حدیث نمبر 257

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال آیت سجدہ پڑھی سب لوگوں نے سجدہ کیا ۱؎ ان میں سوار اور زمین پرسجدہ کرنے والے حتی کہ سوار اپنے ہاتھ پر سجدہ کرتا تھا ۲؎

شرح

۱؎ یہ واقعہ سورۂ وَالنَّجْم پڑھنے کے علاوہ ہے کیونکہ آج مکہ معظمہ میں کوئی مشرک نہ تھا اور وہاں مشرکین مکہ نے بھی سجدہ کیا تھا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سجدۂ تلاوت سوار اپنے ہاتھ پر کرسکتا ہے اترنا ضروری نہیں یہی امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔

۲؎ یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن میں گیارہ سجدے ہیں کیونکہ چودہ سجدوں میں سے جب مفصل کے تین سجدے نکل گئے تو گیارہ باقی بچے،مگر یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کی اسناد میں ابوقدامہ بصری ہیں جو ضعیف ہیں(نووی)نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث قوی ہے جس میں ہے کہ ہم نے حضور انور صلے اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ اِنْشَقَّتْ اور اِقْرَأ میں سجدہ کیا۔حضرت ابوہریرہ بعد ہجرت یعنی ۷ھ؁ میں ایمان لائے،ابھی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما کی حدیث گزری کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال سورۂ وَالنَّجْم پڑھی اور سب نے سجدہ کیا،نیز یہ حدیث نافی ہے اور وہ حدیث مثبت جب ثبوت ونفی میں تعارض ہو تو ثبوت کو ترجیح ہوتی ہے۔بہرحال یہ حدیث قابل عمل نہیں مفصل میں تین سجدے ہیں “وَالنَّجْمِ،اِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ،اِقْرَأ “۔