أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنِ اهۡتَدٰى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِىۡ لِنَفۡسِهٖ ‌ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا‌ ؕ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ ؕ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيۡنَ حَتّٰى نَبۡعَثَ رَسُوۡلًا ۞

ترجمہ:

جس نے ہدایت کو اختیار کیا تو اس نے اپنے ہی فائدے کے لیے ہدایت کو اختیار کیا ہے، اور جو شخص گمراہی کو اختیار کرتا ہے تو اس کی گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسروں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ ہم رسول نہ بھیج دیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس نے ہدایت کو اختیار کیا تو اس نے اپنے ہی فائدے کے لیے ہدایت کو اختیار کیا ہے، اور جو شخص گمراہی کو اختیار کرتا ہے تو اس کی گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسروں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ ہم رسول نہ بھیج دیں۔ (بنی اسرائیل : ١٥)

اولاد اور شاگردوں کی نیکیوں کا ماں باپ اور اساتذہ کو ملنے کا جواز :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے، اور اس کا معنی یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل کے ساتھ مختص ہے اور اسی معنی کو اللہ تعالیٰ نے یہاں دوسری طرح تعبیر فرمایا، کہ جس نے ہدایت کو اختیار کیا تو اس نے اپنے فائدہ ہی کے لیے ہدایت کو اختیار کیا ہے اور جو شخص گمراہی کو اختیار کرتا ہے تو اس گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا یعنی کسی نیک عمل کا ثواب اس نیک عمل کرنے والے ہی کو ہوگا اور اس کی نیکی کا ثواب کسی دوسرے کو نہیں ہوگا سوا اس صورت کے کہ اس نے اپنے نیک عمل کا ثواب کسی کو پہنچایا ہو جیسے حج بدل اور ایصال ثواب کی دوسری صورتیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

ون لیس للانسان الا ما سعی۔ وان سعیہ سوف یری۔ ثم یجزہ الجزاء الاوفی۔ (النجم : ٤١۔ ٣٩) اور یہ کہ انسان کو اسی عمل کا اجر ملے گا جس کی اس نے کوشش کی ہے۔ اور یہ کہ اس کے عمل کو عنقریب دیکھا جائے گا۔ پھر اس کے عمل کی پوری پوری جزا دی جائے گی۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اولاد کی نیکیوں کا اجر ماں باپ کو ملتا ہے اور علماء کی تعلیم اور تبلیغ سے نیک عمل کرنے والوں کا اجر ان علماء اور مبلغین کو ملتا ہے اور حج بدل کرنے والے کے حج کا اجر حج کرانے والے کو ملتا ہے اور دعا و استغفار اور شفاعت سے ان لوگوں کو اجر ملتا ہے اور ان کی مغفرت ہوتی ہے اور اس میں کسی کی نیکی کا اجر دوسرے کو پہنچتا ہے اور یہ اس آیت کے خلاف ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں جو فرمایا ہے کہ کسی شخص کی سعی کا اجر اسی کو ملے گا اس آیت میں سعی اور عمل سے مراد عام ہے خواہ اس شخص نے وہ عمل کیا ہو یا اس سعی اور عمل کا سبب فراہم کیا ہو، مثلا ماں باپ، اساتذہ، اور مبلغین نے اپنی اولاد اور تلامذہ اور عام لوگوں کو نیک کام کی تعلیم و تربیت دی اور نیکی کی تلقین کی اس سبب سے انہوں نے نیک کام کیے، اس لیے اولاد اور تلامذہ کی نیکیاں ماں باپ اور اساتذہ کی ہی نیکیاں ہیں اور ان کو اپنی ہی نیکیوں کا اجر ملتا ہے، اسی طرح کوئی شخص دوسرے کے لیے تبھی دعا، استغفار اور شفاعت کرتا ہے جب وہ اس کے ساتھ کوئی نیکی کرتا ہے تو حقیقت میں اسے ہی نیکی کا اجر مل رہا ہے، اور حج بدل کرانے والے کا ثواب اس لیے ملتا ہے کہ وہ اس حج کا خرچہ اٹھاتا ہے تو یہ بھی اس شخص کی نیکی ہے، اس طرح ہر شخص کو نیکی کا اجر ملتا ہے خواہ اس کی یہ نیکی بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ۔

انسان اپنے فعل میں مجبور نہیں ہے مختار ہے :

نیز یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ انسان اپنے اعمال میں مجبور نہیں ہے اس کو اختیار دیا جاتا ہے کہ خواہ وہ نیک عمل کرے خواہ برے عمل کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جس نے ہدایت کو اختیار کیا تو اس نے اپنے ہی فائدہ کے لیے اختیار کیا ہے اور جس نے گمراہی کو اختیار کیا تو اس کی گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا : اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا، اس آیت کی دو تفسیریں ہیں :

١۔ کسی شخص سے دوسرے شخص کے گناہوں کا حساب نہیں لیا جائے گا اور دوسرے شخص سے اس کے گناہوں کا حساب نہیں لیا جائے گا بلکہ ہر شخص صرف اپنے گناہوں کا جواب دہ اور ذمہ دار ہے۔

٢۔ کسی شخص کو دوسروں کے برے اعمال کی پیروی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس وجہ سے ان کی نجات نہیں ہوگی کہ یہ برے اعمال اس نے از خود نہیں کیے بلکہ دوسروں کے برے اعمال کی پیروی کی ہے جیسا کہ کافروں نے کہا تھا :

بل قالوا انا وجدنا آباءنا علی امۃ وانا علی اثارھم مھتدون۔ (الزخرف : ٢٢) بلکہ وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور بیشک ہم ان ہی کے نشانات پر چل کر ہدایت پانے والے ہیں۔

آیا گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے یا نہیں ؟

اس آیت سے ام المومنین حضرت عائشہ نے یہ استدلال کیا تھا کہ میت پر زندہ لوگوں کے رونے سے میت کو عذاب نہیں ہوتا اس کی تفصیل ان حدیثوں میں ہے :

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر یہ فرماتے تھے کہ میت پر گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے، پھر جب حضرت عمر کو زخمی کردیا گیا تو حضرت صہیب ان کے پاس روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ہائے میرے بھائی ! ہائے میرے صاحب ! حضرت عمر نے کہا اے صہیب تم مجھ پر رو رہے ہو حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٢٨٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٢٧، سنن النسائی، رقم الحدیث : ١٨٤٨، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٥٩٣)

نیز حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر شہید ہوگئے تو میں نے حضرت عمر کا یہ قول حضرت عائشہ کو بتایا، حضرت عائشہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے بلکہ یہ فرمایا تھا کہ گھر والوں کے رونے سے کافر کے عذاب کو زیادہ کیا جاتا ہے اور تمہارے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کافی ہے :

ولا تزر وازرۃ وزر اخری۔ (الانعام : ١٦٤۔ بنی اسرائیل : ١٣) اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ( صحیح البخاری، رقم الحدیث : ١٢٨٨، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٩٢٧، ٩٢٨، سنن النسائی، رقم الحدیث : ١٨٤٩، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : ١٥٩٣)

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک یہودیہ کی قبر کے پاس سے گزرے جس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے، آپ نے فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو قبر میں عذاب ہورہا ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ١٢٨٩، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٩٣٢، سنن الترمذی، رقم الحدیث : ١٠٠٤، سنن لانسائی، رقم الحدیث : ١٨٥٤ )

حضرت عائشہ کا مطلب یہ تھا کہ جب کوئی شخص کسی کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا تو گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب کیوں ہوگا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسائل میں اصاغر صحابہ اکابر صحابہ سے دلائل کے ساتھ عزت و احترام سے اختلاف کرتے تھے اور اس وجہ سے کوئی صحابہ دوسرے صحابی پر طعن نہیں کرتا تھا نہ ان کے متبعین طعن کرتے تھے، اعلی حضرت امام احمد رضا خان نے ائمہ مجتہدین سے لے کر علامہ شامی تک تمام اکابر فقہا سے اختلاف کیا ہے اور اس چیز کو ان کے فضائل میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس مسئلہ میں بعض دوسرے فقہا کی رائے یہ ہے کہ اگر کسی گھر میں مرنے والے پر رویا جاتا ہے تو اس گھر کے کسی فرد پر اگر رویا جائے تو اس کے رونے سے اس کو قبر میں عذاب ہوگا کیونکہ اس پر لازم تھا کہ وہ گھر والوں کو میت پر رونے سے منع کرتا اور جب اس نے ان کو اس سے منع نہیں کیا تو اس کے مرنے کے بعد ان کے رونے سے اس کو عذاب دیا جائے گا۔ قرآن مجید میں ہے :

یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۔ (التحریم : ٦) اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔

انسان پر صرف یہ لازم نہیں ہے کہ وہ صرف اپنے آپ کو برے کاموں سے بچائے بلکہ اس پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے ماتحت لوگوں کو بھی برے کاموں سے بچائے، اگر وہ خود برے کاموں سے بچا رہا اور اس کے ماتحت لوگ برائیوں میں مبتلا رہے اور اس نے ان کو برے کاموں سے نہیں روکا تو اس سے باز پرس ہوگی اور وہ عذاب کا مستحق ہوگا۔ حدیث میں ہے :

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ہر شخص محافظ ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا، امام محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا، مرد اپنے گھر کا محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا، عورت اپنے شوہر کے گھر کی نگران ہے او اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا، خادم اپنے مالک کے گھر کا محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا اور ایک شخص اپنے باپ کے مال کا محافظ ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا، تم میں سے ہر شخص محافظ ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٨٣٩، سنن الترمذی، رقم الحدیث : ١٧٠٥، مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث، ٢٠٦٤٩، مسند احمد رقم الحدیث : ٤٤٩٥)

جب ہر شخص پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے ماتحت لوگوں کی گناہوں سے حفاظت کرے تو اگر کسی گھرانے میں میت پر رونے کی رسم ہو تو اس گھر کے بڑے پر لازم ہے کہ وہ میت پر رونے سے منع کرے ورنہ اگر اس پر رویا گیا تو اس کو بھی عذاب ہوگا، امام بخاری نے یہ فرمایا ہے کہ اگر اس نے یہ وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد اس پر رویا جائے تو پھر وہ عذاب دیے جانے کا مستحق ہوگا۔

جن لوگوں تک دین کے احکام نہیں پہنچے ان کو عذاب ہونے یا نہ ہونے کی تحقیق :

اس آیت میں یہ فرمایا ہے اور ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ رسول نہ بھیج دیں۔ (بنی اسرائیل : ١٥)

اس آیت سے یہ مسئلہ نکالا گیا ہے کہ جو لوگ اصحاب فترت ہیں یعنی جس زمانہ کے لوگوں کے پاس کوئی رسول نہیں آیا جیسے اہل مکہ کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے کوئی رسول نہیں آیا تھا، قرآن مجید میں ہے :

یاھل الکتب قد جائکم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل۔ (المائدہ : ١٩) اے اہل کتاب بیشک تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے جو تمہارے لیے (ہمارے احکام) بیان فرماتا ہے اس کے بعد کہ رسولوں کی آمد مدتوں رکی رہی تھی۔

اسی طرح وہ لوگ جو بلوغت کا زمانہ پانے سے پہلے بچپن میں فوت ہوگئے تھے اور وہ لوگ جو دور دراز کے علاقوں میں رہتے ہیں جہاں تک دین کے احکام نہیں پہنچے، ایسے تمام لوگوں کو صرف دنیا میں یا دنیا اور آخرت میں عذاب نہیں دیا جائے گا یہ ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے، اس سلسلہ میں پہلے ہم قرآن مجید کی آیات بیان کریں گے، پھر احادیث بیان کریں گے اور اس کے بعد متکمین کے مذاہب اور ان کے نظریات بیان کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق۔

جن لوگوں تک دین کے احکام نہیں پہنچے ان کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وما کان ربک مھلک القرای حتی یبعث فی امھا رسولا یتلوا علیھم ایتنا۔ (القصص : ٥٩) اور آپ کا رب اس وقت تک بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک کہ ان کی کسی بڑی بستی میں ایک رسول نہ بھیج دے جو ان پر ہماری آیتوں کی تلاوت کرے۔

نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

کلما القی فیھا فوج سالھم خزنتھا الم یاتکم نذیر۔ قالوا بلی قد جائنا نذیر فکذبنا وقلنا مانزل اللہ من شیئ ان انتم الا فی ضلل کبیر۔ (الملک : ٨، ٩) جب بھی دوزخ میں کوئی گروہ ڈالا جائے تو اس کے محافظ کہیں گے کیا تمہارے پاس کوئی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں ! بیشک ہمارے پاس عذاب سے ڈرانے والے آئے تھے، سو ہم نے ان کو جھٹلایا اور ہم نے کہا اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی اور تم صرف بہت بڑی گمراہی میں ہو۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ صرف ان ہی لوگوں پر عذاب ہوگا جن کے پاس رسول آئے اور انہوں نے ان کی تکذیب کی۔

وسیق الذین کفروا الی جھنم زمرا، احتی اذا جاوھا فتحت ابوابھا وقال لھم خزنتھا الم یاتارکم رسل من یتلون علیکم ایت ربکم وینذرونکم لقاء یومکم ھذا، قالوا بلی ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکفرین۔ (الزمر : ٧١) اور کافروں کو گروہ در گروہ دوزخ کی طرف ہانکا جائے گا، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے (پھر) اس کے دورازے کھول دیئے جائیں گے اور دوزخ کے نگہبان ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیات تلاوت کرتے تھے، اور تمہیں اس دن کے آنے سے ڈراتے تھے، وہ کہیں گے کیوں نہیں ! مگر عذاب کا حکم کافروں پر ثابت ہوگیا۔

ان آیات کے علاوہ اور بھی آیات ہیں جن کو ہم مذاہب علماء کے ضمن میں بیان کریں گے۔ اب ہم اس سلسلہ میں احادیث بیان کر رہے ہیں :

جن لوگوں تک دین کے احکام نہیں پہنچے ان کے متعلق احادیث :

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ تبارک وتعالی ان تمام روحوں کو جمع کرے گا جو زمانہ فترت (انقطاع نبوت کا زمانہ) میں مرگئے تھے اور کم عقل اور بہرے اور گونگے لوگوں کی روحوں کو اور ان بوڑھے لوگوں کی روحوں کو کہ جب اسلام آیا ان کی بڑھاپے کی وجہ سے عقل فاسد ہوچکی تھی، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایک فرشتہ بھیجے گا جو ان سے کہے گا کہ تم سب دوزخ میں داخل ہوجاؤ، وہ کہیں گے کیوں ہمارے پاس کوئی رسول نہیں آیا تھا اور اللہ کی قسم اگر وہ اس میں داخل ہوجاتے تو وہ دوزخ ان پر ٹھنڈک اور سلامتی والی ہوجاتی، پھر اللہ ان کی طرف ایک رسول بھیجے گا اور ان میں سے جو ان کی اطاعت کرنی چاہے گا وہ ان کی اطاعت کرے گا، پھر حضرت ابوہریرہ نے کہا اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو :

وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا۔ (بنی اسرائیل : ١٥) اور ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک رسول نہ بھیج دیں۔ (جامع البیان، رقم الحدیث : ١٦٧٢٢، تفسیر امام ابن ابی حاتم، رقم الحدیث : ١٣٢١٣، الدر المنثور، ج ٥، ص ٢٥٤، ٢٥٥ )

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

اسود بن سریع بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن چار قسم کے آدمی پیش ہوں گے، ایک بہر شخص جو کچھ نہیں سنتا تھا، ایک احمق آدمی اور ایک بہت بوڑھا آدمی اور ایک وہ آدمی جو زمانہ فترت (جس زمانہ میں کوئی رسول نہیں تھا) میں فوت ہوگیا تھا۔ بہرہ شخص کہے گا اے میرے رب ! اسلام جس وقت آیا میں کچھ نہیں سنتا تھا، اور رہا احمق تو وہ کہے گا : اے میرے رب جس وقت اسلام آیا تو بچے مجھ پر اونٹ کی مینگنیاں پھیکنتے تھے اور بہت بوڑھا شخص کہے گا اے میرے رب ! جس وقت اسلام آیا تو میں کچھ نہیں سمجھت اس تھا اور جو شخص زمانہ فترت میں فوت ہوگیا تھا وہ کہے گا : اے میرے رب ! میرے پاس تیرا کوئی رسول نہیں آیا جو مجھ سے عہد لیتا اور میں اس کی اطاعت کرتا، آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں محمد کی جان ہے اگر یہ لوگ دوزخ میں داخل ہوجاتے تو وہ ان پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جاتی۔ (مسند احمد ج ٤، ص ٢٤، طبعی قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ١٦٤١٠، مطبوعہ عالم الکتب بیروت)

حضرت معاذ بن جبل بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اس شخص کو لایا جائے گا جس کی عقل ناقص ہوچکی تھی اور اس شخص کو لایا جائے گا جو زمانہ فترت میں ہلاک ہوچکا تھا اور اس شخص کو لایا جائے گا جو بچپن میں مرگیا تھا، جس شخص کی عقل ناقص تھی وہ کہے گا : اے میرے رب کاش تو مجھے صحیح عقل عطا فرماتا تو میں اپنی عقل سے کامیاب ہوجاتا اور جو شخص زمانہ فترت میں ہلاک ہوچکا تھا وہ کہے گا : اے میرے رب ! اگر تو میرے پاس اپنا پیغام بھیجتا تو میں تیرے پیغام پر عمل کر کے کامیاب ہوجاتا، اور جو شخص بچپن میں مرگیا تھا وہ کہے گا : اے میرے رب ! اگر تو مجھے طویل عمر دیتا تو میں اس عمر میں نیک عمل کر کے کامیاب ہوجاتا، رب سبحانہ فرمائے گا میں تم کو ایک کام کرنے کا حکم دیتا ہوں کیا تم میری اطاعت کرو گے ؟ وہ کہیں گے ہاں، ہمارے رب تیری عزت کی قسم ! اللہ سبحانہ فرمائے گا جاؤ دوزخ میں داخل ہوجاؤ، آپ نے فرمایا اگر وہ دوزخ میں داخل ہوجاتے تو وہ ان کو بالکل نقصان نہیں پہنچاتی، پھر دوزخ کی آگ کے ٹکڑے ان کی طرف اس طرح جھپٹیں گے جیسے شکاری جانور شکار کی طرف جھپٹتا ہے اور وہ یہ گمان کریں گے کہ اللہ نے جس چیز کو بھی پیدا کیا ہے اس کو ہلاک کردے گی سو وہ واپس آجائیں گے اور کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم دوزخ میں داخل ہونے کے لیے گئے تو آگ کے ٹکڑے ہم پر جھپٹنے کے لیے آگے بڑھے اور ہم نے یہ گمان کیا کہ اللہ نے جس چیز کو بھی پیدا کیا ہے یہ آگ اس کو ہلاک کردے گی، اللہ تعالیٰ ان کو دوبارہ حکم دے گا وہ دوبارہ پہلے کی طرح لوٹ آئیں گے، رب سبحانہ فرمائے گا میں تم کو پیدا کرنے سے پہلے جانتا تھا کہ تم کیا کرو گے، میں نے اپنے علم کے مطابق تم کو پیدا کیا اور میرے علم کے مطابق ہی تمہارا انجام ہونا ہے پھر ان کو دوزخ کی آگ پکڑ لے گی۔ (تمہید ج ٧، ص ٢٧٥، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨٩ ھ، العلل المتاہیہ ج ٢، ص ٢٧٤)

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بتایئے کہ جو شخص بچپن میں فوت ہوگیا وہ آخرت میں کہاں ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ ( ّبڑے ہوکر) کیا عمل کرنے والے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٠٠، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٦٥٩، امسند احمد رقم الحدیث : ٧٣٢١، عالم الکتب سنن ابوداؤد، رقم الحدیث : ٤٧١٤، موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٦٥ )

حضرت ام المومنین عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انصار کے ایک بچے کے جنازہ میں بلایا گیا، میں نے کہا یا رسول اللہ ! اس بچے کے لیے سعادت ہو، یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے کوئی برائی کی نہ کسی برائی کو پایا، آپ نے فرمایا اے عائشہ ! اس کے علاوہ بھی کچھ ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے کچھ لوگوں کو پیدا کیا ہے اور ان کو جنت کے لیے اس وقت پیدا کیا جس وقت وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور کچھ لوگوں کو دوزخ کے لیئے پیدا کیا اور جس وقت ان لوگوں کو دوزخ کے لیے پیدا کیا اس وقت وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٦٦٢، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٤٧١٣، سنن النسائی رقم الحدیث : ١٩٤٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٢)

حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس لڑکے کو حضرت خضر نے قتل کیا تھا اس پر کفر کی مہر تھی اور اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو بھی کفر اور گمراہی میں مبتلا کردیتا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٦٦١، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٤٧١١، سنن النسائی رقم الحدیث : ١٩٥٢ )

جن لوگوں تک دین کے احکام نہیں پہنچے ان کے متعلق فقہاء مالکیہ کے نظریات : 

نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک رسول نہ بھیج دیں۔ اس آیت میں اس چیز پر استدلال کیا گیا ہے کہ جس جزیرہ میں توحید اور رسالت کے دلائل نہ پہنچے ہوں ان لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے۔ علامہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ احکام صرف شرع سے ثابت ہوتے ہیں اور معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ عقل میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ چیزوں کا حسن اور قبح معلوم کرسکے اور بعض چیزوں کو مباح اور بعض کو ممنوع قرار دے سکے، اور جمہور یہ کہتے ہیں کہ یہ دنیا کا حکم ہے یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم کی طرف رسول بھیجے بغیر اور اس کو ڈرائے بغیر اس پر عذاب نازل نہیں فرمائے گا، اور ایک فرقہ نے کہا رسول کو بھیجے بغیر دنیا میں عذاب نازل فرمائے گا اور نہ آخرت میں عذاب دے گا کیونکہ قرآن مجید میں ہے :

تکاد تمیز من الغیظ، کلما القی فیھا فوج سالھم خزنتھا الم یاتکم نذیر۔ قالوا بلی قد جاء نا نذیر فکذبنا وقلنا ما نزل اللہ من شیء، ان انتم الا فی ضلل کبیر۔ (الملک : ٨، ٩) گویا شدت غضب سے دوزخ ابھی پھٹ جائے گی جب بھی ودزخ میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا تو دوزخ کے نگہبان ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ وہ کہیں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس ڈرانے والے آئے تھے، پس ہم نے ان کو جھٹلایا اور کہا اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی اور تم محض بہت بڑی گمراہی میں مبتلا ہو۔

اس آیت سے واضح ہوگیا کہ آخرت میں ان ہی لوگوں کو عذاب ہوگا جن کے پاس رسول پہنچ گئے تھے، سو جس علاقہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسالت کا پیغام نہیں پہنچا ان پر دنیا میں عذاب نازل ہوگا اور نہ آخرت میں انہیں عذاب پہنچے گا۔

ابن عطیہ نے کہا نظر کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو توحید کے ساتھ بھیجا اور حضرت آدم نے تمام عقائد کی اپنے بیٹوں میں تبلیغ کردی، اور اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر دلائل قائم کردیئے جبکہ فطرت سلیمہ ہر شخص پر یہ واجب کرتی ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے اور اس کی شریعت کی اتباع کرے، پھر حضرت نوح نے کفار کے غرق ہونے کے بعد اپنی اولاد میں ان عقائد اور احکام کی تبلیغ کی، اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں تک رسالت کا پیغام نہیں پہنچا اور وہ اہل الفترات ہیں ان کو ایمان نہ لانے پر عذاب نہیں ہوگا۔

بعض روایات میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجنونوں اور بچوں کی طرف رسول بھیجے گا مگر یہ حدیث صحیح نہیں ہے، اور شریعت کا بھی یہی تقاضا ہے کیونکہ آخرت دار تکلیف نہیں ہے اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اہل فترت اور گونگوں اور بہروں کی طرف رسول بھیجے گا اور وہ ان کو دنیا میں جو جواب دیتے وہی جواب دیں یہ حدیث بھی صحیح نہیں ہے، اور ایک قوم نے یہ کہا ہے کہ جو لوگ جزیروں میں رہتے ہیں جب وہ اسلام کی خبر سنیں اور ایمان لائیں تو وہ ماضی کے عمل کے مکلف نہیں ہوں گے اور یہ صحیح ہے، اور جس شخص تک اسلام کی دعوت نہیں پہنچی وہ عقلا عذاب کا مستحق نہیں ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٠، ص ٢٠٩، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

جن لوگوں تک دین کے احکام نہیں پہنچے ان کے متعلق فقہا احناف کا نظریہ :

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

متکلمین اشاعرہ اور فقہاء شافعیہ کا یہ نظریہ ہے کہ اہل فترت (جن کے زمانہ میں کوئی رسول نہیں تھا) کو مطلقا عذاب نہیں دیا جائے گا دنیاق میں نہ آخرت میں، اور جس احادیث میں یہ وارد ہے کہ آخرت میں ان کا امتحان لیا جائے گا یا اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ان میں سے جو ایمان لانے والے ہوں گے ان کو جنت میں بھیج دیا جائے گا اور جن کے متعلق اس کو یہ علم ہوگا وہ ایمان نہیں لائیں گے ان کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا (ہم عنقریب ان احادیث کو باحوالہ بیان کریں گے) ان کا جواب یہ ہے کہ یہ احادیث اخبار احاد ہیں وہ ان نصوص کے مزاحم نہیں ہوسکتیں جن میں یہ تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کے بھیجنے سے پہلے عذاب نہیں دے گا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل فترت میں سے بعض کو عذاب دیا جائے اور اس کی وجہ کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہی علم ہے اور وہ بعض اہل فترت ان آیات کے عموم سے مستثنی ہوں، اور استثنا کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ذکر ہے کہ حضرت خضر (علیہ السلام) نے ایک لڑکے کو بچپن میں قتل کردیا تھا کیونکہ اس نے بڑے ہو کر کافر ہونا تھا اسی طرح اھادیث میں ذکر ہے کہ زمانہ فترت میں عمرو بن لحی نے جو کفریہ کام کیے تھے ان کی وجہ سے اس کو دوزخ میں عذاب ہوگا اور وہ اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہوگا، کیونکہ وہ پہلا شخص تھا جس نے بحیرہ، سائبہ، وصیلہ و حام کے نام رکھے، ان کو بتوں کے لیے نامزد کیا اور اسکے کھانے کو حرام قرار دیا اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اصحاب فترت میں سے ان لوگوں کو عذاب نہیں ہوگا جن تک کسی بھی رسول کے احکام نہ پہنچے ہوں اور جو طریقہ انبیاء سابقین سے چلا آرہا ہو اس میں انہوں نے تغیر اور تبدیل نہ کیا اور بت پرستی نہ کی ہو کیونکہ شرک اور بت پرستی ایسے گناہ ہیں جن کو معاف نہیں کیا جائے گا اور ان میں کوئی شخص معذور نہیں ہے۔

اور جس نظریہ کی طرف قلب مائل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی وحدت اور اس کے والاد سے منزہ ہونے کے لیے کسی شریعت سابقہ کے وارد ہونے سے پہلے بھی انسان کی عقل کافی ہے اور اللہ تعالیٰ کا رسولوں کو بھیجنا اور کتابوں کو نازل فرمانا محض اس کی رحمت ہے یا اس نے اس لیے رسولوں کو بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادات کی اقسام اور مختلف جرائم کی حدود کو انسان محض اپنی عقل سے نہیں جان سکتا، اور نہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت اور اس کی توحید کو جاننے کے لیے انسان کی عقل کافی ہے کیونکہ ریگستان میں پڑی ہوئی اونٹوں کی مینگنیاں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ یہاں سے اونٹوں کا گزر ہوا ہے تو سورج، چاند، اور ستاروں سے معمور فضا آسمان اور سمندروں، دریاؤں اور چشموں والی زمین اللہ تعالیٰ کے وجود پر کیوں دلالت نہیں کرے گی۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی کہ دوزخ کے فرشتے دوزخیوں سے کہیں گے :

اولم تک تاتیکم رسلکم بالبینت قالوا بلی۔ (المومن : ٥٠) کیا تمہارے پاس رسول روشن نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں۔ْ

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

رسلا مبشرین و منذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل۔ (النساء : ١٦٥) ہم نے خوشخبری دیتے ہوئے اور عذاب کی وعید سناتے ہوئے رسول بھیجے تاکہ رسولوں کو بھیجنے کے بعد اللہ کے سامنے لوگوں کے لیے عذر پیش کرنے کا کوئی موقع نہ رہے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیجنے کی حکمت بیان فرمائی :

ولو انا اھلکنھم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسولا فنتبع ایتک من قبل ان نذل ونخزی۔ (طہ : ١٣٤) اور اگر ہم رسولوں سے پہلے ان کو کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ ضرور کہتے کہ اے ہمارے رب ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم ذلیل و خوار ہونے سے پہلے تیری آیتوں کی پیروی کرلیتے۔

نیز فرمایا :

ذلک ان لم یکن ربک مھلک القری بظم واھلھا غفلون۔ (الانعام : ١٣١) یہ اس لیے کہ آپ کا رب بستیوں والوں کو ظلما ہلاک کرنے والا نہیں اس حال میں کہ وہ (رسولوں کی تعلیمات سے) بیخبر ہوں۔

ایسی تمام آیتوں کا محمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیجے بغیر ان پر اس دنیا میں عذاب نازل نہیں فرمائے گا، لیکن آخرت میں کفار کے لیے عذاب لازم ہے اور ان اہل فترت پر بھی عذاب ہوگا جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل اور شعور عطا کیا تھا اور ان کو غور و فکر اور استدلال کرنے کی قوت عطا کی تھی جس سے وہ اس جہان کو دیکھ کر اس کے پیدا کرنے والے کو جان سکتے تھے، خاص طور پر وہ لوگ جن تک رسولوں میں سے کسی نہ کسی رسول کا پیغام پہنچ چکا تھا۔

اور ایسے کسی علاقہ کا پایا جانا بہت مشکل ہے جہاں کے لوگوں تک کسی نہ کسی رسول کا پیغام پہنچا ہو، ہوسکتا ہے کہ کسی زمانہ میں امریکہ کے کسی دور دراز جزیرہ یا افریقہ کے جنگلات میں کوئی ایسی جگہ ہو لیکن آج کی مہذاب دنیا میں جبکہ پوری دنیا کی چھان بین کرلی گئی ہے اور روئے زمین کے ہر گوشہ کے متعلق معلومات اکٹھی کی جاچکی ہیں کسی ایسے علاقہ کا پایا جانا بہت مشکل ہے جہاں پر کسی بھی ذریعہ سے کسی نہ کسی رسول کا پیغام نہ پہنچا ہو، پھر ائمہ اور فقہاکا اس میں اختلاف ہے کہ جن لوگوں تک کسی رسول کا پیغام نہیں پہنچا آیا ان کو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے عذاب ہوگا یا نہیں، بعض کے نزدیک ان کو بالکل عذات نہیں ہوگا اور بعض ائمہ کے نزدیک ان لوگوں کو عذاب ہوگا جن کے پاس غور و فکر کرنے کی صلاحیت تھی، باقی رہا تمام قسم کی عبادات کو بجا لانا اور جرائم کا ارتکاب نہ کرنا اور جرائم کے ارتکاب کرنے والے پر حد جاری کرنا سو ظاہر ہے کہ یہ رسولوں کی تعلیمات کے بغیر نہیں ہوسکتا سو جن لوگوں تک رسولوں کا پیغام نہ پہنچا ہو ان پر ان امور کے ترک کی وجہ سے مطلقا عذاب نہیں ہوگا۔

علامہ عبدالحق خیر آباد متوفی ١٣١٨ ھ لکھتے ہیں :

بعض احناف نے یہ کہا ہے کہ بعض احکام کا ادراک کرنے میں عقل مستقل ہے، اس لیے انہوں نے کہا کہ ایمان واجب ہے اور کفر حرام ہے، اسی طرح ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہ ہو مثلا کذب اور جہل وغیرہ یہ بھی حرام ہے، حتی کہ عقل مند بچہ جو ایمان اور کفر میں تمیز کرسکتا ہو اس پر ایمان لانا واجب ہے، اور اس مسئلہ میں ان کے اور معتزلہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور وہ (احناف) اس کے قائل ہیں کہ بعض اشیا کا حکم عقل سے معلوم ہوجاتا ہے اور شرع پر موقوف نہیں ہوتا، اور امام ابوحنیفہ سے یہ منقول ہے کہ جو شخص اپنے خالق سے جاہل ہو اس کا عذر مقبول نہیں ہے، کیونکہ وہ اللہ کے وجود اور اس کی ذات پر دلائل کا مشاہدہ کر رہا ہے، اور حق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات پر ایمان لانا تمام عقلاء کے نزدیک صفت کمال ہے اور اللہ تعالیٰ کا کفر کرنا سب کے نزدیک صٖفت نقصان ہے، نیز ایمان کا معنی ہے نعمت کا شکر ادا کرنا اور یہ صٖفت کمال ہے اور کفر کرنا نعمت کا کفر ہے اور یہ صفت نقصان ہے، پس عقل کے نزدیک ایمان حسن ہے اور کفر قبیح ہے لہذا اگر انسان اس کام کو ترک کردے جو عقل کے نزدیک حسن ہے تو وہ عذاب کا مستحق ہوگا، خواہ اس تک اللہ کا حکم نہ پہنچے اور وہ معذور نہیں ہوگا، البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کو عذاب نہیں دیا جائے گا کیونکہ اس کے پاس بالفعل اللہ کا حکم نہیں پہنچا، اور عقل پر اعتماد کلی نہیں ہے۔

امام ابوحنیفہ کے مذہب پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اگر رسول کے بھیجنے اور اس کی دعوت کے بغیر ایمان لانا واجب ہو تو اس سے لازم آئے گا کہ اگر کوئی شخص عقل کے حکم پر اللہ اور اس کی صفات پر ایمان لائے بغیر مرجائے تو لازم آئے گا کہ رسولوں کے بھیجے بغیر بھی اس کو عذاب دیا جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا۔ (الاسرا : ١٥) ہم اس وقت عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ رسول نہ بھیج دیں۔ 

اس کا جواب یہ ہے کہ جب کسی انسان پر غورو فکر کی مدت گزر جائے تو پھر اس کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہتا، کیونکہ غور و فکر کی مدت عقل کو متنبہ کرنے کے لیے رسولوں کی بعثت کے قائم مقام ہے اور یہ مدت مختلف ہوتی ہے کیونکہ لوگوں کی عقلیں مختلف ہوتی ہیں امام فخر الاسلام نے اصول بزدوی میں یہ کہا ہے کہ ہم جو کہتے ہیں کہ انسان عقل سے مکلف ہوتا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ جب اللہ اس کی تجربہ سے مدد فرماتا ہے اور اس کو انجام کا ادراک کرنے کی مہلت مل جاتی ہے تو پھر وہ معذور نہیں رہے گا، خواہ اس کو رسول کی دعوت نہ پہنچی ہو، جیسا کہ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ کم عقل شخص جب پچیس سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اس سے اس کے مال کو روکا نہیں جائے گا، لیکن اللہ پر ایمان لانے کے باب میں عمر کی کوئی حد نہیں مقرر کی گئی۔ بہرحال جب انسان پر غور وفکر کی مدت گزر جائے جس مدت میں اس کا دل متنبہ ہوسکے تو یہ مدت اس کے حق میں رسول کی دعوت کے قائم مقام ہے۔ ہم نے بیان مذاہب کی جو تقریر کی ہے اس پر یہ مسئلہ متفرع ہوتا ہے کہ جو انسان دور دراز کے پہاڑوں میں بالغ ہو اور اس تک رسول کی دعوت نہ پہنچی ہو اور نہ اس کی ضروریات دین کا عقیدہ رکھا ہو اور نہ احکام شرعیہ پر عمل کیا ہو تو معتزلہ اور احناف کی ایک جماعت کے نزدیک اس کو آخرت میں عذاب ہوگا کیونکہ اس کی عقل جن احکام کا ادراک کرنے میں مستقل تھی اس نے اس کے تقاضے پر عمل نہیں کیا، صحیح یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ معتزلہ اور بعض احناف کے نزدیک اس کو مطلقا کفر کے اختیار کرنے پر عذاب ہوگا خواوہ وہ بلوغت کی ابتدا میں کفر کو اختیار کرے خواہ غور و فکر کی مدت گزرنے کے بعد کفر کو اختیار کرے، اسی طرح اگر وہ ایمان نہیں لایا پھر بھی اس کو عذاب ہوگا خواہ بلوغت کی ابتدا میں اللہ پر ایمان نہ لایا ہو یا غور و فکر کی مدت گزرنے کے بعد ایمان نہ لایا ہو، اور اشاعرہ اور جمہور حنفیہ کے نزدیک اس کو عذاب نہیں ہوگا، کیونکہ حکم شرع سے ثابت ہوتا ہے اور مفروض یہ ہے کہ اس شخص کے پاس شریعت کی دعوت نہیں پہنچی، اس لیے اشاعرہ اور جمہور حنفیہ کے نزدیک اس شخص کے ایمان نہ لانے یا کفر کرنے کی وجہ سے اس کو عذاب نہیں دیا جائے گا کیونکہ ان کے نزدیک شرط یہ ہے کہ انسان تک تمام احکام کی دعوت پہنچ جانی لازم ہے۔ (شرح مسلم الثبوت، ص ٦٢۔ ٦٠، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ)

اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ :

١۔ جمہور معتزلہ اور بعض احناف کے نزدیک رسول کی بعثت نہ ہو پھر بھی انسان پر واجب ہے کہ وہ اللہ کی ذات اور صفات پر ایمان لائے اور اس کے ساتھ کفر نہ کرے، اگر وہ ایمان نہیں لایا اور اس نے کفر کیا تو اس کو عذاب ہوگا۔

٢۔ امام ابوحنیفہ سے ایک روایت یہ ہے کہ اگر ایسے شخص نے اللہ کی معرفت حاصل نہ کی تو وہ مستحق عذاب ہوگا خواہ اس کو عذاب نہ ہو۔

٣۔ اشاعرہ اور جمہور احناف کا مذہب یہ ہے کہ جب تک کسی شخص کے پاس رسول کی دعوت اور شریعت کا پیغام نہ پہنچے وہ ایمان لانے یا کسی اور حکم کو بجا لانے کا مکلف نہیں ہے۔ جمہور کا استدلال النساء : ١٦٥، الاسرا : ١٥ اور حسب ذیل آیت سے ہے :

ولو انا اھلکنھم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسولا فنتبع ایتک من قبل ان نذل ونخزی۔ (طہ : ١٣٤) اور اگر ہم انہیں رسول کے آنے سے پہلے کسی عذاب میں ہلاک کردیتے تو وہ ضرور کہتے اے ہمارے رب ! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی اتباع کرتے، اس سے پہلے کہ ہم زلیل اور رسوا ہوجاتے۔

امام حافظ یوسف بن عبداللہ بن عبدالبر مالکی قرطبی متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں :

بالغ ہونے سے پہلے فوت ہونے والے بچوں کے متعلق حسب ذیل اقوال ہیں :

١۔ تمام بچے خواہ وہ مومنوں کے بچے ہوں یا کافروں کے جو بلوغت سے پہلے فوت ہوجائیں وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہیں وہ چاہے تو ان پر حم فرمائے اور وہ چاہے تو ان کو عذاب دے اور یہ سب اس کا عدل ہے اور اسی کو علم ہے ان بچوں نے بڑے ہو کر کیا کرنا تھا۔

٢۔ اکثر علماء کا مذہب یہ ہے کہ مسلمانوں کے بچے جنت میں ہوں گے اور کفار کے بچے اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہیں۔

٣۔ تمام بچوں کا دنیا اور آخرت میں وہ حکم ہوگا جو ان کے آباء کا حکم ہوگا مومنوں کے بچے اپنے آباء کے ایمان کے حکم سے مومن قرار پائیں گے اور کافروں کے بچے اپنے آباء کے حکم سے کافر قرار پائیں گے سو مسلمانوں کے بچے جنت میں ہوں گے اور کافروں کے بچے دوزخ میں ہوں گے۔

٤۔ مشرکین کے بچے اہل جنت کے خادم ہوں گے۔

٥۔ ان بچوں کا آخرت میں امتحان لیا جائے گا۔

٦۔ مسلمانوں کی اولاد ہو یا کافروں کی جب وہ بلوغت سے پہلے فوت ہوگی تو وہ سب جنت میں ہوگی۔

ان تمام نظریات کے حاملین نے اپنے اپنے موقف پر احادیث اور آثار سے استدلال کیا ہے۔ (التمہید ج ٧، ص ٢٥٥، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ١٤١٩)

نابالغ اولاد کا اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہونا :

حماد، ابن المبارک اور اسحاق کا مذہب یہ ہے کہ مومنوں کے بچے ہوں یا کفروں کے وہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہیں۔

حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ امام مالک کا بھی یہی مزہب ہے۔ (فتح الباری ج ٣، ص ٢٤٦، ) اس کی دلیل یہ ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر بچہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی، یا نصرانی بنا دیتے ہیں جیسے تم دیکھتے ہو کہ جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نقص دیکھتے ہو ؟ صحابہ نے کہا یا رسول اللہ یہ بتائیں کہ جو شخص بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوجائے ؟ آپ نے فرمایا اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ (بڑے ہوکر) کیا کرنے والے تھے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٦٥٩٩، ٦٦٠٠، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٦٥٨، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٧١٤، موطا امام مالک رقم الحدیث : ١٦٥، مسند احمدر قم الحدیث : ٧٣٢١، عالم الکتب، التمہید ج ٧ ص ٢٥٥، ٢٥٦، المعجم الکبیر ج ١٢، ص ٥٢ )

حضرت ام المومنین حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس انصار کا ایک بچہ لایا گیا جس پر نماز پڑھی جانی تھی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس بچہ کے لیے سعادت ہو یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے۔ اس نے نہ کوئی برا کام کیا نہ اس کے متعلق جانتا تھا، آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! اس کے علاوہ اور بھی کچھ ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور کچھ لوگوں کو جنت کے لیے پیدا کیا اور جس وقت ان کو جنت کے لیے پیدا کیا اس وقت وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے اور اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو پیدا کیا اور جس وقت ان کو دوزخ کے لیے پیدا کیا اس وقت وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٦٢، سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٤٧١٣، سنن النسائی رقم الحدیث : ١٩٤٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٨٢، مسند احمد ج ٦، ص ٢٠٨، التمہید ج ٧ ص ٢٦٠ )

مسلمانوں کے بچوں کا جنت میں ہونا :

بعض اصحاب شافعی اور ابن حزم کا مسلک یہ ہے کہ مسلمانوں کے بچے جنت میں ہوں گے اور کفار کے بچے اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہیں۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٢٤٦) ان کی دلیل یہ ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمانوں میں سے جس کے بھی تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں اللہ تعالیٰ ان بچوں کو اور اس کے والد کو اپنے فضل اور رحمت سے جنت میں داخل فرما دے گا، قیامت کے دن ان کو لایا جاے ئ گا اور ان سے کہا جائے گا جنت میں داخل ہوجاؤ وہ کہیں گے نہیں، حتی کہ ہمارے آبا بھی جنت میں داخل ہوں، ان سے کہا جائے گا تم اور تمہارے آبا میرے فضل اور رحمت سے جنت میں داخل ہوجاؤ۔ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : ١٦٠٥، مسند احمد ج ٢ ص ٤٧٣، التمہید ج ٧، ص ٢٦٥، کنز العمال، رقم الحدیث : ٦٥٦٠، الکامل لابن عدی ج ٥ ص ٢٦٣، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ١٤١٨ ھ)

معاویہ بن قرۃ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اپنے بیٹے کو لے کر آیا، آپ نے فرمایا کیا تم اس بچے سے محبت کرتے ہو ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ : آپ سے بھی اللہ اتنی محبت رکھے جتنی محبت میں اس بچے سے رکھتا ہوں۔ پھر وہ بچہ فوت ہوگیا، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو کئی دن تک نہیں دیکھا آپ نے اس کے متعلق پوچھا وہ کہاں ہے، صحابہ نے کہا یا رسول اللہ اس کا بچہ فوت ہوگیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے فرمایا : کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تم جنت کے جس دروازہ سے بھی داخل ہونا چاہو تمہارا بچہ بھاگتا ہوا آئے اور تمہارے لیے وہ دروازہ کھول دے، صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! آیا یہ صرف اس کی خصوصیت ہے یا یہ ہم سب کے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا بلکہ یہ تم سب کے لیے ہے۔ (سنن النسائی، رقم الحدیث : ١٨٦٩، مسند احمد ج ٥، ص ٣٥، المستدرک، ج ١ ص ٣٨٤، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٣٥٤، مجمع الزوائد، ج ٣ ص ٩، التمہید ج ٧ ص ٢٦٥ )

حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ جب ابراہیم (رض) فوت ہوگئے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے لیے جنت میں دودھ پلانے والی ہے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ١٣٨٢، مسند احمد ج ٤ ص ٣٠٠، المستدرک، ص ٣٨، دلائل النبوۃ ج ٧، ص ٢٨٩، شرح السنہ ج ١٤، ص ١١٥، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٣٧٩، مجمع الزوائد ج ٩، ص ١٦٢، التمہید ج ٧ ص ٢٦٥، ٢٦٦ )

مشرکین کے بچوں کا دوزخ میں داخل ہونا :

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ مسلمانوں کے بچے کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا اے عائشہ جنت میں، پھر میں نے آپ سے سوال کیا کہ مشرکین کے بچے قیامت کے دن کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا دوزخ میں، حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے کہا یا رسول اللہ انہوں نے اعمال کا زمانہ نہیں پایا اور ان پر قلم تکلیف جاری نہیں ہوا ؟ آپ نے فرمایا تمہارا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ (بڑے ہوکر) کیا عمل کرنے والے تھتے، اور اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر تم چاہو تو میں تمہیں ودزخ میں ان کے رونے اور چلانے کی آواز سنا دوں۔

حافظ ابن عبد البر فرماتے ہیں اس حدیث کا ایک روای بہیتہ ہے اس جیسے راوی کی حدیث سے استدلال نہیں کیا جاتا۔ بالفرض اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو وہ اس جیسی دیگر احادیث کی طرح خصوصیت کی متحمل ہے۔ (تمہید ج ٧، ص ٢٧١، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٩ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس حدیث کو امام احمد کے حوالے سے لکھا ہے اور یہ کہا ہے کہ اس کی سند کا ایک راوی ابو عقیل متروک ہے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٢٤٦، مطبوعہ لاہور ١٤٠١ ھ)

مشرکین کی اولاد کا اہل جنت کا خادم ہونا :

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مشرکین کی اولاد اہل جنت کی خادم ہوگی۔ (المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٩٩٦، یہ حدیث حضرت سمرہ بن جندب سے بھی مروی ہے، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٠٦٦، تمہید : ج ٧، ص ٢٦٨ )

میدان قیامت میں بچوں اور دیگر کا امتحان ہونا :

حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں جو شخص زمانہ فترت میں فوت ہوگیا اور کم عقل اور بچہ کے متعلق آپ نے فرمایا جو شخص زمانہ فترت میں ہوگیا تھا وہ قیامت کے دن کہے گا نہ میرے پاس کتاب آئی اور نہ رسول آیا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :

ولو انا اھلکنھم بعذاب من قبلہ لقالوا ربنا لو لا ارسلت الینا رسولا۔ (طہ : ١٣٤) اور اگر ہم اس سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کردیتے تو یقینا یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا (تاکہ ہم تیری آیتوں کی اتباع کرتے، اس سے پہلے ہم ذلیل و خوار ہوتے)

آپ نے پوری آیت پڑھی۔

اور کم عقل کہے گا اے میرے رب ! تو نے میری کامل عقل کیوں نہ بنائی تاکہ میں خیر اور شر کو سمجھتا اور نابالغ بچہ کہے گا اے میرے رب ! میں نے تو عمل کرنے کا زمانہ ہی نہ پایا، آپ نے فرمایا پھر ان کے لیے دوزخ پیش کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا اس میں داخل ہوجاؤ جو شخص اللہ کے علم میں نیک ہوگا اور اچھے عمل کرے گا وہ اس میں داخل ہوجائے گا اور جو شخص اللہ کے علم میں شقی ہوگا خواہ وہ عمل کا زمانہ نہ پائے وہ اس میں داخل نہیں ہوگا آپ نے فرمایا : اللہ عزوجل فرمائے گا تم نے میری نافرمانی کی ہے تو اگر میرے رسول تمہارے پاس آتے تو تم ان کی نافرمانی کیوں نہ کرتے۔ (تمہید ج ٧، ص ٢٧٤)

تمام بچوں کا جنت میں داخل ہونا خواہ مسلمان ہوں یا کافر :

امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ ایک طویل حدیث روایت کی ہے جس کے آخر میں مذکور ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ایک خواب کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرمایا وہ دراز قامت شخص جو باغ میں تھے وہ حضرت ابراہیم ہیں اور جو بچے آپ کے گرد تھے یہ وہ بچے تھے جو فطرت پر فوت ہوگئے، بعض مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہ مشرکین کی اولاد بھی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مشرکین کی اولاد بھی۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٠٤٧، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٢٧٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢٩٤، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ٧٦٥٨، مسند احمد ج ٥، ص ٨، المعجم الکبیر ج ٧ ص ٢٨٦، الترغیب والترہیب ج ١ ص ٣٨٩، التمہید ج ٧ ص ٢٦٩ )

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ حضرت خدیجہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اولاد مشرکین کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ (بڑے ہوکر) کیا کرنے والے تھے، پھر اسلام کے مستحکم ہونے کے بعد میں نے آپ سے سوال کیا تو یہ آیت نازل ہوئی :

ولا تزر وازرۃ وزر اخری۔ (بنی اسرائیل : ١٥) اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

آپ نے فرمایا وہ فطرت پر ہیں یا فرمایا وہ جنت میں ہیں۔ (مسند احمد ج ٦، ص ٨٤، المعجم الکبیر ج ٨ ص ١٠٣، مجمع الزوائد ج ٥، ص ٣١٦، التمہید ج ٧ ص ٢٦٨ )

خنساء کے چچا بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نبی جنت میں ہوگا، اور شہید جنت میں ہوگا اور بچہ جنت میں ہوگا اور جس کو زندہ درگور کیا گیا وہ جنت میں ہوگا۔ (سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٢٥٢١، مسند احمد ج ٥ ص ٥٨، مصنف ابن ابی شیبہ ج ٥، ص ٣٣٩، المعجم الکبیر ج ١ ص ٢٦٣، التمہید ج ٧ ص ٢٦٦، مجمع الزوائد ج ٤ ص ٣٢١ )

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انسان کی اولاد میں سے کھیلنے کودنے والوں (بچوں) کے متعلق میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ ان کو عذاب نہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول فرما لی۔ (مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٣٥٧٠، مجمع الزوائد ج ٧ ص ٢١٩، التمہید ج ٧ ص ٢٦٨ )

خلاصہ بحث :

نابالغ بچوں کے متعلق صحیح مذہب یہی ہے کہ وہ جنت میں ہوں گے اور یہی احادیث صحیحہ کا تقاضا ہے قرآن مجید کی آیات سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے اور جو احادیث اس کے خلاف ہیں وہ اس پائے کی نہیں ہیں اور نہ قرآن مجید سے مزاحم ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا اس وقت تک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے متعلق علم نہیں دیا گیا تھا۔ اور اصحاب فترت کے متعلق بھی صحیح یہی ہے کہ جن لوگوں کی عقل کامل تھی اور ان کو قوت استدلال دی گئی تھی وہ اس بات کا مکلف تھے کہ اس جہان کا کوئی صانع ہے اور وہ صانع واحد ہے اور باقی معتقدات اور احکام شرعیہ کے وہ مکلف نہیں ہیں۔

حافظ ابن کثیر دمشقی متوفی ٧٧٤ ھ نے اس آیت (بنی اسرائیل : ١٥) کے تحت اصحاب فترت اور اطفال کے متعلق علماء کے نظریات اور ان کے دلائل بہت تفصیل کے ساتھ ذکر کیے ہیں، اور حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ بدر الدین عینی نے بھی اس مبحث کو اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ (فتح الباری، ج ٣ ص ٦١٧، ٦١٨، مطبوعہ بیروت، عمدۃ القادری جز ٨ ص ٢١٢، ٢١٣، اور حافظ ابن عبد البر مالکی نے اس مبحث کو سب سے زیادہ تفصیل سے بیان کی ہے، تمہید ج ٧ ص ٢٥٥، ٢٧٧ لاستذ کا درج ٨ ص ٣٩٠، ٤٠٨)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 15