أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُوۡلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ الۡبَسۡطِ فَتَقۡعُدَ مَلُوۡمًا مَّحۡسُوۡرًا ۞

ترجمہ:

اور اپنا ہاتھ اپنی گردن تک بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ اس کو بالکل کھول دو کہ ملامت زدہ اور درماندہ بیٹھے رہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنا ہاتھ اپنی گردن تک بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ اس کو بالکل کھول دو کہ ملامت زدہ اور درماندہ بیٹھے رہو۔ (بنی اسرائیل : ٢٩ )

خرچ میں اعتدال کا واجب ہونا :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے پر برانگیختہ فرمایا تھا اور اس آیت میں خرچ کرنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کا حال بیان فرمایا ہے :

والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذلک قواما۔ (الفرقان : ٦٧) اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ بخل کرتے ہیں اور ان دونوں کے درمیان معتدل راہ اختیار کرتے ہیں ؛

پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس وصف کے حصول کا حکم فرمایا ہے، یعنی ایسا نہ ہو کہ تم اپنے اوپر، اپنے اہل و عیال اور دیگر ضرورت مندوں پر خرچ کرنے سے کڑھنے لگو، اور نیکی کے راستوں میں خرچ نہ کرنے سے یہ ظاہر ہو کہ تمہارے ہاتھ گردن تک بندھے ہوئے ہیں اور نہ بےتحاشا خرچ کرو کہ لوگوں کو دے دے کر اپنا سارا مال ختم کردو، اور تمہارے ہاتھ میں کچھ نہ رہے۔

خرچ کرنے کی فضیلت اور خرچ نہ کرنے کی مذمت میں احادیث :

اس آیت میں فرمایا ہے کہ اپنا ہاتھ گردن تک بندھا ہوا نہ رکھو اس کا معنی یہ ہے کہ بخل نہ کرو اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے تنگ دل نہ ہو، بخل کی مذمت میں بہت احادیث ہیں :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بخیل اور مال خرچ کرنے والوں کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جنہوں نے چھاتی سے حلق تک لوہے کے دو جبے پہنے ہوئے ہوں، خرچ کرنے والا جب مال خرچ کرا ہے تو جبہ وسیع ہو کر اس کے جسم پر پھیل جاتا ہے، حتی کہ اس کی انگلیوں اور نشانیوں کو بھی چھپا لیتا ہے اور بخیل جب خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو ہر حلقہ اپنی جگہ سے چمٹ جاتا ہے وہ اسے کھولنا چاہتا ہے لیکن کھول نہیں سکتا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ١٤٤٣، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٥٤٧، مسند احمد رقم الحدیث : ٩٠٤٥، عالم الکتب بیروت)

حضرت اسماء بنت ابی بکر بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خرچ کرو اور گن گن کر نہ دو ورنہ اللہ بھی تم کو گن گن کر دے گا اور جمع کر کے نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تمہارا حصہ جمع کر کے رکھے گا۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٠٢٩، صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٣٣، سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٥٤٩ )

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

اے ابن آدم خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٩٣)

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر روز جب بندے صبح اٹھتے ہیں تو دو فرشتے نازل ہوتے ہیں ایک فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو عطا فرما اور دوسرا فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ خرچ نہ کرنے والے کا مال ضائع کر۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠١٠، صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٤٢، السنن الکبری للنسائی، رقم الحدیث : ٩١٧٨)

اس سے مراد یہ ہے کہ انسان عبادات، مکارم اخلاق، اہل و عیال، مہمانوں اور صدقات وغیرہ پر خرچ کرے، ان مصارف پر خرچ کرنا مطلوب ہے اور ان مصارف پر خرچ نہ کرنا مذموم ہے۔

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا، اور جب بندہ کسی کو معاف کردے تو اس کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے اور جو شخص اللہ کے لیے تواضع کرتا ہے اللہ اس کا مرتبہ بلند کرتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥٨٨)

زیادہ خرچ کرنے اور اسراف کی مذمت میں احادیث :

نیز اس آیت میں فرمایا ہے اور نہ اس (ہاتھ) کو بالکل کھول دو کہ ملامت زدہ اور درماندہ بیٹھے رہو، اس آیت کا معنی ہے جتنی ضرورت ہو اتنا خرچ کیا جائے، ضرورت سے زیادہ خرچ نہ کیا جائے اور یہ بھی جائز محل کے متعلق ہے، ناجائز محل میں بالکل خرچ نہ کیا جائے اسی طرح صدقہ اور خیرات بھی میانہ روی سے کیا جائے، ایسا نہ ہو کہ آج سارا مال خیرات کردو اور کل بھیک مانگتے نظر آؤ۔

حضرت مغیرہ بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ کام حرام کردیئے ہیں، ماؤں کی نافرمانی کرنا، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا، حق نہ دینا ناحق مانگنا، اور تین کام مکروہ کیے ہیں، فضول بحث کرنا، بکثرت سوال کرنا، اور مال ضائع کرنا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ١٤٧٧، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٧١٥، السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث : ١١٥٣٦)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بغیر اسراف اور تکبر کے کھاؤ اور پیو اور صدقہ کرو، اور حضرت ابن عباس نے فرمایا جو چاہے کھاؤ اور جو چاہے پہنو، جب تک اسراف اور تکبر نہ ہو۔ (صحیح البخاری، کتاب اللباس باب : ١)

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کھاؤ اور پیو اور صدقہ کرو اور لباس پہنو، بغیر تکبر اور اسراف کے۔ (مسند احمد رقم الحدیث : ٦٦٩٥، مصنف بنا بی شیبہ ج ٨ ص ٣١٧، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٦٠٥، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٨١٩)

حضرت حمزہ بن صہیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صہیب کی کنیت ابو یحییٰ تھی اور وہ اپنے آپ کو عرب کہتے تھے اور وہ لوگوں کو بہت زیادہ طعام کھلاتے تھے، ان سے ایک حضرت عمر نے کہا اے صہیب تم نے ابو یحییٰ کنیت کیوں رکھی ہے، حالانکہ تمہارا کوئی بیٹا نہیں ہے اور تم اپنے آپ کو عرب کہتے ہو اور تم بہت زیادہ طعام کھلاتے ہو اور یہ مال میں اسراف ہے۔ حضرت صہیب نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری کنیت ابو یحییٰ رکھی تھی، اور رہا نسب کے متعلق آپ کا اعتراض تو میں اہل موصل کے نمر بن قاسط خاندان سے ہوں، جب میں کم عمر تھا تو مجھے قیدی بنا دلیا گیا لیکن مجھے اپنے گھر والوں کا اور اپنی قوم کا شعور تھا اور رہا آپ کا یہ اعتراض کہ تم کھانا زیادہ کھلاتے ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : تم میں بہتر شخص وہ ہے جو کھانا کھلائے اور سلام کا جواب دے تو اس ارشاد نے مجھ کو اس پر ابھارا کہ میں زیادہ کھانا کھلاؤں۔ (مسنداحمد، رقم الحدیث : ٢٤٤٢٢، عالم الکتب بیروت، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٣٨)

حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی ہر پسندیدہ چیز کھاؤ یہ بھی اسراف ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٣٥٢، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٢٧٦٥، حلیۃ الاولیاء، ج ١٠ ص ٢١٣، اس حدیث کی سند بہت ضعیف ہے اور یہ حدیث صحیح سے معارض ہے )

ان حادیث میں چونکہ زیادہ خرچ کرنے اور اسراف کی ممانعت اور مذمت آگئی ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ یہ بیان کردیں کہ کون سا زیادہ خرچ ممنوع ہے۔

زیادہ خرچ کرنے کی تفصیل اور تحقیق :

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : زیادہ خرچ کرنے کی تین صورتیں ہیں ؛

(الف) جو کام شرعا مذموم ہیں ان میں مال خرچ کرنا ناجائز ہے ،

(ب) جو کام شرعا محمود ہیں ان میں زیادہ مال خرچ کرنا محمود ہے، بشرطیکہ اس میں زیادہ خرچ کرنے اس سے زیادہ اہم دینی کام متاثر نہ ہو۔

(ج) مباح کاموں میں زیادہ خرچ کرنا مثلا نفس کے آرام اور آسائش اور اس کے التذاذ کے لیے خرچ کرنا، اس کی دو قسمیں ہیں : 

١۔ خرچ کرنے والا اپنے مال اور اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے تو یہ اسراف نہیں ہے۔

٢۔ خرچ کرنے والا اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرے، اس کی پھر دو قسمیں ہیں : اگر وہ کسی موجود یا متوقع ضرر اور خطرہ کو دور کرنے کے لیے زیادہ خرچ کرتا ہے تو جائز ہے اور اگر دفع ضرر کے بغیر اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کرتا ہے تو جمہور کے نزدیک یہ اسراف ہے۔ اور بعض شافعیہ نے یہ کہا ہے کہ یہ اسراف نہیں ہے کیونکہ وہ اس سے بدن کے آرام اور آسائش کے حصول کا قصد کرتا ہے اور یہ غرض صحیح ہے اور جبکہ یہ کسی معصیت میں خرچ نہیں ہے تو مباح ہے۔ ابن دقیق العید، قاضی حسین، امام غزالی، اور علامہ رافعی نے کہا ہے کہ یہ تبذیر ہے اور ناجائز ہے۔ محرر میں ہے کہ یہ تبذیر نہیں ہے، علامہ نووی کی بھی یہی رائے ہے اور زیادہ راجح ہے کہ اگر زیادہ خرچ کرنے سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی مثلا لوگوں سے سوال کرنے کی نوبت نہیں آتی تو پھر زیادہ خرچ کرنا جائز ہے ورنہ ناجائز ہے۔

اپنے تمام مال کو راہ خدا میں صدقہ کرنا اس شخص کے لیے جائز ہے جو تنگی اور فقر میں صبر کرسکتا ہو، علامہ باجی مالکی نے لکھا ہے کہ تمام مال کو صدقہ کرنا ممنوع ہے اور دنیاوی مصلحتوں میں زیادہ مال خرچ کرنا مکروہ ہے، البتہ کبھی کبھی زیادہ خڑچ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسے عید یا ولیمہ کے موقع پر، اور اس پر اتفاق ہے کہ قدر ضرورت سے زیادہ مکانوں پر خرچ کرنا مکرو ہے، اسی طرح آرائش اور زیبائش پر زیادہ خرچ کرنا بھی مکرو ہے اور مال کو ضائع کرنا گناہ کے کاموں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ مال ناتجربہ کار کے حوالہ کردینا اور جواہر نفسیہ پر خرچ کردینا بھی اس میں داخل ہے۔

علامہ سبکی نے لکھا ہے کہ مال کو ضائع کرنے کا ضابطہ یہ ہے کہ اگر مال خرچ کرنے سے کوئی دینی اور دنیاوی غرض نہ ہو تو اس میں مال خرچ کرنا حرام قطعی ہے اور اگر دینی یا دنیوی غرض ہو اور اس جگہ مال خرچ کرنا معصیت نہ ہو اور خرچ اس کی حیثیت کے مطابق ہو تو یہ قطعا جائز ہے، اور ان دونوں مرتبوں کے درمیان بہت ساری صورتیں ہیں جو کسی ضابطہ کے تحت داخل نہیں ہیں۔ بہرحال معصیت میں خرچ کرنا حرام ہے اور آرام اور آسائش اور نفسانی لذتوں کے حصول کے لیے مال خرچ کرنے میں تفصیل اور اختلاف ہے۔ (فتح الباری ج ١٠ ص ٤٠٨، ٤٠٩، مطبوعہ لاہور، ١٤٠٢ ھ)

جائز اور صحیح مقاصد میں مال خرچ کرنے میں بخل نہیں کرنا چاہیے، تاہم ان میں بےتحاشا اور بےدریغ مال خرچ کرنا نہیں چاہیے مال خرچ کرنے اور خرچ نہ کرنے میں میانہ روی سے کام لینا چاہیے، اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : اور اپنا ہاتھ گردن تک بندھا ہوا نہ رکھو اور نہ اس کو بالکل کھول دے کہ ملامت زدہ اور درماندہ بیٹھے رہو۔ اس کا منشا بھی یہی ہے کہ خرچ کرنے میں اعتدال اور میانہ روی سے کام لیا جائے، اب ہم میانہ روی اور اعتدال کے سلسلہ میں چند احادیث بیان کر رہے ہیں۔

اعتدال اور میانہ روی کے متعلق احادیث :

حضرت ابوعبداللہ بن سرجس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نیک سیرت، اطمینان اور اعتدال نبوت کے چوبیس اجزا میں سے ایک جز ہے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٠١٠، المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١٠٢١، تاریخ بغداد ج ٣ ص ٦٦ )

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک شخص کے پاس سے گزر ہوا جو ایک چٹان پر نماز پڑھ رہا تھا، آپ مکہ مکرمہ کی طرف گئے وہاں کچھ دیر ٹھہرے پھر واپس آئے تو وہ شخص اسی طرح نماز پڑھ رہا تھا آپ نے اپنے ہاتھ اکٹھے کیے اور کھڑے ہو کر تین بار فرمایا اے لوگو ! اعتدال اور میانہ روی کو لازم رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ (جر دینے سے) نہیں اکتاتا حتی کہ تم (عبادت کرنے سے) اکتا جاؤ۔ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : ٤٢٤١، مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ١٧٩٧، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٥٧ )

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل ہرگز نجات نہیں دے گا، صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں، فرمایا مجھ کو بھی نہیں، مگر یہ کہ اللہ کی رحمت مجھے ڈھانپ لے، درست عمل کرو اور صحت کے قریب عمل کرو، صبح اور شام کو اور رات کے آخری حصہ میں عمل کرو اور اعتدال اور اعتدال کو لازم رکھو تم منزل پر پہنچ جاؤ گے۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٦٤٦٣، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٨١٦، سنن النسائی، رقم الحدیث : ٥٠٤٩، مسند احمد رقم الحدیث : ٢٠٤٩٥)

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گئے آپ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے بال گرد و غبار سے اٹے ہوئے اور بکھرے ہوئے تھے، آپ نے فرمایا کیا اس شخص کو کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنے بالوں کو درست کرسکے، پھر ایک اور شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا، آپ نے فرمایا کیا اس شخص کو کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنے کپڑے دھو سکے۔ (سنن ابو داؤد، رقم الحدیث : ٤٠٦٢، سنن النسائی رقم الحدیث : ٥٢٥١ )

ابو الاحوص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں معمولی کپڑے پہنے ہوئے حاضر ہوا آپ نے پوچھا کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں، آپ نے پوچھا کون کون سا مال ہے ؟ میں نے عرض کیا مجھے اللہ تعالیٰ نے اونٹ، بکریاں، گھوڑے اور غلام سب کچھ دیئے ہیں، آپ نے فرمایا جب تمہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت اور عزت کا اثر تم پر ظاہر ہونا چاہیے۔ (سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٤٠٦٣، سنن النسائی رقم الحدیث : ٥١٠٠)

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اعتدال اور میانہ روی اختیار کی وہ تنگ دست نہیں ہوگا۔ (مسند احمد ج ١ ص ٤٤٧، طبع قدیم، مسند احمد رقم الحدیث : ٤٢٦٩، عالم الکتب بیروت)

امام بیہقی حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خرچ کرنے میں اعتدال اور میانہ روی نصف معشیت ہے۔ ( الدر المنثور ج ٥ ص ٢٧٧، مطبوعہ دار الکفر بیروت، ١٤١٤ ھ)

خلاصہ یہ ہے  کہ ہر خلق اور ہر وصف کی دو جانیں ہیں افراط اور تفریط اور یہ دونوں مذموم ہیں خرچ نہ کرنے میں زیادتی ہو تو یہ تفریط اور بخل ہے اور خرچ کرنے میں زیادتی ہو تو یہ افراط اور اسراف ہے، خرچ کرنے کے محل میں انسان خرچ نہ کرے اور خرچ نہ کرنے کے محل میں بھی خرچ نہ رکے یہ نخل ہے اور خرچ کرنے کے محل میں بھی خرچ کرے اور خرچ نہ کرنے کے محل میں بھی خرچ کرے یہ افراط اور تبذیر ہے اور یہ دونوں مذموم ہیں۔ مستحسن یہ ہے کہ خرچ کرنے کے محل میں خرچ کرے اور خرچ نہ کرنے کے محل میں خرچ نہ کرے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب تم بےتحاشا خرچ کرو گے تو ملامت زدہ اور تھکے ہارے بیٹھے رہ جاؤ گے۔ مثلا ایک آدمی کو ہر ماہ خرچ کے لیے تنخواہ ملتی ہے اگر وہ پوری تنخواہ مہینے کے ابتدائی دس دنوں میں کھا پی لے اور لوگوں کو دے دلا کر اڑا دے تو مہینہ کے باقی بیس دن مصیبت میں گزارے گا لوگ اس کو ملامت کریں گے کہ تم نے پہلے اتنا زیادہ خرچہ کیوں کیا تھا کہ اب لوگوں سے مانگتے پھر رہے ہو۔

جن کا توکل کامل ہو ان کے لیے اپنا تمام مال صدقہ کرنے کا جواز :

ان تمام آیتوں میں خطاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہے اور اس خطاب سے مراد آپ کی امت ہے، اور قرآن مجید میں بہت جگہ یہ اسلوب ہے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت کے قائد اور رسید ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں واسطہ عظمی ہیں اور عرب میں یہ دستور ہے کہ قوم سے جو خطاب کرنا ہو وہ اس کے سید کی طرف کردیتے ہیں۔ نیز سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کثرت فتوحات سے پہلے کل کے لیے کوئی چیز ذخیرہ کر کے نہیں رکھتے تھے، آپ اکثر بھوکے رہتے تھے، اور بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے، اور بعض صحابہ اپنا تمام مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس پر کبھی ملامت نہیں کی تھی، اور ان کو منع نہیں کیا کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی رزاقی پر صحیح یقین تھا اور زبردست بصیرت تھی، جیسے حضرت ابوبکر نے اپنا سارا مال لاکر آپ کو پیش کردیا تھا، اور اللہ سبحانہ وتعالی نے ان لوگوں کو اللہ کی راہ میں تمام مال خرچ کرنے سے منع فرمایا جن کے متعلق اللہ کو علم تھا کہ یہ لوگ تمام مال ہاتھ سے نکلنے کے بعد افسوس کریں گے اور ان کا یقین اور ان کا توکل اس پایہ کا نہ تھا، اور جن لوگوں کا یقین اور توکل اعلی درجہ کا تھا اور جو دنیا کی بجائے آخرت کی فکر کرتے تھے وہ لوگ اس آیت کے مصداق نہیں ہیں ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں خصوصیت کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو خرچ کرنے کے طریقہ کی تعلیم دی ہے اور اعتدال اور میانہ روی کا حکم دیا ہے۔

حافظ جلال الدین سیوطی اس آیت کی تفسیر میں امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم کے حوالوں سے لکھتے ہیں :

حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک لڑکا آیا اور اس نے کہا میری ماں نے آپ سے فلاں فلاں چیز کا سوال کیا ہے، آپ نے فرمایا آج ہمارے پاس کوئی چیز نہیں ہے، اس نے کہا میری ماں کہتی ہے کہ آپ یہ قمیص دے دیجیے، آپ نے وہ قمیص اتار کر اس کو دے دی اور آپ بغیر قمیص کے افسوس سے بیٹھے رہے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (الدر المنثور ج ٥ ص ٢٧٤، مطبوعہ دار الفکر بیروت ١٤١٤ ھ)

لیکن تفسیر ابن جریر اور تفسیر امام ابن ابی حاتم میں یہ حدیث نہیں ہے۔ علامہ قرطبی نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے اور قرطبی کے مخرج نے سنن کبری، مجمع الزوائد اور مصنف عبدالرزاق کا حوالہ دیا ہے، لیکن ان تینوں کتابوں میں یہ حدیث نہیں ہے، البتہ اس مضمون کی ایک اور حدیث مستند کتابوں میں موجود ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حصول تبرک کا جواز :

حضرت سہل بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاشیہ والی بنی ہوئی ایک چار لے کر آئی، اس عورت نے کہا میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھ سے بنا ہے تاکہ میں آپ کو پہناؤں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عورت سے وہ چادر لے لی اور آپ کو اس وقت اس چادر کی ضرورت بھی تھی، آپ وہ چادر پہن کر ہمارے پاس آئے، ایک شخص نے اس چادر کی تعریف کی، اور کہنے لگا یا رسول اللہ یہ بہت خوبصورت چادر ہے، آپ یہ مجھے دے دیجیے، حاضرین نے کہا تم نے اچھا نہیں کیا، اس چادر کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہن لیا تھا درآنحالیکہ آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر بھی تم نے اس کو مانگ لیا اور تم کو معلوم ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کا سوال رد نہیں فرماتے، اس شخص نے کہا اللہ کی قسم ! میں نے پہننے کے لیے اس چادر کا سواسل نہیں کیا تھا بلکہ میں نے اس چادر کا اس لیے سوال کیا تھا کہ یہ میرا کفن ہوجائے، سہل نے کہا پھر وہ چادر اس شخص کا کفن ہوگئی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ١٢٧٧)

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٥ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

ابو غسان کی روایت میں ہے چونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس چادر کو پہن لیا ہے اس لیے مجھے اس چادر سے حصول برکت کی امید ہے اس حدیث کے فوائد میں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حسن خلق ہے اور آپ کی جود و سخا ہے اور آپ کا ہدیہ قبول فرمانا ہے، آپ عموما ہدیہ کے جواب میں ہدیہ عطا فرماتے تھے، آپ نے فرمایا ہے ایک دوسرے کو ہدیہ دو ، ایک دوسرے سے محبت بڑھے گی، اس موقع پر آپ نے اس عورت کو ہدیہ نہیں دیا تاکہ یہ معلوم ہو کہ جوابا ہدیہ دینا واجب نہیں ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بعد میں آپ نے اس کو ہدیہ دیا ہو، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی عمدہ لباس پہننے پر اس کی تحسین کرنی چاہیے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص ایسا کام کرے، جو بظاہر خلاف ادب ہو تو اس کو ملامت کرنا چاہیے، اور اس حدیث میں صالحین کے آثار سے تبرک حاصل کرنے کا جواز ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی چیز کو وقت ضرورت سے پہلے تیار کر کے رکھنا چاہیے اور کفن کو وقت سے پہلے تیار کرنا جائز ہے بلکہ قبر کھدوانا بھی جائز ہے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ١٤٤، مطبوعہ لاہور، ١٤٠١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 29