أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَدۡعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالۡخَيۡرِ‌ ؕ وَكَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا ۞

ترجمہ:

اور انسان جس طرح بھلائی کے جلد حصول کی دعا کرتا ہے، اسی طرح برائی کی دعا کرتا ہے، اور انسان بہت جلد باز ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور انسان جس طرح بھلائی کے جلد حصول کی دعا کرتا ہے، اسی طرح برائی کی دعا کرتا ہے، اور انسان بہت جلد باز ہے۔ (بنی اسرائیل : ١١)

غصہ میں اپنے اور اپنے اہل کے خلاف دعا کرنا :

حضرت ابن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : کہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان غصہ اور غضب میں کہتا ہے : اے اللہ اس پر لعنت فرمایا یا اس پر غضب فرما اس کی یہ دعا جلد قبول کرلی جائے جیسا کہ اس کی خیر کی دعا جلد قبول کرلی جاتی ہے تو وہ ہلاک ہوجائے۔

قتادہ نے کہا انسان اپنے مال اور اولاد پر لعنت کرتا ہے اور ان کی ہلاکت کی دعا کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ ان کی یہ دعا قبول کرلیتا توہ ہلاک ہوجاتے۔

مجاہد نے کہا کبھی انسان اپنی بیوی اور اولاد کے خلاف دعا کرتا ہے اور ان کی قبولیت کے لیے جلدی کرتا ہے اور وہ یہ نہیں چاہتا کہ یہ دعا قبول ہو۔ (جامع البیان جز ١٥، ص ٦٢، مطبوعہ دار الفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

اس کی نظیر یہ آیت ہے :

لو یعجل اللہ للناس الشر استعجالھم بالخیر بالقضی الیھم اجلھم، فنذر الذین لا یرجون لقائنا فی طغیانھم یعمھون۔ (یونس : ١١) اور اگر اللہ لوگوں کو جلد برائی پہنچا دیتا جیسا کہ وہ بھلائی پہنچے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مدت ان کی طرف ضرور پوری ہوچکی ہوتی تو ہم ان لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں جو ہمارے سامنے پیش ہونے کی توقع نہیں رکھتے، وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت النضر بن الحارث اور اس کے متبعین کے متعلق نازل ہوئی ہے جس نے یہ دعا کی تھی :

واذ قالوا اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء او ئتنا بعذاب الیم۔ (الانفال : ٣٢۔ اور جب انہوں نے کہا اے اللہ ! اگر یہی (قرآن) تیری جانب سے حق ہے تو ہم پر اپنی طرف سے پتھر برسا یا ہم پر (کوئی اور) دردناک عذاب نازل کر۔

انسان کا جلدباز ہونا :

اس کے بعد فرمایا اور انسان بہت جلد باز ہے، یعنی اپنی طبیعت اور فطرت سے ہر کام میں جلدی کرتا ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت آدم ہیں۔ امام ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت سلمان فارسی بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضرت آدم کا سر پیدا کیا وہ اپنی خلقت کو دیکھ کر رہے تھے ابھی ان کی ٹانگیں رہ گئیں تھیں جب عصر کا وقت ہوگیا تو انہوں نے کہا اے میرے رب رات سے پہلے یہ کام مکمل کردے۔

حضرت عباس بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم میں روح پھونکی تو روح ان کے سر کی جانب سے آئی ان کے پتلے میں جہاں جہاں روح پہنچتی گئی وہ گوشت اور خون بنتا گیا جب روح ان کی ناف تک پہنچی تو ان کو اپنا جسم بہت اچھالگا، انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن وہ اٹھ نہ سکے اور یہ اللہ عزوجل کے اس قول کی تفسیر ہے کہ انسان بہت جلد باز ہے۔ (جامع البیان جز ١٥، ص ٦٣، مطبوعہ دار الفکر بیروت ١٤١٥ ھ)

حضرت انس نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی صورت بنا کر ان کو چھوڑا اور جب تک چاہا چھوڑے رکھا تو ابلیس ان کے گرد گھومتا رہا اور یہ سوچتا رہا کہ یہ کیا چیز ہے ؟ جب اس نے دیکھا کہ یہ کھوکھلے ہیں تو اس نے سمجھ لیا کہ یہ ایسی مخلوق ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکے گی۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٦١١)

علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سودہ کے سپرد ایک قیدی کیا وہ رات کو رو رہا تھا، حضرت سودہ نے اس سے پوچھا کہ رو کیوں رہے ہو ؟ اس نے کہا مجھے بہت سختی سے باندھا ہوا ہے، حضرت سودہ نے اس کی رسی ڈھیلی کردی، جب حضرت سو دہ سوگئیں تو بھاگ گیا، انہوں نے صبح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ واقعہ بتایا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تمہارے ہاتھ کاٹ ڈالے، صبح حضرت سودہ اپنے اوپر کسی مصیبت کے نازل ہونے کی توقع کر رہی تھیں، تب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کیا تھا کہ میرے اہل سے جو شخص میری دعا ضرر کا مستحق نہ ہو تو اس کے حق میں میری دعا ضرر کو رحمت بنا دے، کیونکہ میں ایک بشر ہوں اور جس طرح بشر غضبناک ہوتے ہیں میں بھی غضبناک ہوتا ہوں۔ (مسند احمد، رقم الحدیث : ١٣٠٤٠ )

اور امام مسلم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے اللہ ! محمد صرف بشر ہے بشر کی طرح غضبناک ہوتا ہے اور میں تجھ سے یہ عہد کرتا ہوں اور تو اس عہد کے خلاف نہ کرنا کہ میں جس مومن کو بھی اذیت دوں یا برا کہوں یا اس کو ماروں تو اسو چیز کو اس کے گناہوں کا کفارہ کردے اور اس کو اس کی ایسی عبادت کردے جس کی وجہ سے وہ قیامت کے دن تیرا قرب حاصل کرے۔ (صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٦٠١)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء  آیت نمبر 11