أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَعَلۡنَا الَّيۡلَ وَالنَّهَارَ اٰيَتَيۡنِ‌ فَمَحَوۡنَاۤ اٰيَةَ الَّيۡلِ وَجَعَلۡنَاۤ اٰيَةَ النَّهَارِ مُبۡصِرَةً لِّتَبۡتَغُوۡا فَضۡلًا مِّنۡ رَّبِّكُمۡ وَلِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِيۡنَ وَالۡحِسَابَ‌ؕ وَكُلَّ شَىۡءٍ فَصَّلۡنٰهُ تَفۡصِيۡلًا‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے، پھر ہم نے رات کی نشانی مٹادی اور دن کی نشانی کو روشن بنادیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو، اور سالوں کی گنتی کرو اور حساب کو جان لو، اور ہم نے ہر چیز کو تفصیل سے بیان کردیا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے، پھر ہم نے رات کی نشانی مٹا دی اور دن کی نشانی کو روشن بنادیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو، اور سالوں کی گنتی کرو اور حساب کو جان لو، اور ہم نے ہر چیز کو تفصیل سے بیان کردیا ہے۔ (بنی اسرائیل : ١٢)

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ہم نے تمہارے لیے رات اور دن کی دو مختلف نشانیاں بنائی ہیں، رات کی نشانی اندھیرا ہے اور دن کی نشانی روشنی ہے، رات کو اس لیے بنایا ہے تاکہ تم اس میں آرام کرو، اور دن کو اس لیے بنایا ہے کہ تم اس کی روشنی میں اس رزق کو تلاش کرو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہارے لیے مقدر کردیا ہے، اور تاکہ تم رات اور دن کے اختلاف سے اپنے لیے ہفتہ کے دنوں، مہینوں اور سالوں کا شمار کرسکو اور رات اور دن کے اوقات کی تعیین کرسکو۔

علامہ قرطبی لکھتے ہیں : حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا تو اپنے عرش کے نور سے سورج اور چاند کو پیدا کیا پس یہ دونوں شمس کی طرح روشن تھے پھر اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جس چیز کو شمس ہونا تھا اس کو تمام دنیا کے مشارق اور مغارب جتنا بنایا اور جس نے اللہ عالی کے علم ازلی میں قمر ہونا اس کو شمس سے حجم اور ضیا میں کم بنایا اور چونکہ یہ ہم سے بہت فاصلہ پر ہیں اس لیے ہم کو یہ حجم میں کم دکھائی دیتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ سورج اور چاند اپنے اصل حجم اور اصل ضیا پر باقی رکھتا تو رات اور دن کا فرق معلوم نہ ہوتا اور نہ کام کرنے والے کے لیے اس تعیین کا کا ذریعہ ہوتا کہ وہ کب تک کام کرے اور نہ روزہ دار کے لیے علامت ہوتی کہ وہ کب تک روزہ رکھے، نہ عورت کی عدت کے لیے کوئی معیار اور پیمانہ ہوتا اور نہ نماز اور حج کے اوقات کی تعیین کی معرفت کا کوئی ذریعہ ہوتا، اور نہ قرض ادا کرنے اور وصول کرنے کی حد کا کوئی ذریعہ ہوتا، اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کا سلسلہ قائم کیا اور نظام کائنات کے لیے تقویم بنادی، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت رحم کرنے والا ہے اس نے اپنے بندوں کی ضروریات کے مطابق شمس کا نور اپنی اصل پر رکھا اور چاند کے نور کو کم کردیا۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٠، ص ٢٠٦، مطبوعہ دار الفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

امام ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔ (کتاب الموضوعات ج ١، ص ١٣٩)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 12