أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَاۤ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نُّهۡلِكَ قَرۡيَةً اَمَرۡنَا مُتۡرَفِيۡهَا فَفَسَقُوۡا فِيۡهَا فَحَقَّ عَلَيۡهَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰهَا تَدۡمِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اور جب ہم کسی بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے عیش پرستوں کو اپنے احکام بھیجتے ہیں وہ ان احکام کی نافرمانی کرتے ہیں پھر وہ عذاب کے حکم کے مستحق ہوجاتے ہیں سو ہم ان کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہم کسی بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے عیش پرستوں کو اپنے احکام بھیجتے ہیں وہ ان احکام کی نافرمانی کرتے ہیں پھر وہ عذاب کے حکم کے مستحق ہوجاتے ہیں سو ہم ان کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔ (بنی اسرائیل : ١٦)

مشکل اور اہم الفاظ کے معانی :

اترفنا : ترف کا معنی ہے کسی شخص کو بہت زیادہ نعمتیں عطا فرمانا اور اس کا مرفہ الحال ہونا۔ (المفردات ج ١ ص ٩٦، مطبوعہ مکہ مکرمہ)

علامہ ابن اثیر نے لکھا ہے المترف کا معنی ہے جس شخص کو مرغوب اور لذت والی چیزیں بکثرت دی گئی ہوں۔ حدیث میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جبار مترف یعنی ظالم عیش پرست کے پاس گئے۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٢٤٤، رقم الحدیث : ١٣٥٩٧) (النہایہ ج ١ ص ١٨٣، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، ١٤١٨ ھ)

ففسقوا : فسق کا معنی ہے کسی چیز کا خارج ہونا جو شخص شریعت کی قیود سے خارج ہو وہ فاسق ہے اس کا معنی کفر سے عام ہے اس کا اطلاق گناہوں پر ہوتا ہے خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ، فاسق کا اطلاق زیادہ تر اس شخص پر ہوتا ہے جو شخص احکام شرعیہ کا اقرار اور التزام کرے، پھر وہ تمام احکام یا بعض احکام کی خلاف ورزی کرے، اور جب کافر اصلی کو فاسق کہا جاتا ہے تو اس کا معنی ہوتا ہے اس نے ان احکام کی خلاف ورزی کی جو عقل اور فطرت کا تقاضا ہیں۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٩١، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

علامہ ابن اثیر متوفی ٦٠٣ ھ نے لکھا ہے فسق کا معنی ہے استقامت اور میانہ روی سے خارج ہوجا اور ظلم کرنا، معصیت کرنے والے کو فاسق کہتے ہیں، چوہے کو فاسق کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بل سے نکل کر لوگوں کی چیزیں خراب کرتا ہے، اسی طرح حدیث میں پانچ جانوروں، چیل، کوے، کاٹنے والے کتے، سانپ اور بچھو کو فاسق فرمایا ہے کیونکہ وہ حرم میں قتل نہ کیے جانے کے عمومی حکم سے خارج ہوگئے۔ (النہایہ ج ٣ ص ٣٩٩، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت) 

عرف میں فاسق اس شخص کو کہتے ہیں جو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو۔

تد میرا : کسی چیز کو ہلاک کرنا اور تباہ و برباد کردینا۔ (المفردات ج ١ ص ٢٢٩، مطبوعہ مکہ مکرمہ)

اللہ تعالیٰ رحیم ہے وہ اپنے بندوں پر عذاب نازل کرنے کے لیے بہانے نہیں ڈھونڈتا :

اس آیت پر بہ ظاہر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسل میں کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتا ہے پھر اس کی بنیاد اور جواز فراہم کرنے کے لیے وہاں کے عیش پرستوں کو اپنے احکام بھیجتا ہے تاکہ وہ ان احکام کی نافرمانی کریں پھر اللہ تعالیٰ ان پر آسمانی عذاب نازل فرما کر ان کو تباہ و برباد کردے، اور ان کو تباہ و برباد کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار فرماتاس ہے کہ ان پر احکام نازل کیے جائیں اور وہ ان کی خلاف ورزی کریں تاکہ ان پر عذاب نازل کرنے کا جواز مہیا ہو۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش نہیں ہوتا کہ اس کے بندوں کو عذاب میں مبتلا کیا جائے وہ صرف اس سے راضی ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت اور عبادت کی جائے اور بندوں کو اجر وثواب دیا جائے وہ فرماتا ہے :

ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم۔ (النساء ؛ ١٤٧) اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر ادا کرتے رہو اور ایمان پر قائم رہو۔

شکر ادا کرنے کا معنی یہ ہے کہ برے کاموں کو ترک کیا جائے اور نیک کاموں کو دوام اور تسلسل کے ساتھ کیا جائے اور تاحیات ایمان کے خلاف کوئی کام نہ کیا جائے۔ اور فرماتا ہے :

وما کنا مھل کی القری الا واھلھا ظالمون۔ (القصص : ٥٩) اور ہم بستیوں کو صرف اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب ان کے رہنے والے ظلم کرنے پر کمر باندھ لیتے ہیں۔

ان اللہ یا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم۔ (الرعد : ١١) بیشک اللہ کی قوم میں تغیر نہیں کرتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے اندر تغیر نہ کرے۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو امن اور سلامتی اور خوشحالی اور آزادی کی جو نعمت دی ہے وہ نعمت اس وقت تک اس قوم سے واپس نہیں لیتا جب تک کہ وہ معصیت کر کے اپنے آپ کو ان نعمتوں کا نااہل ثابت نہیں کردیتی۔

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خوامخواہ کسی قوم کو عذاب دینا نہیں چاہتا جب تک کہ وہ اپنے کرتوتوں سے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق نہیں کرلیتی، اور اس آیت میں جو فرمایا ہے اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں یہ علم تھا کہ فلاں بستی کے لوگ ایمان نہیں لائیں گے اور وہ اپنے مال و دولت کی وجہ سے غرور وتکبر کی انتہا کو پہنچ جائیں گے اور ان کی سرکشی اور بغاوت بہت بڑھ جائے گی، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی حجت پوری کرنے کے لیے اپنے رسولوں کو بھیجے گا اور ان پر اپنے احکام نازل فرمائے گا اور جب وہ ان احکام کی کھلم کھلا نافرمانی کریں گے تو پھر اللہ تعاولی ان پر آسمانی عذاب نازل فرما کر ان کو نیست و نابود فرمادے گا۔

دراصل یہ آیت ان ہی آیات کی تفسیر ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا :

وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا۔ (بنی اسرائیل : ١٥) اور ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ رسول نہ بھیج دیں۔

وما کان ربک مھلک القری حتی یبعث فی امھا رسولا یتلوا علیھم ایتنا وما کنا مھل کی القری الا واھلھا ظالمون۔ (القصص : ٥٩) آپ کا رب کسی بستی کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک کہ ان کی کسی بڑی بستی میں اپنا رسول نہ بھیج دے جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے اور ہم بستیوں کو صرف اسی وقت ہلاک کرتے ہیں جب ان کے رہنے والے ظلم پر کمر باندھ لیں۔

ذلک ان لم یکن ربک مھلک القری بظم واھلھا غفلون۔ (الانعام : ١٣١) یہ اس لیے ہے کہ آپ کا رب کسی بستی والوں کو ان کے کفر کی وجہ سے اس حال میں ہلاک نہیں کرتا کہ وہ غافل ہوں۔

اس جواب کی ایک اور تقریر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ محض اپنے علم کی وجہ سے کسی کو عذاب نہیں دے گا جب تک کہ لوگ ایسے عمل نہ کریں جن کی وجہ سے وہ عذاب کے مستحق ہوں، یعنی جن لوگوں کے متعلق اس کو علم ہے کہ جب وہ ان کو ایمان لانے اور نیک کام کرنے کا حکم دے گا تو وہ ایمان نہیں لائیں گے اور نیک کام نہیں کریں گے، تو وہ محض اپنے علم کی وجہ سے ان کو لوگوں کو عذاب نہیں دے گا بلکہ ان کو ایمان لانے اور نیک کام کرنے کا حکم دے گا، اور جب لوگوں کے سامنے ان کی نفارمانی ظاہر ہوجائے گی تو پھر ان کو عذاب دے گا اس لیے فرمایا : اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے عیش پرستوں کو اپنے احکام بھیجتے ہیں سو وہ ان احکام کی نافرمانی کرتے ہیں پھر وہ عذاب کے حکم کے مستحق ہوجاتے ہیں سو ہم ان کو تباہ و برباد کردیتے ہیں اور اس کا معنی یہ ہے کہ جب ہم کسی قوم کو ہلاک کرنے کی تقدیر کو نافذ کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس قوم کے امیروں اور سرداروں کو ایمان لانے کا حکم دیتے ہیں جن کا یہ گمان ہوتا ہے کہ ان کا مال اور ان کی اولاد اور ان کے مددگار ان سے ہمارے اس عذاب کو دور کردیں گے جو ہمارے رسولوں کی تبلیغ پر عمل نہ کرنے اور ان کی توہین کرنے اور ان کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ان پر واجب ہوا ہے، وہ اس زعم میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کی سابق تقدیر کے مطابق ان پر عذاب آجاتا ہے۔ خلاسہ یہ ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں کیونکہ ہمیں علم ہوتا ہے کہ یہ نافرمانی کے علاوہ کچھ نہیں کریں گے تو ان کو اہلاک کرنے کے لیے ہم صرف اپنے علم پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس بستی کے امیروں اور سرداروں کو ایمان لانے کا حکم دیتے ہیں وہ اس حکم کی نافرمانی کرتے ہیں جب ان کی نافرمانی حد سے بڑھ جاتی ہے تو ہم اس بستی کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔

اس جواب کی دوسری تقریر یہ ہے کہ جب کسی بستی میں کھلم کھلا ہمارے احکام کی خلاف ورزی کی جاتی ہے اور کھلے عام ہماری نافرمانی کی جاتی ہے تو ہم ان پر عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتے اور ان کی ابتدائی نافرمانیوں پر گرفت نہیں کرتے بلکہ اس بستی کے امیروں اور سرداروں کو ان نافرمانیوں سے باز رہنے کا حکم دیتے ہیں اور ان کو توبہ کرنے کی مہلت اور موقع دیتے ہیں، امیروں اور سرداروں کو حکم دینے کا خصوصیت سے اس لیے ذکر کیا کہ امیروں اور سرداروں پر اللہ تعالیٰ کی زیادہ نعمتیں ہوتی ہیں اور نعمتوں کی زیادتی زیادہ شکر کو واجب کرتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ ان کو بار بار توبہ کرنے اور رجوع کرنے کا حکم دیتا ہے اور ان کے توبہ نہ کرنے کے باوجود ان سے نعمتوں کا سلسلہ منقطع نہیں کرتا تو ان کا عناد، تکبر اور سرکشی بڑھ جاتی ہے تو پھر ان پر اللہ تعالیٰ عذاب نازل فرما دیتا ہے۔

اس جواب کی یہ دونوں تقریریں اس طرح راجع ہیں کہ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والی قوم کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا رہتا ہے حتی کہ جب اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوجاتی ہے اور پانی سر سے گزر جاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل فرما دیتا ہے۔

اب اس آیت پر یہ اعتراض نہیں ہوگا کہ اصل میں تو اللہ تعالیٰ ان بستیوں پر عذاب نازل کرنا چاہتا تھا لیکن عذاب نازل کرنے کا جواز مہیا کرنے کے لیے اور اس کا قانونی تقاضا پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس بستی کے عیش پرستوں کے پاس اپنے احکام بھیجے تاکہ وہ ان احکام کی نافرمانی کریں اور اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل فرما سکے۔ 

اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر عذاب نازل کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈے، اسے اپنے بندوں پر عذاب نازل کرنے کی کیا ضرورت ہے وہ تو اپنے بندوں پر رحم کرنا چاہتا ہے اور جس طرح ان کو دنیا میں نعمتیں دی ہیں آخرت میں بھی ان نعمتوں سے نوازنا چاہتا ہے، لیکن وہ اس کے بندے بنیں تو سہی اپنی خواہشوں کے بندے نہ بنیں اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا نااہل ثابت نہ کریں۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے کیے ہیں اس نے ننانوے حصے اپنے پاس رکھ لیے اور زمین پر رحمت کا ایک حصہ نازل کیا اور رحمت کے اس حصہ سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے حتی کہ گھوڑٰ اپنے بچہ کے اوپر سے اپنا پیر اٹھا لیتی ہے کہ کہیں اس کے پیر کے نیچے اس کا بچہ کچلا نہ جائے۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث : ٦٠٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٥٢، سنن الترمذی، رقم الحدیث : ٣٥٤١، مسند احمد رقم الحدیث : ٨٣٩٦)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 16