وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِؕ-وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْؕ-وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ(۱۱۰)

اور بےشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی (ف۲۲۰) تو اس میں پھوٹ پڑگئی (ف۲۲۱) اگر تمہارے رب کی ایک بات (ف۲۲۲) پہلے نہ ہوچکی ہوتی تو جبھی ان کا فیصلہ کردیا جاتا (ف۲۲۳) اور بےشک وہ اس کی طرف سے (ف۲۲۴) دھوکہ ڈالنے والے شک میں ہیں (ف۲۲۵)

(ف220)

یعنی توریت ۔

(ف221)

بعضے اس پر ایمان لائے اور بعض نے کُفر کیا ۔

(ف222)

کہ ان کے حساب میں جلدی نہ فرمائے گا ، مخلوق کے حساب و جزا کا دن روزِ قیامت ہے ۔

(ف223)

اور دنیا ہی میں گرفتارِ عذاب کئے جاتے ۔

(ف224)

یعنی آپ کی اُمّت کے کُفّار قرآنِ کریم کی طرف سے ۔

(ف225)

جس نے ان کی عقلوں کو حیران کر دیا ہے ۔

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْؕ-اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱۱)

اور بےشک جتنے ہیں (ف۲۲۶) ایک ایک کو تمہارا رب اس کا عمل پورا بھردے گا اسے ان کے کاموں کی خبر ہے (ف۲۲۷)

(ف226)

تمام خَلق تصدیق کرنے والے ہوں یا تکذیب کرنے والے روزِ قیامت ۔

(ف227)

اس پر کچھ مخفی نہیں ، اس میں نیکیوں اور تصدیق کرنے والوں کے لئے تو بشارت ہے کہ وہ نیکی کی جزا پائیں گے اور کافِروں اور تکذیب کرنے والوں کے لئے وعید ہے کہ وہ اپنے عمل کی سزا میں گرفتار ہوں گے ۔

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْاؕ-اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۱۱۲)

تو قائم رہو (ف۲۲۸) جیسا تمہیں حکم ہے اور جو تمہارے ساتھ رجوع لایا ہے (ف۲۲۹) اور اے لوگو سرکشی نہ کرو بےشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے

(ف228)

اپنے ربّ کے حکم اور اس کے دین کی دعو ت پر ۔

(ف229)

اور اس نے تمہارا دین قبول کیا ہے ، وہ دین و طاعت پر قائم رہے ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے سفیان بن عبداللہ ثقفی نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے دین میں ایک ایسی بات بتا دیجئے کہ پھر کسی سے دریافت کرنے کی حاجت نہ رہے فرمایا ” اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ ” کہہ اور قائم رہ ۔

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ(۱۱۳)

اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی (ف۲۳۰) اور اللہ کے سوا تمہاراکوئی حمایتی نہیں (ف۲۳۱) پھر مدد نہ پاؤ گے

(ف230)

کسی کی طرف جھکنا اس کے ساتھ میل مَحبت رکھنے کو کہتے ہیں ۔ ابوالعالیہ نے کہا کہ معنی یہ ہیں کہ ظالموں کے اعمال سے راضی نہ ہو ۔ سدی نے کہا اس کے ساتھ مُداہنَت نہ کرو ۔ قتادہ نے کہا مشرکین سے نہ ملو ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافِروں اور بے دینوں اور گمراہوں کے ساتھ میل جول ، رسم و راہ ، مَوَدّت و مَحبت ، ان کی ہاں میں ہاں ملانا ، ان کی خوشامد میں رہنا ممنوع ہے ۔

(ف231)

کہ تمہیں اس کے عذاب سے بچا سکے ۔ یہ حال تو ان کا ہے جو ظالموں سے رسم و راہ ، میل و مَحبت رکھیں اور اسی سے ان کا حال قیاس کرنا چاہیئے جو خود ظالم ہیں ۔

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ-ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ(۱۱۴)

اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں (ف۲۳۲) اور کچھ رات کے حصوں میں (ف۲۳۳) بےشک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں (ف۲۳۴) یہ نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کو

(ف232)

دن کے دو کناروں سے صبح و شام مراد ہیں ۔ زوال سے قبل کا وقت صبح میں اور بعد کا شام میں داخل ہے صبح کی نماز فجر اور شام کی نماز ظہر و عصر ہیں ۔

(ف233)

اور رات کے حصوں کی نمازیں مغرب و عشاء ہیں ۔

(ف234)

نیکیوں سے مراد یا یہی پنج گانہ نمازیں ہیں جو آیت میں ذکر ہوئیں یا مطلق طاعتیں یا ” سُبحْانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلہِ وَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللہُ اَکْبَرْ ” پڑھنا ۔

مسئلہ : آیت سے معلوم ہوا کہ نیکیاں صغیرہ گناہوں کے لئے کَفّارہ ہوتی ہیں خواہ وہ نیکیاں نماز ہوں یا صدقہ یا ذکر و استِغفار یا اور کچھ ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ پانچوں نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک روایت میں ہے کہ رمضان دوسرے رمضان تک یہ سب کَفّارہ ہیں ان گناہوں کے لئے جو ان کے درمیان واقع ہوں جب کہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچے ۔

شانِ نُزول : ایک شخص نے کسی عورت کو دیکھا اور اس سے کوئی خفیف سی حرکت بے حجابی کی سرزد ہوئی اس پر وہ نادم ہوا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا حال عرض کیا اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔ اس شخص نے عرض کیا کہ صغیرہ گناہوں کے لئے نیکیوں کا کَفّارہ ہونا کیا خاص میرے لئے ہے فرمایا نہیں سب کے لئے ۔

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۱۵)

اور صبر کرو کہ اللہ نیکوں کا نیگ(اجر) ضائع نہیں کرتا

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْۚ-وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ(۱۱۶)

تو کیوں نہ ہوئے تم میں سے اگلی سنگتوں(قوموں) میں (ف۲۳۵)ایسے جن میں بھلائی کا کچھ حصہ لگا رہا ہوتا کہ زمین میں فساد سے روکتے (ف۲۳۶) ہاں ان میں تھوڑے تھے وہی جن کو ہم نے نجات دی (ف۲۳۷) اور ظالم اسی عیش کے پیچھے پڑے رہے جو انہیں دیا گیا (ف۲۳۸)اور وہ گنہگار تھے

(ف235)

یعنی پہلی امّتوں میں جو ہلاک کی گئیں ۔

(ف236)

معنی یہ ہیں کہ ان امّتوں میں ایسے اہل خیر نہیں ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد کرنے سے روکتے اور گناہوں سے منع کرتے اسی لئے ہم نے انہیں ہلاک کر دیا ۔

(ف237)

وہ انبیاء پر ایمان لائے ، ان کے احکام پر فرمانبردار ہے اور لوگوں کو فساد سے روکتے رہے ۔

(ف238)

اور تنَعُّم وتلَذُّذ اور خواہشات و شہوات کے عادی ہوگئے اور کُفر و مَعاصی میں ڈوبے رہے ۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ(۱۱۷)

اور تمہارا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو بے وجہ ہلاک کردے اور ان کے لوگ اچھے ہوں

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ(۱۱۸)

اوراگر تمہارا رب چاہتا تو سب آدمیوں کو ایک ہی امت کردیتا (ف۲۳۹) اور وہ ہمیشہ اختلاف میں رہیں گے (ف۲۴۰)

(ف239)

تو سب ایک دین پر ہوتے ۔

(ف240)

کوئی کسی دین پر کوئی کسی پر ۔

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَؕ-وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْؕ-وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَــٴَـنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ(۱۱۹)

مگر جن پر تمہارے رب نے رحم کیا (ف۲۴۱) اور لوگ اسی لیے بنائے ہیں (ف۲۴۲) اور تمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بےشک ضرور جہنم بھر دوں گا جنوں اور آدمیوں کو ملا کر (ف۲۴۳)

(ف241)

وہ دینِ حق پر متفق رہیں گے اور اس میں اختلاف نہ کریں گے ۔

(ف242)

یعنی اختلاف والے اختلاف کے لئے اور رحمت والے اتفاق کے لئے ۔

(ف243)

کیونکہ اس کو علم ہے کہ باطل کے اختیار کرنے والے بہت ہوں گے ۔

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَۚ-وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۱۲۰)

اور سب کچھ ہم تمہیں رسولوں کی خبریں سناتے ہیں جس سے تمہارا دل ٹھہرائیں (ف۲۴۴) اور اس سورت میں تمہارے پاس حق آیا (ف۲۴۵) اور مسلمانوں کو پند و نصیحت (ف۲۴۶)

(ف244)

اور انبیاء کے حال اور ان کی اُمّتوں کے سلوک دیکھ کر آپ کو اپنی قوم کی ایذا کا برداشت کرنا اور اس پر صبر فرمانا آسان ہو ۔

(ف245)

اور انبیاء اور ان کی اُمّتوں کے تذکرے واقع کے مطابق بیان ہوئے جو دوسری کتابوں اور دوسرے لوگوں کو حاصل نہیں یعنی جو واقعات بیان فرمائے گئے وہ حق بھی ہیں ۔

(ف246)

بھی کہ گزری ہوئی اُمّتوں کے حالات اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں ۔

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْؕ-اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ(۱۲۱)

اور کافروں سے فرماؤ تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ (ف۲۴۷) ہم اپنا کام کرتے ہیں (ف۲۴۸)

(ف247)

عنقریب اس کا نتیجہ پا لو گے ۔

(ف248)

جس کا ہمیں ہمارے ربّ نے حکم دیا ۔

وَ انْتَظِرُوْاۚ-اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ(۱۲۲)

اور راہ دیکھو ہم بھی راہ دیکھتے ہیں (ف۲۴۹)

(ف249)

تمہارے انجام کار کی ۔

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِؕ-وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠(۱۲۳)

اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے غیب (ف۲۵۰) اور اسی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے تو اس کی بندگی کرو اور اس پر بھروسہ رکھو اور تمہارا رب تمہارے کاموں سے غافل نہیں

(ف250)

اس سے کچھ چھپ نہیں سکتا ۔۵)