حدیث نمبر 249

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی آیت پڑھتے تو ہم آپ کے پاس ہوتے تو آپ اور ہم آپ کے ساتھ سجدہ کرتے بھیڑ لگ جاتی حتی کہ ہم میں کوئی اپنی پیشانی کے لیے جگہ نہ پاتا کہ جس پر سجدہ کرے ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہاں سجدہ پڑھنے سے مراد سجدے کی آیت پڑھنا ہے یا سجدے کے لفظ کے ساتھ آگے پیچھے کے لفظ بھی پڑھنا ورنہ فقط سجدے کا لفظ پڑھ لینے سے سجدہ واجب نہیں ہوتا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سجدہ آیتِ سجدہ پڑھنے سے بھی واجب ہوتا ہے اور سننے سے بھی اور یہ کہ سجدہ بڑا اہم ہے کہ صحابہ کرام بھیڑ لگا کر یہ سجدہ کیا کرتے تھے اس سے مذہب حنفی کو قوت پہنچتی ہے۔