حدیث نمبر 252

اور ایک روایت میں ہے مجاہد کہتے ہیں ۱؎ کہ میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کیا سورۂ ص میں سجدہ کروں تو آپ نے یہ تلاوت کیا”مِنۡ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیۡمٰنَ”۲؎حتی کہ “فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہۡ” پر پہنچے پھر فرمایا کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ہیں جنہیں ان کی پیروی کا حکم دیا گیا ۳؎(بخاری)

شرح

۱؎ آپ تابعین میں سے ہیں،مکہ معظمہ کے مشہور عالم فقیہ اور قاری ہیں،حضرت عبداﷲ ابن عباس سے تیس بار قرآن کریم معہ تفسیر پڑھا، ۱۰۴ھ؁ میں وصال ہوا۔

۲؎ اس آیت کا مضمون یہ ہے کہ نوح علیہ السلام کی اولاد میں بہت پیغمبر ہوئے جن میں حضرت داؤدو سلیمان علیہما السلام بھی ہیں۔آپ ان تمام حضرات کے کمالات،اخلاق اختیا ر فرمائیں کیونکہ یہ رب تعالٰی کے دیئے ہوئے کمالات تھے۔یہ مطلب نہیں کہ ان کے سارے اعمال بھی کریں کیونکہ اسلام ان دینوں کا ناسخ ہے،نیز حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے متبع نہیں آپ تو ان کے پیشوا او ر مقتدا ہیں ہاں ان کے کمالات کے جامع ہیں جیسے رب نے فرمایا:”قُلْ بَلْ مِلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیۡفًا”فرماؤ ہم ملت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہیں،یہاں پیروی سے مراد موافقت ہے نہ کہ اطاعت و فرماں برداری۱۲

۳؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم گزشتہ انبیاء کرام کے کمالات کے جامع ہیں اور داؤد علیہ السلام نے قبول توبہ پر سجدۂ شکر کیا تھا یہ سجدہ ان کا کمال تھا،سورۂ ص میں یہ قصہ مذکور ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں سجدہ کیا ہم کو بھی سجدہ کرنا چاہیئے۔امام احمد نے ابوبکر ابن عبداﷲ مزنی سے روایت کی کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ سورۂ ص لکھ رہا ہوں جب سجدہ کی آیت پر پہنچا تو دوات و قلم وغیرہ سجدہ میں گر گئے میں نے یہ قصہ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا،میں نے اس کے بعد دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہاں ہمیشہ سجدہ کرتے تھے۔ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ ص کا سجدہ دوسرے سجدوں کی طرح واجب ہے۱۲