اعتکاف،جمعۃ الوداع اور عشرہِ آخرہ کی فضیلت

مولانا محمد قمر انجم قادری فیضی
یوں تو سارے ہی دن اللہ تعالیٰ کے ہیں وقت کی الٹ پھیر کا نظام اسکے اشاروں سےچلتاہےمگر جو خصوصیت اہمیت افادیت ہفتہ کے سات دنوں میں جمعۃ المبارکہ کو حاصل ہے وہ کسی اور دن میں نہیں پائی جاتی،حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات عالیہ میں اسکی فضیلت کے بےشمار پہلو مذکورہیں جن سے معلوم ہوتاہےکہ دوسرے دنوں کے مقابلے میں اس دن کو ویسی ہی برتری حاصل ہے جسے سال کے بارہ مہینوں میں رمضان المبارک کو، یا جیسے صحف سماوی میں قرآن عظیم کو، یا جیسے انبیاء ورسل کے درمیان حضورنبئی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو،یہی وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان اول حضرت سیدنا آدم علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا فرمایا، یہی وہ دن ہےجس دن انہیں جنت میں داخل کیاگیا، اور یہی وہ دن ہے جس میں انہیں جنت سے نکل کر زمین پر بسنےکا حکم ہوا،
یہی وہ دن ہے جس میں قیامت قائم ہوگی، یہی وہ دن یے جس میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جب بندہ اس میں حرام چیزکےسواء اپنے پروردگارسے جوکچھ طلب کرے، وہ اسے عطا فرما دیتاہے، 
حضورنبئی کریم علیہ الصلوٰۃ والتلسیم کا ارشادگرامی ہے کہ جمعہ کےدن مجھ پر کثرت سے درود بھیجاکرو، کیونکہ تم میں سے جو بھی اس دن مجھ پر درور بھیجتاہے وہ میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے یہ بھی آپ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادگرامی ہے کہ جس کا جمعہ ٹھیک سے گزر گیا اسکےحق میں ہفتہ کےباقی دن بھی خیریت سے گزر گئے، دوسرے لفظوں میں جمعہ اہل ایمان کےلئے ہفتہ وار عید ہے جس میں وہ غسل کرتے، خوشبو لگاتے اچھے کپڑے پہنتے، اور اپنے رب کے آگے سربسجود ہوتے ہیں، 
قرآن مجید اور حدیث پاک کی تصریحات جمعہ کے ان تمام دنوں کے لئےعام ہیں جو سال بھر کے دوران آتے ہیں مگر جب رمضان المبارک کا ماہ عظیم اپنی تمام تر برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ سایہ فگن ہوتا ہے تو اسمیں آنےوالے جمعہ مبارک ایام اس سے بھی زیادہ بابرکت اور سعادت وعظمت کا منبع اور مرکز بن جاتے ہیں۔حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ رمضان المبارک کی فضیلت واہمیت اور عظمت پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا،اے لوگو تم پر ایک ماہ عظیم سایہ فگن ہواہے یہ وہ عظیم المرتبت مہینہ ہے جس میں جو کوئی نفل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ ایسا ہے جیسے رمضان کے سواکسی مہینے کا ستر فرض ادا کئے جائیں، 
اس ارشادعالیہ سے واضح ہوا کہ یوں تو جمعہ سال کے دوسروے حصوں میں بھی سر چشمہ فیض اور گنجینہ رحمت وسعادت ہے۔مگر رمضان المبارک میں نماز جمعہ ادا کرنا کسی دوسرے مہینے کےستر70 جُمعوں کےبرابرہے، دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ رمضان المبارک میں نماز جمعہ ادا کرنا ایسا ہے جیسے ہم دوسرے مہینوں میں ستر70 مرتبہ نماز جمعہ ادا کرلیں، پھر رمضان المبارک کے چارپانچ جمعوں میں بھی جو فضیلت برکت اہمیت افادیت اور عظمت اس جمعہ کو حاصل ہے جو اس ماہِ مقدس کے عشرہِ آخر یعنی آخری جمعہ اور جسے جمعۃ الوداع کہتے ہیں، وہ خود رمضان المبارک میں آنےوالےجمعہ کے دوسرے دنوں کو بھی حاصل نہیں، 
جمعۃ الوداع اہل ایمان کے لئے غم اور خوشی آہ وبکاں، فراق ووصال کا عجب سنگم ہے، ایک طرف یہ روزہ داروں کےلئے عید کا پیامبر ہے اور انہیں یہ مژدہ جانفزا سناتاہے کہ رزوہ کے ذریعے انکے ایمان اور استقامت کا جو امتحان لیا جارہاتھا وہ قریب الاختتام ہے اور افطار 
کبیرکی جیسی عیدکی پربہار ساعتوں کی آمدآمدہونےوالی ہیں، دوسری طرف اسکے آنے سے یہ غم واندوہ نیز غم انگیز خبر ملتی ہے کہ عرش الہی سے آنےوالا وہ مہمانِ  عزیز جو اپنے دامن میں قرآن حکیم کا نسخہءِ کیمیا لے کر دنیا والوں کو رحمت اور مغفرت کا پیغام سنانےآیاتھا، اب رخصت ہونا چاہتاہے وہ دل جو ایمان کے لذت چشیدہ اور عبادت کے نازکشیدہ ہیں ان پر اس خبر سے قیامت گزر جاتی ہے وہ عید سعید کی آمدآمدسےمسرور بھی ہوتے ہیں اور اپنے رمضان المبارک کی جدائی کے خیال سےرنجیدہ اور ملول بھی، الغرض جمعۃ الوداع پورے سال کے دنوں میں ایک امتیازی اور جداگانہ شان رکھتاہے مسلمان اس روزبڑے ہی ذوق شوق سے نہادھوکر مسجدوں کی جانب خراماں خراماں خوشی کے اندازمیں جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اس دن عجیب خوشی اور فرحت وانبساط کی گھڑی میسرہوتی ہے، مسلمان اس روز اپنے آپ کو جتنا بھی خوش نصیب سمجھیں کم ہے، خدائے تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکرہےکہ
ہم نے ایک بار پھر اس مقدس ومطہر دن کے برگزیدہ لمحات کو پالیا، حضورنبئی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ برکت یعنی رزق کی کشادگی اور تیسرا عشرہ مغفرت کا یعنی جہنم سے خلاصی ،
یوں تو رمضان المبارک کا پورا مہینہ ہی رحمت وبرکت کاہے لیکن جس طرح ماہ رمضان المبارک کے عشرےیکے بعد دیگرے گزرتے جاتےہیں اسی طرح اسکی انواروتجلیات اور برکات میں مزید اضافہ ہوتارہتاہے
مثلاً عشرہِ اول کی بہ نسبت عشرہِ ثانی میں رزق کی کشادگی سے رحمت وبرکت میں اضافہ ہوجاتاہے اور عشرہِ آخر میں جہنم سےآزادی اور مغفرت جیسی لازوال نعمتوں اور برکتوں کا نزول شروع ہوجاتاہے
اسی لئے اس ماہ مبارک میں عشرہ آخر کو جو خصوصی اہمیت حاصل ہے چانچہ اس عشرہ میں عبادت کا خاص طور پر اہتمام کیاجاتاہے 
جیساکہ اوپر بیان کیاگیاکہ ماہ صیام کا الوداعی عشرہ توبہ واستغفار اللہ تعالیٰ سے اسکے فضل اور مغفرت چاہنے کا عشرہ ہے چنانچہ اس عشرہ میں اس بات کا 
خاص طور پر خیال رکھنا چاہیئے کہ ہم اپنی عبادت میں خشوع وخضوع پیدا کریں،  اور پھر بارگاہ ربی  میں اپنے گناہوں پر نادم وشرمندہ ہوں اور اس سے عفوودرگزرکے طلبگار ہوں، 
اگر چہ توبہ استغفار کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کھلا رہتاہے اور موت تک ہر دعاشرف قبولیت حاصل کرتی ہے بشرطیکہ وہ بڑی عاجزی اور انکساری سے مانگی جائے وہ سچی توبہ ہونی چاہئے، جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کی اس وقت تک توبہ قبول کرتاہے جب تک کہ نزع یعنی موت کا عالم نہ ہو، 
اور حدیث ذیل کی روسے توبہ واستغفارکا دروازہ
قیامت تک کھلا رہےگا، حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ جو شخص مغرب کی سمت سے آفتاب طلوع ہونےسےپہلے توبہ کرلےگاتو اللہ تعالیٰ اسکی توبہ کو قبول فرمالےگا، 
ان احادیث کے بعد رمضان المبارک کے عشرہِ اخیر کی نعمتوں پر غور فرمائیں، جن میں اعتکاف جیسی عظیم نعمت نمایاں ہے، 
لغت کی روسے کسی مقام پر ٹھہرنےکو اعتکاف کہتے ہیں اور شریعت کی اصطلاح میں عبادت کے ارادےسے
مسجدمیں ٹھہرنےکواعتکاف کے نام سے موسوم کرتے ہیں. یہ عبادت سنت موکدہ علی اللکفایہ ہے، یعنی اگر پوری بستی کی جانب سے کسی ایک فردنے اعتکاف کرلیاتو پوری بستی کی جانب سے یہ سنت اداہوجاتی ہے لیکن اگر اسکے برعکس پوری بستی میں کسی ایک فرد نے بھی اعتکاف نہ کیا تو اس صورت میں ترک سنت کا وبال سب کے ذمہ رہتاہے عشرہِ آخر میں اعتکاف کا آغاز 20 رمضان المبارک کو غروب آفتاب سے پہلے مسجدمیں پہنچ جانا چاہیئے، اور پھر اسی وقت تک معتکف رہنا چاہئے جب تک کہ شوال المکرم 
کا چاند نظر نہ آجائے،اعتکاف ایک ایسی عبادت کا نام ہے جسمیں انسان دنیا میں رہ کر بھی اہل دنیا سے کنارہ کش ہوجاتاہے یہاں تک کہ وہ اپنے اولاد، اقارب، بیوی بچے، دوست واحباب سے بھی کٹ کر اللہ تعالیٰ کے ذکرواذکارکےلئے اپنے آپ کو خاص کرلیتاہےاسی لئے معتکف پرمسجد میں رہنا لازمی قرار دیا گیا ہے کہ خانہءخدامیں رہ کر خدائے تعالیٰ کی طرف قلوب واذہان کا جو جھکاؤ نیز دنیاسے انقطاع ہوگایہ فاصلہ  کسی اور جگہ نہیں ہوسکتا، خدائے تعالی نے انسان کو بےشمارنعمتوں سے مالامال کیاہے تو وہ چاہتاہے کہ اسکے کچھ بندےچند روز کے لئے ہی سہی اسکے گھر میں اپنے آپ کو پابند کر کے ایک خدائےوحدہ لاشریک کی صرف اور صرف عبادت کے لئے خاص ہوجائیں، 
حضرت امام ابن عبدالبرمالکی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ "الاعتکاف :ھولزوم المسجدِ لطاعۃ اللہ سبحانہ وتعالیٰ علی صفۃ مخصومۃ بنیۃ مخصوصۃ، وادلہ مشروعیتہ الکتاب والسنۃ والاجماع ۔
ترجمہ۔اللہ تعالی سبحانہ کی عبادت کےلئےخاص صفت اورخاص نیت کےساتھ مسجدمیں پوری پابندی سےحاضر رہنے کانام اعتکاف ہے اور اسکی مشروعیت کےدلائل کتاب اللہ وسنت رسول اللہ اور اجماع ہیں ،
ام المومنین حضرت سیدنا عائشہ صدیقہ رضی المولی عنہا بیان کرتی ہیں کہ معتکف پر سنت رسول للہ سے  ثابت یہ ہے کہ نہ مریض کی عیادت کوجائے نہ جنازہ میں شریک ہو نہ عورت کو ہاتھ لگائے نہ اس سے مباشرت کرے،نہ وہ کسی حاجت کے لئے جائے مگرخاس حاجت کے لئے جاسکتاہے جو ضروری ہو، جیسے پیشاب پاخانہ  جب کہ مسجد میں انتظام نہ ہو اور اعتکاف بغیر روزہ کے نہیں اور اعتکاف جماعت والی مسجد کرے، لہذا اعتکاف مسجد میں ہی ہوسکتاہے اور مسجدکے باہر اجازت دینا اجماع کے خلاف ورزی ہے جس پر قرآن حکیم میں جہنم کی وعید آئی ہے، 
مزیداعتکاف کے متعلق حضرت سیدنا
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبئی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ مسجدوں کےلئے کچھ کھونٹے ہیں یعنی ایسے لوگ جومسجدوں میں بیٹھے رہنا پسندکرتے ہیں، ایسے لوگوں کے ساتھی فرشتے ہیں اگر وہ مسجد میں موجودنہ ہوں تو وہ بھی یعنی فرشتے انہیں تلاش کرتےہیں، اور اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عیادت بھی کرتے ہیں، اور انہیں وقت درپیش ہوتو اسکو بھی پورا کرتے ہیں، پور رمضان گزر چکا ہے!
ان تمام احادیث مبارکہ سےیہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ رمضان المبارک کے آخیر عشرہ میں جو فضیلت خصوصی عظمت اہمیت افادیت جمعۃ المبارک کو حاصل ہے وہ مقام ومرتبہ کسی اور دنوں کو حاصل نہیں ،اور 20 رمضان المبارک سے خصوصیت کے ساتھ اعتکاف کا اہتمام کرنا چاہئے، تاکہ ہم ترک سنت کےوبال سے بھی بچ جائیں، اللہ تعالیٰ ہم سبھی حضرات کو رمضان المبارک کا صحیح ڈھنگ سےاحترام کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین