قتادہ نے کہا اس کا معنی ہے نماز پڑھنے و الا۔

٨۔ ابن المنکدر نے کہا جو شخص مغرب اور عشا کے درمیان نفل پڑھے (حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص مغرب کی نماز کے بعد چھ رکعات (نفل) پڑھے اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کرے تو اس کی وہ عبادت بارہ سال کے برابر قرار دی جائے گی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٤٣٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١١٦٧) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے مغرب کی بعد بیس رکعات نماز پڑھی، اللہ اس ا کے لیے جنت میں گھر بنا دے گا۔ مغرب کے بعد بارہ رکعات نماز کو صلوۃ اوابین کہا جاتا ہے )

٩۔ عون عقیلی نے کہا اس کا معنی ہے جو شخص چاشت کی نماز پڑھے۔

١٠۔ السدی نے کہا جو شخص تنہائی میں گناہ کرے اور تنہائی میں توبہ کرے۔ (زاد المسیر ج ٥ ص ٢٦، ٢٧، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ اوابین کے لیے بہت بخشنے والا ہے، اور اواب مبالغہ کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف بار بار رجوع کرنے والا اور بار بار اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف لوٹنے والا، سعید بن مسیب نے کہا یہ وہ شخص ہے جو توبہ کرتا ہے پھر گناہ کرتا ہے، پھر توبہ کرتا ہے پھر گناہ کرتا ہے، پھر توبہ کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا اواب وہ شخص ہے جو جب بھی اپنے گناہوں کو یاد کرتا ہے تو ان پر استغفار کرتا ہے، عون عقیلی نے کہا اوابین وہ لوگ ہیں جو چاشت کی نماز پڑھتے ہیں :

حضرت زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل قبا کی طرف گئے وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے فرمایا اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب گرم ریت پر چلنے کی وجہ سے اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٧٤٨ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 25