أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰۤئِكَ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ يَبۡتَغُوۡنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الۡوَسِيۡلَةَ اَيُّهُمۡ اَقۡرَبُ وَيَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَهٗ وَيَخَافُوۡنَ عَذَابَهٗؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحۡذُوۡرًا ۞

ترجمہ:

جن لوگوں کی یہ (مشرکین) عبادت کرتے ہیں وہ خود ہی اپنے رب کی طرف قریب تر وسیلہ تلاش کرتے ہیں، اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، بیشک آپ کے رب کے عذاب سے ڈرنا ہی چاہیے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں کی یہ (مشرکین) عبادت کرتے ہیں وہ خود ہی اپنے رب کی طرف قریب تر وسیلہ تلاش کرتے ہیں، اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، بیشک آپ کے رب کے عذاب سے ڈرنا ہی چاہیے۔ (بنی اسرائیل : ٥٧ )

دوزخ کے عذاب سے انبیاء اور ملائکہ کے ڈرنے کی توجیہ :

علامہ ابن جوزی متوفی ٥٩٧ ھ نے لکھا ہے جن لوگوں کی وہ عبادت کرتے ہیں اس کے مصداق میں تین قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ جن ہیں جو بعد میں اسلام لے آئے تھے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ ملائکہ ہیں اور تیسرا قول یہ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر ہیں، یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے، اور اس آیت میں یدعون، یعبدون کے معنی میں ہے، یعنی وہ ان کو معبود سمجھ کر عبادت کرتے ہیں۔ (زاد المسیر ج ٥ ص ٥٧، ٥٨، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٤٠٧ ھ)

جن کی وہ عبادت کرتے تھے ان کے جن ہونے کے متعلق یہ دلیل ہے :

حضرت عبداللہ بن مسعو بیان کرتے ہیں کہ انسانوں میں سے بعض افراد جنات کے بعض افراد کی عبادت کرتے تھے، پھر وہ جن مسلمان ہوگئے، اور وہ انسان بدستور ان جنات کی عبادت کرتے رہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٤٧١٤، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٣٠٣٠، السنن الکبری للنسائی، رقم الحدیث : ١١٢٨٨)

اور جن لوگوں نے کہا وہ فرشتے تھے ان کی دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ عرب کے بعض قبائل سے کچھ لوگ ملائکہ کی ایک قسم کی عبادت کرتے تھے جن کو جنات کہا جاتا تھا اور وہ لوگ یہ کہتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٦٨٩٣، مطبوعہ دار الفکر بیروت، ١٤١٥ ھ)

اور جن لوگوں نے کہا وہ حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر کی عبادت کرتے تھے ان کی دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت ابن عباس نے کہا جن کی وہ لوگ عبادت کرتے تھے وہ حضرت عیسیٰ ، ان کی والدہ اور حضرت عزیر ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٦٨٩٥، حضرت ابن عباس کی دوسری روایت میں شمس اور قمر کا بھی زکر ہے، رقم الحدیث : ١٦٨٩٧)

جو جنات مسلمان ہوچکے تھے، اسی طرح فرشتے اور تمام انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کے محتاج ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، ہرچند کہ ملائکہ اور انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہیں وہ کسی قسم کو کوئی گناہ نہیں کرتے اور نہ ان کو دنیا اور آخرت میں کسی قسم کے عذاب کا خطرہ ہے، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی جلال ذات سے خوف زدہ رہتے ہیں اور ان میں سے جو اللہ تعالیٰ کے جتنے زیادہ قریب ہے وہ اتنا اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

ان اتقاکم واعلمکم باللہ انا۔ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھنے والا میں ہوں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بکثرت جنت کے حصول کی اور دوزخ کے عذاب سے پناہ کی دعائیں فرماتے تھے :

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دعا کثرت سے کرتے تھے : اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں (بھی) اچھائی عطا فرما اور آخرت میں (بھی) اچھائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : ٦٣٨٩، صحیح مسلم، رقم الحدیث : ٢٦٩٠، سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ١٥١٩، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٩٣٩، مسند احمد رقم الحدیث : ١٢٠٠٤، عالم الکتب بیروت)

حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاؤں میں سے یہ دعا تھی : اے اللہ ہم تجھ سے رحمت کے موجبات اور پکی مغفرت کو طلب کرتے ہیں اور ہر گناہ سے سلامتی اور نیکی کی سہلوت طلب کرتے ہیں اور جنت کی کامیابی اور تیری مدد سے دوزخ سے نجات طلب کرتے ہیں، یہ حدیث امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔ (حافظ ذہبی نے اس کو بلا جرح نقل کیا ہے) (المستدرک ج ١ ص ٥٢٥، قدیم، المستدرک رقم الحدیث : ١٩٦٨، الجامع الصغیر رقم الحدیث : ١٤٨٧)

ہم نے اس نوع کی بہت احادیث تبیان القرآن ج ٢ ص ٤١٨۔ ٤١٦ میں ذکر کی ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 17 الإسراء آیت نمبر 57