أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكُلَّ اِنۡسَانٍ اَلۡزَمۡنٰهُ طٰۤئِرَهٗ فِىۡ عُنُقِهٖ‌ؕ وَنُخۡرِجُ لَهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلۡقٰٮهُ مَنۡشُوۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے، اور ہم قیامت کے دن اس کا اعمال نامہ نکالیں گے، جس کو وہ کھلا ہوا پائے گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے، اور ہم قیامت کے دن اس کا اعمال نامہ نکالیں گے، جس کو وہ کھلا ہوا پائے گا۔ اپنا اعمال نامہ پڑھ لو، آج تم خود ہی اپنا محاسبہ کرنے کے لیے کافی ہو۔ (بنی اسرائیل : ١٣، ١٤)

قیامت کے دن اعمال نامہ پڑھوانے کی وجوہ :

١۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا اور ہم نے ہر چیز کو تفصیل سے بیان کردیا ہے، یعنی توحید، نبوت اور رسالت اور مبداء اور معاد کے ثبوت کے لیے جن دلائل کی ضرورت ہوتی ہے وہ تمام دلائل قرآن عظیم میں بیان کردیئے ہیں، اور وعد، وعید، ترغیب اور ترہیب کی وضاحت کے لیے جن امور کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب ہم نے بیان کردیئے ہیں، اسی طرح اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کے لیے جن احکام اور ہدایات کی احتیاج ہوتی ہے اور نیک اعمال پر ابھارنے اور برے اعمال سے متنفر کرنے کے لیے جن مواعظ، قصص اور مثال کی ضرورت ہوتی ہے ہم نے ان سب کو بیان کردیا ہے، اس طرح اب کسی شخص کے نیک عمل نہ کرنے کے لیے اور برے عمل کو ترک کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا، اس لیے ہم قیامت کے دن اس سے کہیں گے اپنا اعمال نامہ پڑھ لو، آج تم خود ہی اپنا محاسبہ کرنے کے لیے کافی ہو۔

٢۔ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کی طرف ان تمام چیزوں کو پہنچا دیا جو ان کے دین اور دنیا میں نفع دینے والی ہیں مثلا ان کے کسب اور کار معاش کے لیے دن کی روشنی بنادی اور دن کی تھکاوٹ کے ازالہ اور آڑام اور سکون پہنچانے کے لیے رات کو بنادیا تو ان کے اوپر بہت بڑی نعمت کو مکمل کردیا، اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر عمل کریں اور اس کی اطاعت اور اس کی عبادت کے لیے کمر بستہ رہیں اس وجہ سے جو شخص بھی میدان قیامت میں حضر ہوگا اس سے اس کے اعمال کے متعلق پوچھا جائے گا۔

٣۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ہے کہ اس نے مخلوق کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے کیونکہ اس نے فرمایا ہے : 

وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون۔ (الذریات : ٥٦) اور میں نے ہر جن اور انس کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے و کہ وہ میری عبادت کریں۔

٤۔ پھر اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند اور دن اور رات کے احوال بیان کیے ہیں اور جمادات، نباتات اور حیوانات میں انسانوں کے لیے جو نعمتیں رکھیں ہیں ان کو بیان فرمایا ہے اور اس میں اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ میں نے تمام کائنات تمہاری نفع اندوزی کے لیے بنائی ہے تاکہ تم ان نعمتوں سے بہتر اندوز ہو کر میری اطاعت اور عبادت کرسکو پھر جو شخص میدان قیامت میں حاضر ہوگا میں اس سے سوال کروں گا کہ آیا تم نے میری اطاعت اور عبادت کی تھی یا سرکشی، نافرمانی اور بغاوت کی تھی۔

طائر کا لغوی اور عرفی معنی :

طائر ہر اس جانور کو کہتے ہیں جس کے پر ہوں اور وہ ہوا میں اڑتا پھرے، اس کی جمع طیر ہے، اصل میں تو طائر کا معنی اڑنے والا ہے مگر زمانہ جاہلیت میں عربوں کا معمول تھا کہ جب وہ کسی اہم کام کا ارادہ کرتے تو پرندوں کو بلاتے اور ان سے فال نکالتے اگر پرندہ بائیں جانب اڑ جاتا تو وہ اس سے بدشگونی اور بری فال نکالتے اور اس کام کو منحوس جانتے اور پھر اس کام کو نہ کرتے، اس طرح طائر کے لفظ کا استعمال شگون لینے کے لیے ہونے لگا اور طائر طیر کو نحوست کے لیے استعمال کیا جانے لگا، ہمارے محاورات میں بھی مشہور ہے کہ آدمی کسی کام کے لیے جارہا ہو اور بلی راستہ کاٹ جائے تو اس کام کو منحوس خیال کرتے ہیں اور پھر اس کام پر نہیں جاتے۔ لفظ طائر کا استعمال حصہ اور نصیب کے معنی میں بھی ہوتا ہے، علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ طیر کی اصل ہے لوگوں میں مال متفرق کردینا اور اڑا دینا، پھر اس کا زیادہ استعمال برائی اور نحوست میں ہونے لگا، طائرہ کا معنی ہے اس کی شامت اعمال یا اس کی بری قسمت، طا ئرھم کا معنی ہے ان کی نحوست اور ان کی بدشگونی۔

وان تصبھم سیئۃ یطیروا بموسی ومن معہ، الا انما طائرھم عنداللہ ولکن اکثر ھم لا یعلمون۔ (الاعراف : ١٣١) اور اگر انہیں کوئی برائی پہنچتی ہے تو اسے موسیٰ اور ان کے اصحاب کی نحوست قرار دیتے۔ سنو ! اللہ کے نزدیک ان ہی کی نحوست ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔

علامہ راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ نے لکھا ہے کہ طائر کا اطلاق عمل پر بھی کیا جاتا ہے خواہ وہ نیک عمل ہو یا بدعمل ہو جیسا کہ اس آیت میں ہے :

وکل انسان الزمنہ طائرہ فی عنقہ۔ (بنی اسرائیل : ١٣) اور ہم نے ہر انسان کا اعمال نامہ اس کے گلے میں لٹکا دیا ہے۔

ہم انشاء اللہ کی وضاحت کریں گے۔

طائر (بدشگونی) کے متعلق احادیث :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی مرض (خود بہ خود) متعدی نہیں ہوتا اور نہ کوئی تطیر (بدشگونی اور نحوست) ہے اور نہ الو (کی کوئی تاثیر) ہے اور نہ صفر) میں کوئی نحوست) ہے، اور مجذوم سے اس طرح بھاگوجس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٥٧٠٧، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٢٢٠، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٩١١)

کسی چیز سے بدفالی نکال کر لوگ اپنے مطلوبہ کاموں سے رک جاتے تھے تو شریعت نے بتایا کسی نفع کے حصول یا کسی ضرر کے دور کرنے میں ان چیزوں کا کوئی دخل نہیں ہے۔

اسماعیل بن امیہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین چیزیں انسان کو عاجز نہیں کرسکیں، بدفالی، بدگمانی اور حسد۔ آپ نے فرمایا بدشگونی سے تم کو یہ چیز نجات دے گی کہ تم اس پر عمل نہ کرو اور بدگمانی سے تمہیں یہ چیزنجات دے گی کہ تم اس کے متعلق کسی سے بات نہ کرو اور حسد سے تمہیں یہ چیز نجات دے گی کہ تم اپنے بھائی میں برائی نہ ڈھونڈو۔ (مصنف عبدالرزاق، رقم الحدیث : ١٩٥٠٤، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٤٠٣)

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا طیرہ (بدشگونی) شرک سے ہے، اور ہم میں سے ہر شخص بدشگونی میں مبتلا ہے اور اس کی وجہ سے تو کل جاتا رہتا ہے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : ١٦١٤، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٩١٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٥٣٨، مسند احمد ج ١، ص ٣٨٩، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٥٠٩٢)

صحائف اعمال کو گلے میں لٹکانے کی توجیہ :

ہم نے بتایا ہے کہ قرآن مجید کی اس آیت میں طائر کا معنی ہے اعمال خواہ نیک ہوں یا بد، امام ابو عبیدہ نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا ہر شخص کے لیے عقل، علم، عمر، رزق، سعادت وار شقاوت کی ایک خاص مقدار معین فرما دی اور انسان اس خاص مقدار سے تجاوز نہیں کرسکتا، اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ انسان اپنے اخٹیار سے نیک کام کرے گا یا بد اور اس کے نتیجہ میں وہ سعید ہوگا یا شقی، اور انسان اس مقدار سے تجاوز نہیں کرسکتا اور وہ مقدار لامحالہ اس پر چسپاں ہوگی، اور انسان کے گلے میں طائر (اعمال نامہ یا نوشتہ تقدیر) کو لٹکانے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اس کے لیے مقدر کردیا اور اس کے علم میں جن کا ہونا لازمی ہے وہ انسان کے لیے لازم ہیں اور وہ ان سے منحرف نہیں ہوسکتا جیسا کہ حدیث میں ہے قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کو لکھ کر قلم خشک ہوچکا ہے، عقل، عمر، رزق، تنگی اور فراخی، بیماری صحت ان میں انسان کا کوئی اختیار نہیں ہے یہ محض اللہ کی تقدیر سے ہیں اور نیک اعمال اور بد اعمال انسان کے اختیار سے ہیں اور ازل میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ انسان اپنے اختیار سے کیسے عمل کرے گا، اس نے ان تمام امور کو لکھ کر انسان کے گلے میں لٹکا دیا یعنی یہ تمام امور اس کے لیے لازم کردیئے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عزوجل نے اپنی مخلوق کو ظلمت میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور دالا، پس جس شخص کو وہ نور پہنچ گیا وہ ہدایت پا گیا اور جس شخص نے اس نور سے خطا کی وہ گمراہ ہوگیا اسی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ قلم اللہ کے علم کے مطابق لکھ کر خشک ہوچکا ہے۔ یہ حدیث حسن ہے۔

امام احمد کی روایت میں ہے قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کو لکھ کر قلم خشک ہوچکا ہے۔ (مسند احمد، رقم الحدیث : ٤٦٨٥٤، مطبوعہ عالم الکتب بیروت) (سنن الترمذی، رقم الحدیث : ٢٦٤٢، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٦١٦٩، ٦١٧٠، المستدرک ج ١، ص ٣٠، الشریعہ ص ١٧٥)

اللہ تعالیٰ نے گردن میں اعمال نامہ ڈالنے کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ اگر وہ نیک اعمال ہیں تو اس طرح ہیں جیسے زیب وزینت کے لیے گلے میں ہار ڈالا جاتا ہے اور اگر وہ بداعمال ہیں تو جس طرح زلت اور رسوائی کو ظاہر کرنے کے لیے گلے میں جوتیوں کا ہار یا طوق ڈالا جاتا ہے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم قیامت کے دن اس کا اعمال نامہ نکال لیں گے جس کو وہ کھلا ہوا پائے گا۔

امام ابن جریر لکھتے ہیں کہ حسن نے اس آیت کو تلاوت کر کے کہا : اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے ابن آدم ! میں نے تیرے لیے تیرا صحیفہ اعمال کھول دیا ہے، اور دو مکرم فرشتے تیرے لیے مقرر کردیئے ہیں۔ ایک تیری دائیں جانب ہے اور دوسرا تیری بائیں جانب ہے، جو فرشتہ تیری دائیں جانب ہے وہ تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور جو فرشتہ تیری بائیں جانب ہے وہ تیری برائیوں کی حفاظت کرتا ہے، اب تو جو چاہے عمل کر، خواہ کم خواہ زیادہ، حتی کہ جب تو مرجائے گا تو تیرا صحیفہ اعمال لپیٹ دیا جائے گا، او وہ تیری گردن میں ڈال کر تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا، حتی کہ جب تو قیامت کے دن قبر سے اٹھے گا تو تو اس اعمال نامہ کو کھلا ہوا پائے گاْ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٦٧١٩٨)

بندہ کا اپنے صحائف اعمال کو پڑھنا :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنا اعمال نامہ پڑھ لو۔ آج تم خود ہی اپنا محاسبہ کرنے کے لیے کافی ہو۔

امام عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :

حسن نے کہا اس اعمال نامہ کو ہر شخص پڑھے گا خواہ وہ دنیا میں امی ہو یا غیر امی ہو، اور یہ جو فرمایا ہے کہ وہ اپنے محاسبہ کے لیے خود کافی ہے اس کی تفسیر میں تین قول ہیں :

اس کا معنی ہے محاسب یا شاہد ہے کافی ہے، یعنی انسان کی طرف اس کا حساب سونپ دیا جائے گا تاکہ وہ بندوں کے درمیان اللہ کے عدل اور فضل کو جان سکے اور وہ یہ جان لے کہ اس کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہے اور وہ اپنے اعمال کے مطابق سزا کا مستحق ہے او وہ یہ جان لے کہ اگر وہ جنت میں داخل ہوا ہے تو اللہ عزوجل کے فضل سے داخل ہوا ہے نہ کہ اپنے عمل کی وجہ سے اور اگر وہ دوزخ میں داخل ہوا ہے تو اپنے گناہوں کی وجہ سے۔ (ازاد المسیر، ج ٥، ص ١٦، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 13