أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ كَانَ يُرِيۡدُ الۡعَاجِلَةَ عَجَّلۡنَا لَهٗ فِيۡهَا مَا نَشَآءُ لِمَنۡ نُّرِيۡدُ ثُمَّ جَعَلۡنَا لَهٗ جَهَنَّمَ‌ۚ يَصۡلٰٮهَا مَذۡمُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ۞

ترجمہ:

جو شخص (صرف) دنیا کا طلبگار ہو ہم اس کو اسی دنیا میں سے جتنا ہم چاہیں دے دیتے ہیں پھر ہم اس کا ٹھکانا دوزخ کو بنا دیتے ہیں جس میں وہ مذمت کے ساتھ دھتکارا ہوا داخل ہوگا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو شخص (صرف) دنیا کا طلبگار ہو ہم اس کو اسی دنیا میں سے جتنا ہم چاہیں دے دیتے ہیں پھر ہم اس کا ٹھکانا دوزخ کو بنا دیتے ہیں جس میں وہ مذمت کے ساتھ دھتکارا ہوا داخل ہوگا۔ اور جو شخص آخرت کا طلبگار ہو اور اس کے لیے ایمان کے ساتھ بھر پور کوشش کرے تو ان ہی لوگوں کی کوشش مشکور (مقبول) ہوگی۔ ہم آپ کے رب کی عطا سے اس کی اور اس کی (ہر فریق کی) مدد کرتے ہیں، اور آپ کے رب کی عطا کسی سے روکی ہوئی نہیں ہے۔ آپ دیکھیے ہم نے کس طرح ان کے بعضوں کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور آخرت کے بہت بڑے درجات ہیں اور اس کی فضیلت بھی بہت بڑی ہے۔ (اے مخاطب) تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو عبادت کا مستحق نہ بنا کہ تو ناکام اور مذمت کیا ہوا بیٹھا رہ جائے۔ (بنی اسرائیل : ٢١۔ ١٨)

مشکل الفاظ کے معانی :

العاجلۃ : اس سے مراد ہے الدار العاجلہ، یعنی جو آسودگیاں جلد مل جائیں۔ یصلاھا : یعنی اس میں داخل ہوگا، مذموما : یعنی مذمت کیا ہو اور ملامت کیا ہوا۔ مدحورا : یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور کیا ہوا۔ ومن اراد الاخرۃ وسعی لھا سعیھا : یعنی جس نے آخرت کا ارادہ کیا اور ایسے عمل کیے جو آخرت کے لائق ہیںِ اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کا حکم دیا ہے ان کو بجا لایا اور جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے رکا رہا، اور من گھڑت کاموں یا آباو اجداد کی تقلید سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل نہیں کیا۔ کان سعیھم مشکورا : یعنی اس کے وہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہوں گے اور اس کو ان پر ثواب ملے گا، اللہ تعالیٰ کے شکر کرنے کا معنی یہ ہے کہ وہ عبادات پر ثواب عطا فرمائے گا۔ محظورا : ممنوع۔

صرف دنیا کے طلب گار کا انجام :

بعض انسان دنیا میں اپنے اعمال سے دنیا کی منفعتوں، لذتوں اور دنیا میں اقتدار اور حاکمیت کے حصول کا ارادہ کرتے ہیں، یہ لوگ انبیاء (علیہم السلام) کی اطاعت کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کو یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی اطاعت کی تو ان کی اپنی سرداری اور چودھراہٹ جاتی رہے گی، اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں سے جتنا حصہ انہیں دینا چاہے وہ ان کے دے دیتا ہے اور انجام کار آخرت میں ان کو جہنم میں داخل کردے گا اور وہ مذمت کیے ہوئے اور دھتکارے ہوئے جہنم میں داخل ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس کو ہم چاہیں، جتنا چاہیں دے دیتے ہیں، اس میں یہ بتایا ہے کہ دنیا کی زیب وزینت اور دنیا کی نعمتیں ہر ایک کافر کو نہیں ملتیں بلکہ کتنے کفار اور گمراہ لوگ ہیں جو دنیا کی طلب میں دین سے اعراض کرتے ہیں وہ دین اور دنیا دونوں سے محروم رہتے ہیں، اس میں بھی دنیا کی طلب میں دین سے اعراض کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے کہ انہوں نے دنیا کی طلب میں دین سے اعراض کیا اور وہ دنیا سے بھی محروم رہے۔

نیک اعمال مقبول ہونے کا ایمان پر موقوف ہونا :

اس کے بعد فرمایا : اور جو شخص آخرت کا طلبگار ہو اور وہ اس کے لیے ایمان کے ساتھ بھرپور کوشش کرے تو ان ہی لوگوں کی کوشش مشکور (مقبول) ہوگی۔

اس آیت میں کوشش کے مقبول ہونے کی تین شرطیں بیان فرمائی ہیں۔ ایمان، نیت، اللہ کا تقرب حٓصل کرنے کا صحیح طریقہ۔

ایمان کی طرف اس لیے ہے ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا، قرآن مجید میں ہے :

من عمل صالحا من زکر او انثی وھو مومن فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ ولنجزینھم اجرھم باحسن ما کانوا یعملون۔ (النحل : ٩٧) جس شخص نے نیک عمل کیے خواہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے اور ان کے نیک اعمال کا ان کو ضرور بہترین اجر عطا فرمائیں گے۔

اس آیت میں بھی یہ فرمایا ہے کہ نیک اعمال کے مقبول ہونے کے لیے ایمان شرط ہے۔

و قدمنا الی ما عملوا من عمل فجعلنہ ھباء منثورا۔ (الفرقان : ٢٣) اور ہم (کافروں کی طرف) متوجہ ہوں گے اور انہوں نے اپنے (زعم میں) جو بھی (نیک) عمل کیے ہم ان کو (فضا میں) بکھرے ہوئے غبار کے ذرات بنادیں گے۔

من یرتد منکم عن دینہ فیمت وھو کافر فاولئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والاخرۃ، و اولئک اصحب النار ھم فیھا خالدون۔ (البقرہ : ٢١٧) جو لوگ اپنے دین سے پلٹ جائیں اور اسی کفر کی حالت میں مرجائیں تو ان کے (نیک) اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوجائیں گے اور وہ لوگ دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ۔ (المائدہ : ٥) اور جس نے ایمان لانے سے انکار کیا اس کے (نیک) عمل ضائع ہوگئے۔

حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! زمانہ جاہلیت میں ابن جدعان رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتا تھا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ عمل اس کو آخرت میں نفع دے گا ؟ آپ نے فرمایا یہ عمل اس کو نفع نہیں دے گا، کیونکہ اس نے ایک دن بھی ہی نہیں کہا : اے میرے رب ! قیامت کے دن میری خطاؤں کو بخش دینا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢١٤)

علامہ نووی متوفی ٦٧٦ ھ نے لکھا ہے :

قاضی عیاض نے فرمایا اس پر اجماع ہے کہ کفار کو ان کے نیک اعمال سے نفع نہیں ہوگا، ان کو آخرت میں ان کی نیکیوں پر کوئی اجر وثواب نہیں ملے گا، اور نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی، البتہ کافروں کے جرائم کے اعتبار سے بعض کو بعض سے زیادہ شدید عذاب ہوگا۔ (صحیح مسلم بشرح النووی ج ٢ ص ١٠٩١، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ)

نیک اعمال کے مقبول ہونے کا نیت پر موقوف ہونا :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین۔ (البینہ : ٥) اور انہیں صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اطاعت کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں۔

اس آیت میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے اور اسی طرح احادیث میں ہے :

حضرت عمر بن الخطاب بیا کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اعمال کا مدار نیات پر ہے، ہر شخص کے کام پر وہی ثمر مرتب ہوگا جس کی اس نے نیت کی ہو، پس جس شخص نے اپنی ہجرت سے دنیا کی نیت کی ہو جس کو وہ حاصل کرے یا کسی عورت کی نیت کی ہو جس کو وہ حاصل کرے تو اس کی ہجرت اسی طرف محسوب ہوگی جس کی طرف اس نے نیت کی ہو۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٠٧، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٢١٠١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٦٤٧، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٧٩٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢٢٧، مسند احمد رقم الحدیث : ١٦٨ )

حضرت ابو موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : اور کہا یا رسول اللہ ! کون سا قتال اللہ کی راہ میں ہے ؟ کیونکہ ہم میں سے کوئی شخص غضب کی وجہ سے قتال کرتا ہے، اور کوئی شخص تعصب کی بنا پر قتال کرتا ہے، آپ نے سر اٹھا کر فرمایا جو شخص اللہ کے دین کو سربلند کرنے کے لیے قتال کرے وہ اللہ کی راہ میں قتال ہے۔ (صحیح البکاری، رقم الحدیث : ١٢٣، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٩٠٤، سنن ابو داؤأد رقم الحدیث : ٢٥١٧، سنن الترمذی، رقم الحدیث : ١٦٤٦، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣١٣٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٨٣)

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نہ تمہارے جسموں کی طرف دیکھے گا نہ تمہاری صورتوں کی طرف دیکھے گا، لیکن وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھے گا اور آپ نے اپنی انگلیوں سے اپنے سینے کی طرف اشارہ کیا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٥٦٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٢١٣)

حضرت ابو بکرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب دو مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ تلواروں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! یہ قتال تو مستحق ہے لیکن مقتول کا کیا قصور ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ بھی تو اپنے قاتل کے قتل پر حریص تھا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٣١، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٨٨٨، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٢٦٨، سنن النسائی رقم الحدیث : ٤١٢٠ )

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک غزوہ میں فرمایا : ہم مدینہ میں کچھ لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں، ہم جس گھاٹے میں بھی گئے یا جس وادی سے بھی گزرے وہ ہمارے ساتھ تھے، وہ کسی عذر کی وجہ سے نہیں جاسکے تھے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٢٨٣٩، مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٩٠٥، عالم الکتب بیروت)

حضرت عبادہ بن الصامت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص کسی جہاد کے لیے گیا اور اس کی جہاد سے نیت فقط ایک رستی تھی تو اسکو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی تھی۔ (سنن النسائی، رقم الحدیث : ٣١٣٨، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٣٠٦٨، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢٤٢١ )

حضرت سہل بن سعد الساعدی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے اور منافق کا عمل اس کی نیت سے بہتر ہے اور ہر شخص اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے اور جب مومن کوئی عمل کرتا ہے تو اس کے دل میں نور پھیل جاتا ہے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٥٩٤٢، حافظ الہیثمی نے کہا اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں ماسوا حاتم بن عباد کے، مجمع الزوائد ج ١ ص ٦١ )

حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے شہدا کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : میری امت کے اکثر شہدا وہ ہیں جو بستروں پر فوت ہوئے اور جو صفوں کے درمیان قتل کیے گئے ان کی نیتوں کو اللہ ہی جانتا ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ٣٩٧، طبع قدیم، احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند ضعیف ہے، مسند احمد رقم الحدیث : ٣٧٧٢، مطبوعہ دار الحدیث قاہرہ، ١٤١٦ ھ، مسند احمد رقم الحدیث : ٣٧٧١، مطبوعہ عالم الکتب بیروت، احیاء العلوم ج ٤ ص ٣١٥، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٦ ھ)

حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ ہم میں ایک شخص تھا، اس نے ام قیس نام کی ایک عورت کو نکاح کا پیغام دیا، اس نے کہا جب تک تم ہجرت نہیں کرو گے میں تمہارے ساتھ نکاح نہیں کروں گی، اس نے ہجرت کرلی اور اس عورت نے پھر اس شخص سے نکاح کرلیا، ہم اس شخص کو مہاجر ام قیس کہتے تھے۔ وہ مرد اور وہ عورت دونوں ہذلی تھے۔ (الاصابہ، رقم الحدیث : ١١٢١٥، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت ١٤١٥ ھ)

حضرت صہیب بن سنان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی عورت کا مہر مقرر کیا اور وہ اس مہر کو ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا اس نے اللہ کا نام لے کر اس عورت کو دھوکا دیا اور جھوٹ کے بدلہ میں اس کی فرج کو حلال کیا، وہ قیامت کے دن اس حال میں اللہ سے ملاقات کرے گا کہ وہ زانی ہوگا اور جس شخص نے کسی سے قرض لیا اور وہ اس کو ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ چور ہوگا۔ (شعب الایمان رقم الحدیث : ٥٠٤٨ )

حضرت عبداللہ بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لیے خوشبو لگائی قیامت کے دن اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہوگی اور جس نے غیر اللہ کے لیے خوشبو لگائی قیامت کے دن اس کی بدبو مرادار سے زیادہ بری ہوگی۔ (الاتحاف ج ١٠، ص ١٠، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

نیک اعمال کے مقبول ہونے کا صحیح طریقہ عبادت پر موقف ہونا :

جو شخص اجر آخرت کا ارادہ کرے اس کے لیے تیسری شرط یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کا صحیح طریقہ استعمال کرے۔ امام فخر الدین رازی اللہ تعالیٰ کے تقرب کے حصول کا صحیح طریقہ لکھتے ہیں :

وہ ایسے عمل کرے جن کی وجہ سے وہ آخرت کے ثواب کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے اور یہ تب ہوگا کہ وہ ایسے کام کرے جن کا تعلق اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادات سے ہو کیونکہ بعض لوگ باطل طریقوں سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتے ہیں، کفار باطل کاموں سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرتے ہیں اور وہ دو تاویلوں سے ایسا کرتے ہیں : 

١۔ وہ کہتے ہیں کہ تمام جہان کے خالق اور مالک کا رتبہ اس سے بہت بلند ہے کہ ہم میں سے کوئی ایک آدمی اس کی اطاعت اور عبادت کرنے کی جرات کرے، بلکہ ہماری ادنی حیثیت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں، جو اللہ کے مقرب بندے ہیں، مثلا ہمیں چاہیے کہ ہم ستاروں کی یا فرشتوں کی عبادت کریں سو وہ اس وجہ سے ستاروں اور فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور یہ باطل طریقہ ہے۔

٢۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انبیاء اور اولیاء کی صورتوں کے مجسمے بنا لیے ہیں (جیسے عیسائیوں کے کیتھولک فرقے نے حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی صورتوں کے بت بنا لیے ہیں اور وہ ان کی عبادت کرتے ہیں اور ہندوؤں نے رام اور کرشن کی صورتوں کے بت بنا لیے ہیں اور وہ ان کی عبادت کرتے ہیں) اور وہ کہتے ہیں کہ ان کی عبادت کرنے سے ہماری مراد یہ ہے کہ انبیاء اور اولیاء اللہ تعالیٰ سے ہماری شفاعت کریں گے، اور یہ بھی باطل طریقہ ہے، اسی طرح بعض ہندو جوگی نفس کشتی کرتے ہیں اور بعض عیسائی رہبانیت اختیار کرلیتے ہیں، یہ سب باطل طریقے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل نہیں ہوتا، اللہ کا تقرب حاصل کرنے کا مستحسن طریقہ یہ ہے کہ قرآن عظیم، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت مبارکہ، اجماع اور ائمہ مجتہدین کی ہدایات کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کی جائے۔ اور پیش آمدہ مصائب اور مشکلات میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی جائے اور اسی پر بھروسہ کیا جائے اور دعا میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، صحابہ کرا، ، آل اطہار اور مقبولان بارگاہ کا وسیلہ پیش کیا جائے۔

نیک اعمال کے مشکور ہونے کا یا اللہ تعالیٰ کے شکر کرنے کی توجیہ :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو ان ہی لوگوں کی کوشش مشکور ہوگی، اس کا معنی یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوشش کا شکر ادا کرے گا اس پر یہ اعتراض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ اس کا شکر ادا کیا جائے نہ یہ کہ وہ شکر ادا کرے، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے شکر کرنے کا معنی یہ ہے کہ وہ بندوں کے نیک اعمال کی تعریف و تحسین فرمائے گا ان کی حوصلہ افزائی فرمائے گا اور ان کے نیک کاموں کی ان کو اچھی جزا دے گا۔

امام رازی نے لکھا ہے کہ شکر تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے، کسی شخص کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ نیک عمل کرتا ہے اور زبان سے اس کی تعریف اور تحسین کرنا، اور ایسے کام کرنا جس سے یہ پتا چلے کہ یہ شخص شکر کرنے والے کے نزدیک مکرم اور معظم ہے، اور اللہ تعالیٰ نیک عمل کرنے والوں کے ساتھ یہ تینوں کام کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ یہ بندہ نیک کام کرنے والا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے کلام سے ان کی مدح فرماتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک معظم اور مکرم ہے اور یہی شکر کا مفہوم ہے اور جن آیات اور احادیث میں یہ آتا ہے کہ فلاں عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشکور ہے اس کی یہی توجیہ ہے۔

امیر و غریب کے طبقاتی فرق کی حکمتیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ دیکھیے کہ ہم نے کس طرح ان کے بعض پر فضیلت دی ہے اور آخرت کے بہت بڑے درجات ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آپ دیکھیے کس طرح ہماری عطا دین اور دنیا پر محیط ہے، ہم ایک مومن تک اپنی نعمتیں پہنچاتے ہیں اور دوسرے مومن پر دنیا تنگ کردیتے ہیں، اسی طرح ہم ایک کافر پر اپنی نعمتیں کھول دیتے ہیں اور دوسرے کافر اپنی نعمتیں بند کردیتے ہیں اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا ورفعنا بعضھم فوق بعض درجت لیتخذ بعضھم بعض سخریا۔ (الزخرف : ٣٢) ہم نے ہی ان کے درمیان دنیاوی زندگی کی روزی کو تقسیم کیا ہے اور ان میں سے بعضوں کو بعض پر درجات کی بلندی دی ہے تاکہ بعض دوسروں کو اپنا ماتحت اور تابع فرمان بنا سکیں۔

یعنی مال و دولت، جاہ و منصب اور عقل و فہم میں ہم نے اس لیے یہ فرق رکھا ہے تاکہ زیادہ مال والا کم مال والے کو اور بلند منصب والا کم منصب والے کو اور زیادہ عقل والا کم عقل والے کو اپنا ماتحت بنا سکے اور زیادہ مالدار تنگ دستوں سے کام لے سکے، اللہ تعالیٰ کی اسی حکمت بالغہ سے کائنات کا نظام چل رہا ہے، اگر سب برابر ہوتے تو کوئی کسی کا کام کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا، بلڈنگوں کے بنانے کے لیے مزدور ضروری ہیں اسی طرح سڑکیں، پل اور کارخانے ان کے بغیر نہیں بن سکتے، جوتی کی مرمت کرنے والے، جوتی بنانے والے، جوتی فروخت کرنے والے، اسی طرح کپڑے بنانے والے، کپڑے سینے والے، اور کپڑے دھونے والے ضروری ہیں علی ھذا القیاس۔ اس کائنات کے نظام کے لیے سب قسم کے لوگ ناگزیر ہیں اور اگر سب لوگ ایک درجہ کے ہوتے تو یہ نظام کائنات چل ہی نہیں سکتا تھا، جو لوگ سوشلزم اور کمیونزم کے نعرے لگا کر لوگوں کے جذبات ابھارتے ہیں اور انہیں خوشحال لوگوں کے خلاف مشتعل کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ طبقاتی امتیاز ختم ہونے چاہیں اور سب لوگ ایک درجہ میں ہونے چاہیں وہ اپنے جسم کی ساخت پر غور کریں ان کا دماغ کھوپڑٰ میں ہے، پیشاب مثا نے میں ہے اور فضلہ بڑی آنت میں ہے، اگر فضلہ کھوپڑی میں ہوتا، پیشاب رگوں میں ہوتا اور دماغ یا بھیجا بڑی آنت میں ہوتا تو ان کا کیا حال ہوتا، جو چیز جس جگہ کے لائق تھی اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو اسی جگہ رکھا ہے اور جس طرح اس عالم صغیر میں ہر چیز اپنے صحیح محل میں ہے اسی طرح عالم کبیر میں بھی ہر چیز اپنے صحیح مقام پر ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کم دولت والوں کو زیادہ دولت والوں کا محتاج نہ بناتا تو اس کائنات کا طبعی نظام جاری نہیں رہ سکتا تھا، اور تہذیب و تمدن اور تعمیر و ترقی کا سلسلہ برقرار نہیں رہ سکتا تھا بلکہ نظام عالم فاسد ہوجاتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشاء، انہ بعبادہ خبیر بصیر۔ (الشوری : ٢٧) اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو وہ زمین میں فساد اور سرکشی کرتی، لیکن وہ (اپنے) اندازے سے جس قدر چاہتا ہے رزق نازل فرماتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا انہیں خوب دیکھنے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو دوسرے بعض لوگوں کور زق میں جو فضیلت دی ہے اس کی ایک اور حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :

وھو الذی جعلکم خلفئف الارض ورفع بعضکم فوق بعض درجت لیبلوکم فی ما اتکم ان ربک سریع العقاب وانہ لغفور رحیم۔ (الانعام : ١٦٥) اور وہی ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا اور بعض کا درجہ دوسرے بعضوں پر بلند کیا تاکہ جو چیزیں تم کو دی ہیں ان میں تمہاری آزمائش کرے، بیشک آپ کا رب بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بےحد مغفرت کرنے والا ہے اور بےحساب رحم فرمانے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے رزق کی مساوی تقسیم نہیں کی اس کی ایک حکمت دنیا کے اعتبار سے ہے اور دوسری حکمت آخرت کے اعتبار سے ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو زیادہ مال دیا ہے وہ عموما مال و دولت کی بنا پر عیش و عشرت اور رنگ رلیوں میں پڑ کر گناہ کرتے ہیں اور آخرت کو کھو دیتے ہیں اور جن کو کم مال دیا ہے وہ اپنے فقر و فاقہ پر صبر کرتے ہیں، گناہوں سے بچتے ہیں اور عبادت میں زیادہ کوشش کر کے اپنی آخرت بنا لیتے ہیں۔ پھر فرمایا اور آخرت کے بہت بڑے درجات ہیں۔ دنیا میں مخلوق کی ایک دوسرے پر فضیلت محسوس اور مشاہد ہے اور آخرت میں ان کی ایک دوسرے پر فضیلت غیب ہے، اور جس طرح آخرت کی دنیا پر بےانتہا فضیلت ہے حتی کہ ہم یہاں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے اسی طرح اخروی درجات کی وج دنیاوی درجات پر فضیلت ہے وہ بھی بےحد و حساب ہے سو انسان کو چاہیے کہ وہ دنیاوی بڑائی کے حصول کی بجائے اخروی بڑائی کے حصوصل کی کوشش کرے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 18