أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَمۡ اَهۡلَكۡنَا مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡۢ بَعۡدِ نُوۡحٍ‌ؕ وَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوۡبِ عِبَادِهٖ خَبِيۡرًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے نوح کے بعد کتنی ہی امتوں کو ہلاک کردیا، اور آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے اور دیکھنے کے لیے کافی ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے نوح کے بعد کتنی ہی امتوں کو ہلاک کردیا، اور آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے اور دیکھنے کے لیے کافی ہے۔ (بنی اسرائیل : ١٧)

بدکاروں کے وعید اور نیکوکاروں کے لیے بشارت :

اس آیت میں بتایا ہے کہ ہم نے جس طریقہ کا ذکر کیا ہے کہ رسولوں کو بھیجنے کے باوجود جب کوئی قوم نافرمانی اور سرکشی کرتی ہے تو ہم اس قوم کو ہلاک کردیتے ہیں، یہی طریقہ ہماری سنت جاریہ ہے اور ہم نے پچھلی قوموں مثلا عاد اور ثمود وغیرھم کے ساتھ بھی یہی طریقہ اختیار کیا تھا نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کی خبر رکھنے اور دیکھنے کے لیے کافی ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام معلومات کا جاننے والا ہے ور تمام چیزوں کا دیکھنے والا ہے، مخلوق کے احوال میں سے کوئی حال اس پر مخفی نہیں ہے، لہذا وہ تمام مخلوق کو ان کے گناہوں کی سزا دینے پر قادر ہے اور وہ عبث اور فضول کام کرنے اور کسی پر ظلم کرنے سے پاک ہے اور اس کے علم عظیم، قدرت کاملہ اور ظلم سے پاک ہونے میں نیک بندوں کے لیے عظیم بشارت ہے کہ وہ ان کو ان کی نیکیوں کا اجر عطا فرمائے گا اور کافروں نافرمانوں کے لیے سخت وعید ہے اور ترہیب ہے کہ انہیں ان کے کرتوتوں کی سزا ملے گی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء بآیت نمبر 17