أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ الَّتِىۡ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالۡحَـقِّ‌ ؕ وَمَنۡ قُتِلَ مَظۡلُوۡمًا فَقَدۡ جَعَلۡنَا لِـوَلِيِّهٖ سُلۡطٰنًا فَلَا يُسۡرِفْ فِّى الۡقَتۡلِ‌ ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنۡصُوۡرًا ۞

ترجمہ:

اور اس شخص کو قتل نہ کرو جس کے ناحق قتل کو اللہ نے حرام کردیا ہے، اور جو شخص مظلوما قتل کیا گیا ہم نے اس کے وارث کو قوت دی ہے پس وہ قتل کرنے میں حد سے نہ بڑھے، بیشک وہ مدد کیا ہوا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس شخص کو قتل نہ کرو جس کے ناحق قتل کو اللہ نے حرام کردیا ہے، اور جو شخص مظلوما قتل کیا گیا ہم نے اس کے وارث کو قوت دی ہے پس وہ قتل کرنے میں حد سے نہ بڑھے، بیشک وہ مدد کیا ہوا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٣٣)

حرمت زنا کو حرمت قتل پر مقدم کرنے کی وجہ : 

کفر اور شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ کسی بےقصور مسلمان کو قتل کرنا ہے پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ پہلے حرمت زنا کو بیان فرمایا پھر اس کے بعد حرمت قتل کو بیان فرمایا، اس کا جواب یہ ہے کہ زنا کے نتیجہ میں انسان کا عزت کے ساتھ وجود میں آنا ہی ختم ہوجاتا ہے اور قتل کے نتیجہ میں انسان کو وجود میں آنے کے بعد ختم کردیا جاتا ہے اس طرح زنا کا ضرر قتل سے زیادہ ہے لہذا حرمت زنا کو حرمت قتل پر مقدم فرمایا۔

کسی مسلمان کو قتل کرنے کی بارہ جائز صورتیں :

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کو جائز قتل کرنے کی صرف ایک صورت ہے اور وہ ی ہے ہ کہ کسی شخص نے دوسرے شخص کو ظلما قتل کردیا ہو، حالانکہ اس کے علاوہ قتل کرنے کی اور بھی جائز صورتیں ہیں جو حسب ذیل ہیں :

١۔ نماز پڑھنے سے انکار کرنے والے کو قتل کرنا۔

(٢) زکوۃ دینے سے انکار کرنے والے کو قتل کرنا۔

(٣) مرتد کو قتل کرنا۔

(٤) شادی شدہ زانی کو سنگسار کر کے قتل کرنا۔

(٥) مسلمان کے قاتل کو قصاص میں قتل کرنا۔

(٦) ایک خلیفہ منعقد ہونے کے بعد دوسری مدعی خلافت کو قتل کرنا۔

(٧) قوم لوط کے عمل کرنے والے کو قتل کرنا۔

(٨) جانور کے ساتھ بدفعلی کرنے والے کو قتل کرنا۔

(٩) ڈاکو کو قتل کرنا۔

(١٠) مسلمان کا اپنی جان یا مال کی حفاظت اور مدافعت میں قتل کرنا۔

(١١) چوتھی بار شراب پینے والے کو قتل کرنا۔

(١٢) ذمی کے قاتل کو قتل کرنا۔

جان اور مال کی حفاظت اور مدافعت میں قتل کرنے کے جواز کا بیان اس حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا : یا رسول اللہ یہ بتایئے کہ اگر ایک شخص مجھ سے میرا مال چھیننا چاہے تو ؟ فرمایا اس کو اپنا مال مت دو ، اس نے کہا اگر وہ مجھ سے قتال کرے، فرمایا تم بھی اس سے قتال کرو، اس نے کہا یہ بتایئے کہ اگر وہ مجھے قتل کردے فرمایا تو پھر تم شہید ہو، اس نے کہا اگر میں اس کو قتل کردوں ؟ فرمایا تو وہ شخص دوزخی ہے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ١٤٠ )

باقی ماندہ گیارہ صورتوں میں قتل کرنے کے جواز کے قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے دلائل ہم نے الانعام : ١٥١ میں بیان کردیئے ہیں، دیکھیے تبیان القرآن ج ٣ ص ٦٨٧، ٦٨٨، امام رازی نے اس تفسیر میں قتل کے جواز کی چھ صورتیں لکھی ہیں میں نے الانعام : ١٥١ میں قرآن و حدیث سے جواز قتل کی گیارہ صورتیں لکھی تھیں اور اب اس آیت کی تفسیر لکھتے وقت اللہ تعالیٰ نے قتل برحق کی ایک اور صورت کی طرف متوجہ کردیا اور یوں قتل برحق کی بارہ صورتیں ہوگئیں۔

باقی رہا یہ اعتراض کہ اس آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف اس شخص کو قصاص میں قتل کرنا جائز ہے جس نے کسی کو ظلما قتل کیا ہو تو یہ بارہ صورتیں اس آیت کے خلاف نہیں ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں قتل ناحق کا ذکر ہے اور یہ بارہ صورتیں قتل برحق کی ہیں۔

مقتول کے وارث کی قوت کا بیان :

اس کے بعد فرمایا : اور جو شخص مظلوما قتل کیا گیا ہم نے اس کے وارث کو قوت دی ہے۔

اس آیت میں جو فرمایا ہے ہم نے مقتول کے ولی اور وارث کو قوت دی ہے یہ قوت مجمل ہے اور درج ذیل آیت میں اس کا بیان ہے :

یا ایھا الذین امنوا کتب علیکم القصاص فی التقلی، الحر بالحر والبعد بالعبد والانثی باللانثی، فمن عفی لہ من اخیہ شی فاتباع بالمعروف واداء الیہ باحسان، ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ، فمن اعتدی بعد ذلک فلہ عذاب الیم۔ (البقرہ : ١٧٨) اے ایمان والو ! تم پر مقتولین کے خون (ناحق) کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلہ آزاد، غلام کے بدلہ غلام اور عورت کے بدلہ میں عورت، سو جس (قاتل) کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معاف کردیا گیا تو (اس کا) دستور کے مطابق مطالبہ کیا جائے اور نیکی کے ساتھ اس کی ادائیگی کی جائے۔ یہ (حکم) تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے، پھر اس کے بعد جو حد سے تجاوز کرے اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔

اس آیت میں مقتول کے وارث اور ولی کو تین اختیار دیئے ہیں، وہ چاہے تو قاتل سے قصاص لے لے اور چاہے تو قصاص کے بجائے قاتل کے ورثا سے دیت وصول کرلے اور چاہے تو قاتل کو بالکل معاف کردے۔ مقتول کی دیت سو اونٹ ہیں یا ہزار دینا یا ٤٣٧٤ کو سونا یا دس ہزار درہم یا (٣٠٦١٨) کلو چاندی۔ مقتول کے ورثا چاہیں تو اس سے کم مقدار پر بھی صلح کرسکتے ہیں۔

قصا ص کے متعلق تمام مذاہب اور احکام کی تفصیل ہم نے البقرہ : ١٧٨ میں بیان کردی ہے، ملاحظہ فرمائیں تبیان القرآن ج ١ ص ٦٩٤۔ ٦٨٥ اور دیت کے متعلق پوری تفصیل ہم نے النسا : ٩٢ میں زکر کردی ہے۔ ملاحظۃ فرمائیں تبیان القرآن ج ٢ ص ٧٦٢۔ ٧٥٦۔

ولی مقتول کے تجاوز نہ کرنے کا معنی :

ولی مقتول کے تجاوز نہ کرنے کا ایک معنی یہ ہے کہ وہ صرف قاتل کو قتل کرے اور غیر قاتل کو قتل نہ کرے، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ایک قتل کے بدلہ میں قاتل کے پورے قبیلہ کو قتل کردیتے تھے، اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ قاتل کو صرف قتل کیا جائے اس کو مثلہ نہ کیا جائے، یعنی اس کے ہاتھ پیر اور اس کے دیگر اعضا نہ کاٹے جائیں، اور اس کا تیسرا معنی یہ ہے کہ اس کو صرف تلوار سے قتل کیا جائے جسی اور طریقہ سے ایذا پہنچا کر قتل نہ کیا جائے۔

یہ جو فرمایا ہے بیشک وہ مدد کیا ہوا ہے جمہور کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ ولی مقتول کو قصاص لینے پر قدرت دی گئی ہے اور یہ معنی بھی ہے کہ اس کو قاتل کے قتل کرنے پر قدرت دی گئی ہے اور یہ معنی بھی ہے کہ مقتول کا خون مدد کیا ہوا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 33