أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا تَجۡعَلۡ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقۡعُدَ مَذۡمُوۡمًا مَّخۡذُوۡلًا۞

ترجمہ:

(اے مخاطب) تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو عبادت کا مستحق نہ بنا کہ تو ناکام اور مذمت کیا ہوا بیٹھا رہ جائے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے مخاطب) تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو عبادت کا مستحق نہ بنا کہ تو ناکام اور مذمت کیا ہوا بیٹھا رہ جائے۔ (بنی اسرائیل : ٢٢) 

آپ کی طرف عبادت غیراللہ کی نسبت کی وضاحت :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا کہ لوگوں کے دو فریق ہیں، ایک فریق دنیا کا طالب ہے اور وہ عتاب اور عذاب کا مستحق ہے اور دوسرا فریق وہ ہے جو آخرت کا طالب ہے اور وہ اطاعت گزار ہے، پھر آخرت کے طالب کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ صاحب ایمان ہو اور وہ ایسے عمل کرے جن سے اللہ تعالیٰ کا صحیح تقرب حاصل ہو اور اس کی نیت صحیح ہو، سو اللہ تعالیٰ نے پہلے ایمان اور پھر تقرب کے صحیح طریقہ کی ضرورت کو بیان فرمایا اور اس کے بعد پھر فرمایا کہ مومن صالح کو چاہیے کہ وہ اپنے اعمال میں کسی موقع پر بھی شرک کو درانداز ہونے کا موقع نہ دے، اس لیے فرمایا : تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو عبادت کا مستحق نہ بنا کہ تو ناکام اور مذمت کیا ہوا بیٹھا رہ جائے۔

اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے اور ظاہر ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان سے بہت بعید ہے بلکہ محال ہے کہ آپ اللہ کی عبادت میں کسی اور کو شریک بنائیں، اس لیئے مفسرین نے کہا اس آیت میں بظاہر آپ کی طرف نسبت ہے اور مراد آپ کی امت ہے جیسے اس آیت میں ہے :

ولقد اوحی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین۔ (الزمر : ٦٥) بیشک آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اور آپ سے پہلے لوگوں کی طرف بھی یہ وحی کی گئی ہے کہ اگر (بالفرض) آپ نے (بھی) شرک کیا تو آپ کے عمل ضرور ضائع ہوجائیں گے اور ضرور آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔

اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت میں انسان سے خطاب کیا گیا ہے اور یہی صحیح قول ہے کیونکہ ان آیات کے بعد اگلے رکوع میں جو آیات آرہی ہیں ان میں انسان سے خطاب ہے اور ان آیات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب متصور نہیں ہوسکتا کیونکہ ان آیات میں یہ آیت بھی ہے :

اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلاھما فلا تقل لھما اف ولا تنھرھما وقل لھما قولا کریما۔ (بنی اسرائیل : ٢٣) اگر تمہاری موجودگی میں ماں باپ میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے سامنے اف تک نہ کرنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان سے ادب اور احترام سے بات کرنا۔

اور ظاہر ہے کہ اس آیت میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ کی زندگی میں آپ کے ماں باپ یا دونوں میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی عمر کو نہیں پہنچے، والد گرامی تو آپ کی ولادت سے پہلے فوت ہوگئے تھے اور والدہ محترمہ آمنہ اس وقت فوت ہوگئی تھیں جب آپ کی عمر شریف چھ سال تھی، اس لیے اس آیت میں لامحالہ آپ سے خطاب نہیں ہے بلکہ عام انسان سے خطاب ہے۔ اس آیت میں فرمایا ہے جو شخص شرک کرے گا اس کی مذمت کی جائے گی اور وہ ناکام اور نامراد ہوگا اس کی مذمت کی وجوہ یہ ہیں :

شرک کی مذمت اور شرک کی ناکامی کی توجیہ :

١۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کا شریک ہے وہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹے کی مذمت کی جاتی ہے۔

٢۔ ہم دلائل سے یہ بیان کرچکے ہیں کہ اس کائنات کا خالق اور مالک اللہ تعالیٰ ہے اور وہی تمام انسانوں کو ہر قسم کی نعمتیں دینے والا ہے، اور جس نے کوئی شریک مانا اس نے بعض نعمتوں کو اس شریک کی طرف منسوب کیا حالانکہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہیں اور یہ بہت بڑی ناشکری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا انکار کیا جائے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجائے بتوں کا شکر ادا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر احسان کیا اور اس نے اس کے احساب کا بدلہ اس کی نعمتوں کے انکار سے دیا اس لیے اس کی مذمت کی جائے گی اور اس کے ناکام ہونے کی وجہ سیہ ہے کہ اس نے تمام عمر جو بتوں کی عبادت کی اور اس سلسلہ میں ذلت اور خوری برداشت کی اس کا اس کو کوئی صلہ نہیں ملے گا بلکہ الٹا آخرت میں اس کو عذاب ہوگا اور فرمایا ہے تو مذمت اور خوری سے بیٹھا رہ جائے گا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ تو ذلت اور خواری کے ساتھ ٹھہرا رہے گا خواہ کھڑا ہو یا بیٹھا ہو یا لیٹا ہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 22