أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِمَّا تُعۡرِضَنَّ عَنۡهُمُ ابۡتِغَآءَ رَحۡمَةٍ مِّنۡ رَّبِّكَ تَرۡجُوۡهَا فَقُلْ لَّهُمۡ قَوۡلًا مَّيۡسُوۡرًا ۞

ترجمہ:

اور اگر تم کو اپنے رب کی رحمت (وسعت رزق) کی توقع اور جستجو میں ان سے اعراض کرنا پڑے تو ان کو کوئی نرم بات کہہ کر ٹال دو ۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تم کو اپنے رب کی رحمت (وسعت رزق) کی توقع اور جستجو میں ان سے اعراض کرنا پڑے تو ان کو کوئی نرم بات کہہ کر ٹال دو ۔ (بنی اسرائیل : ٢٨ )

اگر سائل کو دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو نرم روی کے ساتھ معذرت کرنا :

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر تمہارا ہاتھ تنگ ہو اور تمہارا اپنا بہ مشکل گزارا ہو رہا ہو اور تمہارے پاس اتنی گنجائش نہ ہو کہ تم ضرورت مندوں کی مدد کرسکو، اور تمہارے غریب رشتہ دار، مسکین اور مسافر تم سے سوال کریں تو ان کے ساتھ نرمی سے معذرت کرو اور سخت لہجے سے ان کو منع کرنے اور جھڑکنے اور ڈانٹنے سے اور بد اخلاقی کے ساتھ پیش آنے سے احتراز کرو۔

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

ابن زید نے کہا یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دینے سے انکار فرماتے تھے، کیونکہ آپ کو علم تھا کہ یہ اس مال کو ضائع کردیں گے، تو آپ ان کو مال نہ دینے میں اجر کی توقع رکھتے تھے، کیونکہ اگر آپ ان کو مال دیتے اور وہ مال کو ضائع کردیتے تو آپ اس مال کے ضیاع میں ان کے مددگار قرار پاتے، اور عطا خراسانی نے کہا اس آیت میں والدین کا ذکر نہیں ہے، قبیلہ مزینہ سے کچھ لوگ آئے وہ آپ سے سواری طلب کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس پر میں تم کو سوار کروں، وہ لوگ واپس چلے گئے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اگر تم کو اپنے رب کی رحمت کی توقع اور جستجو میں ان سے اعراض کرنا پڑے تو ان کو کوئی نرم بات کہہ کر ٹال دو ۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ان سے نرم بات کہہ کر معذرت کرو، یعنی اگر تنگ دستی کیو جہ سے تم ان کا سوال پورا کرنے سے قاصر ہو تو نرمی کے ساتھ ان سے معذرت کرلو، اور ان کے لیے کشائش رزق اور فراخ دستی کی دعا کرو، اور یوں کہو اگر مجھے کچھ مل گیا تو میں تم کو ضرور دوں گا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جب سوال کیا جاتا اور آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہوتا تو آپ انتظار میں خاموش رہتے کہ اللہ کے پاس سے کچھ رزق آجائے گا اور سائل کے رد کرنے کو ناپسند فرماتے اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔

جب آپ سے سوال کیا جاتا اور آپ کے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہوتا تو آپ فرماتے اللہ تم کو اور ہم کو اپنے فضل سے عطا فرمائے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 28