أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَكُمۡ خَشۡيَةَ اِمۡلَاقٍ‌ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَاِيَّاكُمۡ‌ؕ اِنَّ قَتۡلَهُمۡ كَانَ خِطۡاً كَبِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی بیشک انکو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی بیشک انکو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ (بنی اسرائیل : ٣١)

آیات سابقہ سے مناسبت :

١۔ اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا تھا بیشک آپ کا رب جس کے لیے چاہے رزق وسیع کرتا ہے اور جس کے لیے چاہے رزق تنگ کردیتا ہے، یعنی رزق کا کفیل اللہ تعالیٰ ہے اس کے بعد فرمایا اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی۔

٢۔ اس سے پہلی آیتوں میں اولاد کو تلقین کی تھی کہ وہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کریں اس آیت میں ماں باپ کو تلقین کی ہے کہ وہ اولاد کے ساتھ نیکی کریں، اولاد کے ساتھ نیکی کرنا اس لیے واجب ہے کہ اولاد بہت کمزور ہوتی ہے اور ماں باپ کے سوا ان کی کوئی پرورش کرنے والا نہیں ہے۔

٣۔ اولاد کو قتل کرنا اگر اس لیے ہو کہ ان کو کھلانے کے لیے رزق میسر نہیں ہوگا تو یہ اللہ تعالیٰ کی رزاقی کے ساتھ بدگمانی ہے اور اگر بیٹیوں سے عار کی وجہ سے ہو تو پھر نظام عالم فاسد ہوجائے اور پہلی صورت اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے خلاف ہے اور دوسری صورت مخلوق پر شفقت کے خلاف ہے۔

٤۔ ماں باپ کا اولاد کے ساتھ جو تعلق ہے وہ جزئیت کا ہے کیونکہ اولاد باپ کا جز ہوتی ہے اور یہ ایک دوسرے سے محبت کا قوی سبب ہے اور یہ فطری اور طبعی محبت ہے اور اولاد کو قتل کرنا اس طبعی محبت کے خلاف ہے۔

اس آیت کے تحت عزل اور خاندانی منصوبہ بندی کے مسائل بھی بیان کیے جاتے ہیں، چونکہ یہ آیت الانعام : ١٥١میں گزر چکی ہے ہم نے وہاں وہ مسائل بیان کردیئے ہیں اور شرح صحیح مسلم جلد ثالث میں ٨٩٧۔ ٨٧٣ تک ان مسائل پر بہت بحث کی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 31